مالیاتی جعل سازیوں سے بچنے کی ضرورت

ملکی معیشت جس تنی ہوئی رسی پر چل رہی ہے


Editorial December 10, 2017
ملکی معیشت جس تنی ہوئی رسی پر چل رہی ہے ۔ فوٹو: فائل

ملکی معیشت جس تنی ہوئی رسی پر چل رہی ہے ، آئی ایم ایف سے مذاکرات سر پر ہیں، ادھر عالمی سطح پر سائبر کرائمز میں بڑھتے ہوئے رجحان کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں لگنے والی بلیک فرائیڈے اور سائبر منڈے آن لائن سیل بینک صارفین کے کارڈز کا ڈیٹا چرانے اور آن لائن فراڈ کے سب سے بڑے مواقع ہیں۔ آن لائن ادائیگیوں اور خریدوفروخت کے اعدادوشمار اور رجحانات پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے Nilson کی رپورٹ کے مطابق آن لائن ہیکرز نے 2015 میں کھاتے داروں اور بینکوں کو 21.64 ارب ڈالر کا ٹیکہ لگایا۔

2017 میں یہ نقصانات 28 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جب کہ 2020 تک آن لائن فراڈ کی عالمی مالیت 32 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 میں عالمی سطح پر ڈیبٹ، کریڈٹ، پیشگی ادائیگی والے کارڈز سے کیے گئے مجموعی لین دین کی مالیت 31 ہزار ارب ڈالر سے زائد رہی جس میں آن لائن فراڈ کا تناسب 7 فیصد رہا۔ الیکٹرانک پے منٹس کی خدمات فراہم کرنیوالے عالمی ادارے ACI کی تحقیق کے مطابق دنیا میں 30 فیصد صارفین کو گزشتہ 5 سال کے دوران کسی نہ کسی طرح آن لائن دھوکا دہی کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا بھر میں آن لائن فراڈ کے واقعات سب سے زیادہ امریکا ، میکسکو، برازیل، آسٹریلیا اور بھارت میں ریکارڈ کیے گئے۔

یوں بظاہر غیر یقینی اورعدم استحکام سے دوچار ملکی معاشی منظرنامہ میں اگر جعل سازیوں میں ملوث سرگرم گروہوں کی جانب سے غیر معمولی فراڈ، ہیکنگ اور مالیاتی سسٹم میں مجرمانہ رسائی حاصل کرنے کی تشویش ناک اطلاعات میڈیا کی زینت بنیں تو ارباب اختیار کو لازماً اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ گزشتہ دنوں ایسی خبریں یکے بعد دیگرے منظر عام پر آئیں جن میں بتایا گیا کہ رقوم کی وصولی کے لیے استعمال ہونے والی پوائنٹ آف سیلز مشینیں اے ٹی ایم سے بڑا خطرہ بن گئی ہیں، جب کہ ملک بھر میں اے ٹی ایم مشینوں کی تعداد 12 ہزار جب کہ POS مشینوں کی تعداد 53 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

آئی ٹی ماہرین کے مطابق پوائنٹ آف سیلز مشینوں کے ذریعے کارڈز کے ذریعے ادائیگی کے وقت صارفین کی خفیہ معلومات باآسانی چرائی جاسکتی ہیں۔ ملک میں چونکہ الیکٹرانک ادائیگیوں کا رجحان بڑھنے کے ساتھ پلاسٹک منی (کارڈز) کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ اس لیے زیادہ تر صارفین پیٹرول پمپس، ریسٹورنٹس، شاپنگ سینٹرز میں پوائنٹ آف سیلز مشینوں کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ادائیگی کے وقت پوائنٹ آف سیلز مشینوں سے خفیہ معلومات چرائے جانے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

ایک ماہر بینکار کے مطابق اے ٹی ایم کے مقابلے میں پوائنٹ آف سیلز مشینوں کے ذریعے اکاؤنٹ کی خفیہ معلومات کارڈز کے کوڈز چرانا زیادہ آسان ہے، اس مقصد کے لیے ہیکرز جعلی ڈیوائس ساتھ رکھتے ہیں۔ زیادہ تر صارفین مشینوں سے کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے وقت کارڈ کیشیئر کو دے کر بے فکر ہوجاتے ہیں لیکن اسی وقت چند ہی سیکنڈز میں کارڈ کا تمام ڈیٹا اور کوڈز جعلی ڈیوائس پر پھیر کر چرائے جاسکتے ہیں، جو بعد میں اکاؤنٹ سے رقوم نکلوانے کے کام آتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں پوائنٹ آف سیلز مشینوں سے ماہانہ 17 ارب روپے کی ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اے ٹی ایم سے ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے کارڈ استعمال کرنے والوں کا ڈیٹا چرانے کے عمل کو اسکمنگ کہا جاتا ہے۔ کارڈ کا ڈیٹا چرانے والے گروہ کے کارندے اے ٹی ایم میں داخل ہوکر کارڈ داخل کرنے والی جگہ پر اصل سے ملتی جلتی ڈیوائس نصب کردیتے ہیں۔ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈز کے عقبی حصے پر سیاہ رنگ کی مقناطیسی پٹی لگی ہوتی ہے جس پر اکاؤنٹ اور کارڈ کی خفیہ معلومات درج ہوتی ہیں۔

کارڈ داخل کرنے کی اصل جگہ کے اوپر لگی جعلی ڈیوائس میں میموری کارڈ لگے ہوتے ہیں جو کارڈ کے عقبی حصے پر لگی سیاہ مقناطیسی پٹی سے تمام کوائف کاپی کرلیتے ہیں۔ یوں ''دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا'' کی واردات حقیقت بن کر سامنے آچکی ہے۔ مالیاتی نظام کے نگہبانوں کو حد درجہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے ''بٹ کوائن'' یا کرپٹوکرنسی کے نام سے بھی ایک عالمی ڈیجیٹل مالیاتی وسیلہ زیر استعمال ہے، بعض اقتصادی رازدانوں نے اسے فراڈ کہا ہے جب کہ ہزاروں لوگوں نے اس مالیاتی سسٹم سے لاکھوں کروڑوں ڈالر کمائے ہیں۔

اس حقیقت سے بہرحال انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آئندہ چند برسوں میں دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں پاکستان کی شمولیت کی امید بہار بلاشبہ دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکنے والے کانٹے سے کم نہیں، تاہم ملکی معیشت کو بھی مقدمات میں ملوث وزیر خزانہ کے رحم وکرم پر چھوڑنا ملکی مفاد میں نہیں۔ حکومت الرٹ رہے تاکہ ملکی مالیاتی اور اقتصادی نظام میں نقب نہ لگے اور صارفین آن لائن خریداری، کریڈٹ کارڈز اور اے ٹی ایم کے استعمال اور رقوم کی ترسیل و وصولیابی کے طریقہ کار میں فراڈ اور مجرمانہ دخل اندازی کے ہر امکان سے محفوظ ومامون رہیں۔