ٹھٹھہ زائرین کی کشتی ڈوبنے کا المناک سانحہ

ٹھٹھہ کے علاقے موھارا میں زائرین کی بڑی تعداد میلے میں شرکت کے لیے جارہی تھی


Editorial December 09, 2017
ٹھٹھہ کے علاقے موھارا میں زائرین کی بڑی تعداد میلے میں شرکت کے لیے جارہی تھی۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: جمعرات کو میرپورساکرو کے قریب زائرین کی کشتی الٹنے کا المناک حادثہ پیش آیا جس میں 18 افراد ڈوب کر جاں بحق جب کہ متعدد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ مختلف مقامات پر کشتی کے الٹ جانے سے ہونے والا سانحہ نیا نہیں لیکن ہر بار ایک نیا حادثہ پرانی غلطیوں اور کوتاہیوں کی طرف پھر سے اشارہ کرکے حکومتی بے اعتناعی اور انسانی غفلت کو سدھارنے کا عندیہ دیتا ہے۔ بلاشبہ موت برحق ہے لیکن ایسے حادثات کے پیچھے اکثر انسانی غلطیاں کارفرما دکھائی دیتی ہیں۔

جمعرات کو بھی ٹھٹھہ کے علاقے موھارا میں زائرین کی بڑی تعداد میلے میں شرکت کے لیے جارہی تھی جس کے لیے وہ کشتی میں سوار ہوئے تاہم عدم توازن اور تیز ہواؤں کے باعث کشتی الٹ گئی، جس سے زائرین کی بڑی تعداد پانی میں ڈوب گئی، کشتی میں خواتین اور بچے بھی سوار تھے۔ زائرین جس کشتی میں سوار ہوئے اس میں دو سو افراد کی گنجائش ہے لیکن کنارے پر تیز ہوا اور مسافروں کی جلد بازی کے باعث کشتی الٹ گئی۔

اس سے پیشتر بھی ملک کی مختلف جھیلوں اور دریاؤں میں کشتی ڈوبنے کے واقعات پیش آچکے ہیں، ہر بار یہ نوٹس کیا گیا کہ یا تو کشتیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوارکرنے یا پھر جلد بازی اور دھکم پیل کی وجہ سے یہ حادثات وقوع پذیر ہوئے۔ واقعات کا یہ امر تو ایک جانب لیکن ان حادثات کی ہلاکت خیزی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں تفریحی اور پبلک مقامات پر حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اکیسویں صدی میں بھی عوام جدید سہولیات سے محروم ہیں، ریسکیو کی سہولت ناپید ہے، یا اگر کہیں یہ سہولیات موجود بھی ہیں تو پرانے بوسیدہ طریقہ کار اختیار کیے جاتے ہیں، حادثات کی صورت میں جدید ٹیکنالوجی سے محرومی اور سہولیات کی کمی ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھا دیتی ہے، دوسری جانب عوام بھی خودحفاظتی کے طریقوں سے نابلد ہیں اور سمندر و دریاؤں پر سفر کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے۔ حکومتی سطح پر ایسا کوئی فورم بھی نظر نہیں آتا جو لوگوں کی آگاہی کے لیے فعال ہو۔

ڈوبنے کے ان حادثات کی مستقبل میں روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر تمام تفریحی اور پبلک مقامات پر سہولیات فراہم کی جائیں، ریسکیو کی جدید سہولیات کے علاوہ عوام میں خودحفاظتی کی آگاہی مہم اور پانی پر سفر کے لیے لائف جیکٹس کا استعمال لازمی قرار دیا جائے۔