موبائل بینکاری سے مالی شمولیت میں بڑی تبدیلی ممکن ہے

گورنراسٹیٹ بینک کا ’پاکستان میں موبائل بینکاری‘ پر چھٹی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب۔


Business Reporter March 15, 2013
گورنراسٹیٹ بینک کا ’پاکستان میں موبائل بینکاری‘ پر چھٹی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب۔ فوٹو: فائل

CAIRO: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے کہا ہے کہ برانچ لیس بینکاری نے ملک بھر میں اب تک شاندار ترقی کی ہے اور کسی کو شبہ نہیں رہا کہ موبائل فون کے ذریعے بینکاری، بینکاری، ایم کامرس اور مالی شمولیت میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔

جمعرات کو کراچی کے ایک ہوٹل میں 'پاکستان میں موبائل بینکاری' پر چھٹی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم بینکاری اور ایم کامرس کی ترقی سے آبادی کے بینکاری سے محروم طبقے تک مالی خدمات پہنچانے اور اس طرح اس طبقے کو با اختیار بنانے میں مدد ملے گی، اسٹیٹ بینک کے مرکزی پالیسی مقاصد کا ہدف بینکاری نظام کے تحفظ، صحت اور کارکردگی کو یقینی بنانا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے، چونکہ برانچ لیس بینکاری قومی ادائیگی کے شعبے کا لازمی جز بنتی جارہی ہے اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو داخلی خطرات کم کرنے کے لیے موزوں اقدامات کو یقینی بنانا چاہیے جن میں سسٹمز تک غلط افراد یا مجرموں جیسے ہیکرز، منی لانڈررز، دہشت گردی کے لیے مالی رقوم فراہم کرنے والوں کی رسائی شامل ہے۔

2

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک بینکاری کے ایسے غیر روایتی طریقوں میں موجود خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے اور سسٹم اور ادارے دونوں کی سطح پر حالات اور منسلکہ خطرات کی فعال انداز میں نگرانی کررہا ہے تاکہ اصلاح کے لیے بروقت موزوں اقدامات کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں کے دوران برانچ لیس بینکاری کی موجودہ شرح نمو میں مزید تیزی آئے گی، برانچ لیس بینکاری صارفین کو خدمات فراہم کرنے والے ایجنٹ نیٹ ورک میں ایجنٹوں کی تعداد 42000 تک پہنچ گئی ہے، اب تک 813 ارب روپے کی 194 ملین ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں اور 2 ملین سے زائد ایم والٹس کھولے گئے ہیں، تعداد میں نمایاں بہتری آئے گی۔