تجارت میں 15 ارب ڈالر کا خسارہ تشویشناک

عالمی سطح پر روپے کی قدر میں کمی بھی معیشت کے استحکام میں بڑی رکاوٹ ہے


Editorial December 13, 2017
عالمی سطح پر روپے کی قدر میں کمی بھی معیشت کے استحکام میں بڑی رکاوٹ ہے۔ فوٹو: فائل

ریاست کی ترقی و استحکام میں مثبت و موثر معاشی پالیسیاں اور مستحکم معیشت کی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ موجودہ دور حکومت میں بارہا اعلان کیا گیا کہ معاشی اشاریے مثبت سمت گامزن ہیں اور ملک ترقی کررہا ہے لیکن موجودہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ یعنی جولائی سے نومبر تک پاکستان کو تجارت کے شعبے میں 15 ارب ڈالر کا خسارہ تشویشناک ہے، جس کے تناظر میں معاشی ترقی کے دعوے دھندلاتے محسوس ہورہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حالیہ خسارے کا باعث گزشتہ پانچ ماہ میں بے لگام درآمدات کا زور ہے جس کی وجہ سے برآمدات میں بحالی کے اثرات بھی دھندلا گئے ہیں ورنہ امید کی جارہی تھی کہ برآمدات کی بحالی کے بعد ملکی معیشت مزید مضبوط اور مستحکم ہوگی۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جولائی سے نومبر تک کی تجارت میں 15 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 11 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے تجارتی خسارے سے 29 فیصد زیادہ ہے، جب کہ نومبر میں ایکسپورٹ 2 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔ صائب ہوتا کہ درآمدات اور برآمدات میں توازن رکھا جاتا، دوسرے ممالک سے درآمدات کا چلن ملکی مارکیٹ اور معیشت کو ویسے بھی کمزور کرتا ہے جب کہ پالیسی سازوں کو زیادہ برآمدات پر فوکس کرنا چاہیے۔

پاکستان بیورو شماریات سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بلاشبہ گزشتہ ماہ ایکسپورٹ 12.35 فیصد کے اضافے سے 1 ارب 97 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگئی، مگر امپورٹ اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری یعنی 16.48 فیصد کے اضافے سے 4 ارب 89 کروڑ 80 لاکھ ڈالر پر جا پہنچی، جس کے نتیجے میں صرف نومبر کا تجارتی خسارہ 19.44 فیصد کے اضافے سے 2 ارب 92 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا۔

عالمی سطح پر روپے کی قدر میں کمی بھی معیشت کے استحکام میں بڑی رکاوٹ ہے، منی مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی انٹربینک و اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا، گزشتہ روز روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر 108 روپے 80 پیسے کی سطح پر پہنچ گیا، جب کہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے عوام کی سمجھ سے بالاتر ہیں، لیکن معیشت میں استحکام کے ثمرات جب ظاہر ہوتے ہیں عوام میں بھی خوشحالی آتی ہے۔ پاکستانی معیشت کے پالیسی سازوں کو ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے صائب پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں۔