مردم شماری پر تحفظات دور ہونے چاہئیں

حلقہ بندیوں اور دیگر تحفظات عوام کو بھی ابہام میں مبتلا کررہے ہیں


Editorial December 10, 2017
حلقہ بندیوں اور دیگر تحفظات عوام کو بھی ابہام میں مبتلا کررہے ہیں ۔ فوٹو: فائل

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعہ کے روز حیدرآباد کے جلسہ میں ایک بار پھر مردم شماری کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اگر کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ اور سکھر کی مردم شماری صحیح کردی جائے تو عام انتخابات کے بعد سندھ میں وزیراعظم ایم کیو ایم کا ہوگا۔ اس خیال سے قطع نظر حالیہ مردم شماری کے نتائج پر کئی اطراف سے اعتراضات کیے گئے اور ایم کیو ایم پاکستان پہلے ہی روز سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتی آرہی ہے۔

ملک کے آئندہ انتخابات نہایت قریب ہیں، اس سے قبل مردم شماری نتائج، حلقہ بندیوں اور دیگر تحفظات عوام کو بھی ابہام میں مبتلا کررہے ہیں، متعلقہ اداروں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے کہ آئندہ انتخابات سے قبل ہی تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو مطمئن کیا جائے تاکہ الیکشن کا پرامن طریقہ سے انقعاد ہوسکے۔ حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد کے اکبری گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کئی امید افزا اور مثبت باتوں کا اظہار کیا جو اس امر کا شاہد ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مدنظر ملکی سلامتی اور قومی مفاد ہمیشہ اولین ترجیحات میں شامل رہنا چاہیے۔

فاروق ستار نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کا موقف بیان کرتے ہوئے باور کرایا کہ ''ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے''، ایم کیو ایم پر بارہا نیا صوبہ بنانے اور سندھ کی تقسیم کے حوالے سے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں لیکن یہ الزامات سیاسی کردار کشی پر مبنی ثابت ہوتے رہے، سال گزشتہ 22 اگست کے المیہ کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کو جس بحران کا سامنا تھا حیدرآباد میں فقیدالمثال جلسہ کے انعقاد کے بعد اس بحران کے بادل چھٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ پاکستان کی ترقی و سلامتی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر متفق ہوتے ہوئے وطن کی سربلندی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ سیاست ذاتی مفادات سے بالاتر ہونی چاہیے۔ فاروق ستار کا سندھی نوجوانوں کو ساتھ ملا کر سندھ کو ملک کا سب سے تعلیم یافتہ صوبہ بنانے کا عزم لائق تحسین ہے۔ ملک کو سب سے زیادہ نقصان باہمی اختلافات اور لسانی و صوبائی عصبیت نے ہی پہنچایا ہے، اگر تمام سیاسی جماعتیں اس بات کا ادراک کرلیں تو ملک کی سیاسی فضا خوشگوار ہوسکتی ہے۔

وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تحمل، رواداری، اخلاقیات، دور اندیشی اور بھائی چارہ کا کلچر عام کیا جائے۔ ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے لینے کی ضرورت ہے، صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، زرعی اصلاحات کے ساتھ بلدیاتی نظام کی فعالیت ناگزیر ہے، تاکہ عوامی مسائل کا خاتمہ ہوسکے۔