چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم
ہماری دنیا ہزاروں سال کی لاتعلقی سے نکل کر اب ایک دوسرے کے قریب آرہی ہے.
ISLAMABAD:
ہمیں ہماری شدت پسندی نے عالمی برادری میں اس طرح تنہا کردیا ہے کہ ہم اچھوت بنتے جارہے ہیں ان ہی شدت پسندوں میں ایک شدت پسندی یہ ہے کہ ہم موسمی تہواروں اور انسانی برادری میں محبت کے جذبات کو فروغ دینے والے عالمی تہواروں کی بھی اس شدت سے مخالفت شروع کردیتے ہیں کہ یہ مخالفت زبان سے نکل کر ڈنڈوں اورہتھیاروں تک پہنچ جاتی ہے اور اپنے ہی بھائیوں پر اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے ہم جہاد کر رہے ہیں اس نفسیات کے وجہ ہمارا وہ احساس برتری ہے۔
جو شدت پسندی کی وجہ سے احساس کمتری میں بدل جاتا ہے اور مختلف شکلوں میں اپنا اظہارکرتا ہے، موسموں کی تبدیلی قانون قدرت کا ایک حصہ ہے جس پر کسی کا اختیار نہیں، موسموں میں ایک موسم بہار کا ہوتا ہے اس موسم میں انسان ہی نہیں چرند پرند حتیٰ کہ کھیتوں، پودوں میں بھی ایک خوشگوار تبدیلی،ایک دل بہار فضا پیدا ہوجاتی ہے جو جولانی طبع کا باعث بنتی ہے۔ کھیتوں میں پھولنے والی سرسوں پودوں میں کھلنے والے پھول اس موسم کی ایسی خوبصورتیاں ہوتی ہیں جن کا استقبال دنیا کی ہر قوم والہانہ انداز میں کرتی ہے۔ بہار کا موسم موسموں کی جوانی کا موسم ہوتا ہے اور جوانی دیوانی ہوتی ہے اور جانداروں کو بھی دیوانہ بنادیتی ہے۔
موسم بہار کی تقریبات مختلف ناموں سے ساری دنیا میں منائی جاتی ہیں جسے ہم ٹی وی اسکرینوں پر آتش بازیوں کی رنگا رنگی، سڑکوں، سمندر کے کناروں، ہوٹلوں، گلیوں، بازاروں میں نوجوانوں کے مسکراتے ہجوموں کی شکل میں دیکھتے ہیں برصغیر میں اس موسمی تہوار کا نام بسنت رکھا گیا ہے، پاکستان میں یوں تو بسنت کا تہوار ہر علاقے ہی میں کسی نہ کسی شکل میں منایا جاتا ہے، لیکن پنجاب میں خاص طور پر لاہور میں بسنت اتنے اہتمام سے، اتنے بڑے پیمانے پر منائی جاتی ہے کہ نہ صرف دوسرے صوبوں کے ہزاروں لوگ لاہور میں جمع ہوجاتے ہیں بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں سے بھی بسنت کے متوالے اتنی بڑی تعداد میں لاہور آتے ہیں کہ ہوٹلوں میں جگہ ختم ہوجاتی ہے اور رہائشی علاقوں میں لوگ کرایوں پر عارضی رہائشیں فراہم کرتے ہیں۔
بسنت کی مخالفت دو حوالوں سے کی جاتی ہے ایک حوالہ یہ ہوتا ہے کہ بسنت ہندوؤں کا تہوار ہے دوسرا حوالہ پتنگ بازی سے ہونے والا جانی نقصان ہوتا ہے۔ بلاشبہ ہندوستان میں بسنت ایک قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن یہ تہوار ہرگز ہندو تہوار نہیں ہے، یہ موسمی تہوار دنیا کے ہر ملک میں منایا جاتا ہے جسے ٹی وی اسکرین پر ہم ہر سال دیکھتے ہیں لہٰذا اس تہوار کو ہندوؤں کا تہوار کہہ کر اس کی مخالفت کا سرے سے کوئی جواز نہیں رہتا، ہاں اس تہوار میں پتنگ بازی سے جو نقصان ہوتا ہے اسے ڈور کو بے ضرر بناکر روکا جاسکتا ہے۔ لیکن بسنت پر ہماری اس حکومت نے پابندی لگادی ہے جسے روشن خیالی کا دعویٰ ہے، جس کا تعلق صنعتی اشرافیہ سے ہے، جو مزدوروں کو تو آگ کی بھٹیوں میں جھونک دیتی ہے لیکن بسنت جیسے عالمی تہواروں پر اس لیے پابندی لگا دیتی ہے کہ یہ مذہبی انتہاپسندوں کا مطالبہ ہے اور مذہبی انتہاپسند اس کے جمہوری اتحادی ہیں۔
دوسرا عالمی تہوار سال نو کی تقریبات ہیں ہر سال یکم جنوری کی شب سال نو کے استقبال کے ہنگاموں سے شروع ہوتی ہے اس تقریب کا تعلق بھی کسی خاص مذہب و ملت سے نہیں بلکہ یہ ایک عالمی تہوار ہے جو ساری دنیا میں یکساں جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک کے شدت پسند حلقے اس عالمی تہوارکو بھی ہنود و نصاریٰ کا تہوار کہہ کر اسے بزور طاقت روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور بدقسمتی سے ہماری صوبائی حکومت بھی سال نو کی تقریبات کو روکنے کے لیے ساحل سمندر کے راستوں پر کنٹینرز کھڑے کردیتی ہے اور پہرے لگا دیتی ہے۔
اس کی ایک وجہ نوجوانوں کی وہ بے اعتدالی ہے جسے اعتدال پسند لوگ بھی اچھا نہیں سمجھتے اگر نوجوان طبقہ سال نو کا جشن اسی انداز میں منائے جس میں اعتدال برقرار رہے تو کسی کو اس پر پابندی لگانے کا موقع میسر نہیں آئے گا، خاص طور پر ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جس میں انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں بند ہوجائے تو اس جشن کو روکنے کے بہانے باقی نہیں رہتے۔ چین میں سال نو کی تقریبات قمری سال کے حوالے سے منائی جاتی ہیں، فروری کے مہینے میں ہم نے چین کے شہروں میں چینی عوام کو بڑے پیمانے پر سال نو کا جشن مناتے دیکھا۔ قمری سال کا آغاز عموماً مذہبی روایات کے حوالے سے ہوتا ہے، چین میں اگر سال نو کی تقریبات ان کے قمری سال کے آغاز سے منائی جاتی ہیں تو دنیا کو اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟
ایسے عالمی تہوار جن کا تعلق پوری انسانی برادری کے درمیان محبت کے جذبات کا فروغ ہو اس کو بھی مذہب سے جوڑ کر اس کی مخالفت کرنا اور اسے اسلام کے خلاف قرار دے کر طاقت کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کرنا کس حوالے سے جائز کہلایا جاسکتا ہے؟ ویلنٹائن ڈے عالمی برادری میں محبت کے جذبات کو فروغ دینے کا ایک عالمی تہوار ہے جس میں مذہبیت کا کوئی دخل نہیں، لیکن ہم اس دن کو بھی دین دشمنوں کا دن اور ہمارے دین کے خلاف سازش قرار دے کر یہ دن منانے والوں پر ڈنڈے اٹھاتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے یہودونصاریٰ کا دن ہے اور اسے منانا کفر کی علامت ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں اب ماں کا دن، بھائی کا دن، باپ کا دن، زمین کا دن، آسمان کا دن نہ جانے کتنے دنوں کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے اور یہ سارے دن مذہبی آلودگیوں سے پاک ساری نسل انسانی کے مثبت جذبات کو فروغ دینے کے لیے منائے جاتے ہیں۔ کیا ان دنوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے یا ڈنڈے کے زور پر انھیں روکنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اس کا فیصلہ ہمیں تنگ نظری اور تعصبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی افادیت کی بنیاد پر کانا چاہیے ورنہ ہم عالمی برادری میں اچھوت کی مستقل حیثیت اختیار کرلیں گے اور دنیا ہمیں ایک پسماندہ قوم قرار دے کر آگے نکل جائے گی۔
ہماری دنیا ہزاروں سال کی لاتعلقی سے نکل کر اب ایک دوسرے کے قریب آرہی ہے اور اسی قربت میں جہاں الیکٹرانک میڈیا نے ایک اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے وہیں عالمی سطح پر منعقد ہونے والے تہوار بھی قوموں کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، بسنت ہو یا سال نو کا جشن، ویلنٹائن ڈے ہو یا ماں باپ کے عالمی دن، ان میں مذہبی شناخت کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا، یہ سارے دن عالمی یکجہتی کے تصور کو مستحکم کرنے اور انسانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے رشتے استوار کرنے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔
بجائے اس کے کہ ہم ان کی افادیت اور اہمیت کو تسلیم کریں اور عالمی برادری کا حصہ بنیں ہم ان کی مخالفت کرکے قومی سطح پر نفرتوں اور اختلافات کے کلچر کو مضبوط کر رہے ہیں تو بین الاقوامی سطح پر تنگ نظری اور مذہبی انتہاپسندی کے تمغے اپنی پیشانی پر سجاکر اپنے قومی تشخص کو داغدار اور قوم کو تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور خوش ہورہے ہیں کہ ہم بڑے دینی فرائض ادا کر رہے ہیں، کیا یہ دین اور ملک دشمنی نہیں ہے؟دنیا کی تاریخ میں جو قومیں وقت کے دھاروں کے خلاف تیرنے کی کوشش کرتی ہیں وہ تھک ہار کر ختم ہوجاتی ہیں اور جو قومیں وقت کے دھاروں کے ساتھ چلتی ہیں وہ ترقی کی سمت آگے بڑھتی ہیں اور انسانی برادری میں اپنی جگہ بھی بناتی ہیں اور اپنے آپ کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرنے کا اعزاز بھی حاصل کرلیتی ہیں۔
ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم دنیا کی ضرورتوں کو دین کی مکروہات کا نام دے کر خود اپنے عوام کے سامنے بے آبرو ہورہے ہیں۔ بسنت پر پابندی کے باوجود یہ بہار کا تہوار سارے ملک میں مقبول ہوتا جارہا ہے، شدت پسندوں کی پرتشدد مخالفت کے باوجود ہماری معاشرتی قدروں کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ سال نو کے جشن پر لگائی جانے والی بلا جواز پابندیوں کے باوجود ان پابندیوں کو توڑ کر سڑکوں پر آرہا ہے، ویلنٹائن ڈے کو جنسی بے راہ روی کا دن قرار دینے کے باوجود یہ دن سارے شہروں میں دھوم دھام سے مناکر تنگ نظریوں کا مذاق اڑارہا ہے۔
اگر ہم انسانی معاشروں کی تفریحی ضرورتوں کو دین کی خلاف ورزی کا نام دے کر ان پر پابندیاں لگاتے رہے اور طاقت کے ذریعے انھیں روکتے رہے تو عوام بغاوت پر اتر آئیں گے اور بلاوجہ مذہب کا تقدس مجروح ہوتا رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے عالمی تہواروں کی مخالفت کرنا چھوڑ دیں جن کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے عالمی تہواروں کا حصہ نہیں جو ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم عوام کو خوشیوں کے کچھ لمحات فراہم کرتے ہیں اور عالمی برادری کا حصہ بناتے ہیں۔