فراریوں کا سرنڈربلوچستان میں مثبت تبدیلیاں

بلوچستان میں جنم لینے والی نام نہاد آزادی کی جنگ اسی دو حصوں میں بٹے ہوئے نظام کا شاخسانہ ہے


Editorial December 11, 2017
بلوچستان میں جنم لینے والی نام نہاد آزادی کی جنگ اسی دو حصوں میں بٹے ہوئے نظام کا شاخسانہ ہے۔ فوٹو: فائل

پرامن بلوچستان پالیسی کے تحت 3فراری کمانڈروں سمیت 77فراریوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے صوبائی اسمبلی میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں ہتھیار ڈالنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں' وہ آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہو جائیں، بیرون ممالک بیٹھے لوگ خود عیش وعشرت کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں مگر معصوم غریب نوجوانوں، بزرگوں کو استعمال کر کے تباہ کر دیا، ہم نے پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے 70سال کی جمہوری جدوجہد کے بعد صوبائی خود مختاری حاصل کی اور اسے صوبے کی ترقی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں فراریوں کا ہتھیار ڈالنا خوش آیند ہے' ایسا پہلی بار نہیں ہوا اس سے پیشتر بھی متعدد فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ اس امر کا مظہر ہے کہ فراریوں کو ان حقائق کا ادراک ہو گیا کہ چند لوگ انھیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں' ان کا مقصد بلوچستان کے غریب عوام کے مسائل حل کرنا نہیں بلکہ غیرملکی آقاؤں کے اشارے پر انتشار اور افراتفری کو جنم دینا ہے اور نا سمجھ بلوچ نوجوان ان بھٹکے ہوئے سیاستدانوں کی جانب سے شروع کی گئی نام نہاد آزادی کی جنگ میں ایندھن بن رہے ہیں۔

صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو جو منظرنامہ ابھرتا ہے وہ نہایت افسوسناک اور پریشان کن ہے' یہ استحصالی سیاستدان خود تو عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ' ان کے بچے بیرون ملک یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے اور ان کی اپنی رہائش گاہیں لندن اور سوئٹزرلینڈ میں ہیں جب کہ انھوں نے حقوق دلانے کی آڑ میں غریب عوام کے بچوں کے ہاتھ میں قلم دینے کے بجائے ہتھیار تھما دیے ہیں۔ بلوچستان کے حقوق کا نعرہ بلند کرنے والوں نے خود اس صوبے کے عوام کو دہائیوں سے غلام بنا رکھا ہے' نہ انھیں بنیادی تعلیم کی سہولت حاصل ہے نہ صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تک بلوچستان کے عوام غریب اور پسماندہ رہیں گے' بااثر طبقے انھیں مہرے کے طور پر استعمال کرتے رہیں گے۔اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلوچستان کی ترقی کے لیے میگاپراجیکٹس شروع کرے جس میں ملازمتوں کے لیے مقامی افراد کو ترجیح دی جائے۔ جب مقامی افراد کو بہتر روز گار' اعلیٰ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں ملیں گی تو وہ لازماً استحصالی طبقے کے ہاتھوں میں نہیں کھیلیں گے اور قومی دھارے میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں گے۔

دوسری جانب یہ حقیقت بھی افسوس ناک ہے کہ 70سال گزرنے کے باوجود ملک میں عوام کا ایک بڑا حصہ قبائلی نظام کے تحت غلاموں سے بدتر زندگی گزار رہا ہے' یہ علاقے آئین سے الگ نظام اپنائے ہوئے ہیں جہاں پر پاکستانی قوانین کے بجائے سرداروں'وڈیروں یا قبائلی مشیران کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس طرح ملک کو دو واضح حصوں اور نظاموں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں جنم لینے والی نام نہاد آزادی کی جنگ اسی دو حصوں میں بٹے ہوئے نظام کا شاخسانہ ہے۔

ان قبائلی علاقوں میں بااثر افراد دانستہ ترقیاتی کام نہیں ہونے دیتے' انھیں خدشہ ہے کہ اگر قبائلی عوام کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں عام ملنے لگیں اور وہاں روز گار کے مواقع پیدا ہو گئے تو ان عوام میں جنم لینے والا شعور انھیں اشرافیہ کے مقابل لاکھڑا کرے گا اور قبائلی نظام کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے ایک بیان میں کہا کہ محب وطن بلوچ ہتھیار پھینک کر رضا کارانہ طور پر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں، بلوچوں نے غیر ملکی اسپانسرڈ دہشت گردی مسترد کر دی ہے، خوشحال بلوچستان کے لیے سول ملٹری کوششیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں، بھٹکے ہوئے بلوچوں کا واپس آنا بڑی کامیابی ہے۔

بھٹکے ہوئے فراری واپس آنا یقیناً خوش آیند ہے، ممکن ہے ان کی ایک بڑی تعداد واپس آنے کے لیے مضطرب اور بے قرار ہو' لہٰذا انھیں واپس قومی دھارے میں لانے کے لیے حکومت کو عام معافی کا اعلان کرنا چاہیے، اس کے علاوہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی منصوبے تشکیل دیے جائیں تاکہ بلوچ عوام سمیت فراریوں کو یہ احساس ہو کہ کوئی نظام ان کا استحصال نہیں کر رہا بلکہ ان کی بہتری اور ترقی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ جب تک خوشحالی اور ترقی کا یہ احساس جنم نہیں لیتا استحصالی طبقات نوجوانوں کو بآسانی گمراہ کرتے رہیں گے۔