پاکستان کی سعودی عرب کو دفاعی معاہدے کی پیشکش

سعودی حکومت مسلح افواج سے تربیت کے لیے پاکستان کا تعاون چاہتا ہے، سعودی نائب وزیر دفاع


Editorial December 13, 2017
سعودی حکومت مسلح افواج سے تربیت کے لیے پاکستان کا تعاون چاہتا ہے، سعودی نائب وزیر دفاع۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے وزیردفاع نے منگل کو سعودی نائب وزیر دفاع محمد بن عبداﷲ سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تعاون کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات قابل رشک ہیں، دونوں ممالک نے ہر اہم معاملے میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا ہے۔ قدرتی آفات اور ناگزیر حالات میں اگر سعودی عرب نے پاکستان کی مالی مدد کی ہے تو پاکستان نے بھی ہر آڑے وقت میں سعودی عرب کا ساتھ دیا اور اپنی خدمات دینے میں پیش پیش رہا، دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات مثالی ہیں، لیکن اتنے اہم تعلقات کے باوجود دونوں ممالک کے مابین دفاعی میدان میں اسٹرٹیجک معاہدے موجود نہیں ہیں، جس کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔

پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا صائب ہے کہ ٹھوس ورثہ پر تعمیر پاکستان اور سعودی عرب بیسویں صدی کے لیے ایک جامع دفاعی تعلق کی طرف بڑھ رہے ہیں، دونوں ممالک میں اہم تعلقات کے باوجود دفاع کے میدان میں اسٹرٹیجک تعاون کے معاہدے نہیں ہیں اور دفاعی تعلقات کی مضبوطی کے لیے تعاون کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے ملاقات میں بھارت کی جانب سے سرحدوں پر خلاف وزری کا ذکر بھی کیا جس کے نتیجے میں بہت سے شہری جاں بحق ہوئے اور اس صورتحال کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی حکومت کو اپنا سفارتی کردار ادا کرنے کو کہا۔ سعودی عرب کی اہمیت اور اثر ورسوخ کے پیش نظر بین الاقوامی معاملات میں اس کا کردار اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کا خواہشمند ہے۔ سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی حکومت مسلح افواج سے تربیت کے لیے پاکستان کا تعاون چاہتا ہے، بالخصوص انسداد دہشت گردی کی غیر معمولی جنگ اور پہاڑوں پر لڑائی کے میدان میں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین صلاحیتیں اور تجربے رکھنے والی افواج میں کیا جاتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کیا ہے اور مشکل ترین میدان میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

سعودی نائب وزیر دفاع نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں بھی پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی کو سراہا۔ اسٹرٹیجک تعاون بڑھانے کے لیے دونوں ممالک میں یونیورسٹیوں کے معاہدوں کو تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے اگر ہوتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے مثبت نتائج سامنے لائیں گے اور تعلقات کی مضبوطی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔