ڈیلرز نے درآمدی پرانی گاڑیاں 10 فیصد تک مہنگی کردیں سروے

دو ہفتوں میں مختلف گاڑیوں پر30 ہزار سے 1لاکھ40 ہزار روپے تک کا اضافہ کیا گیا۔


Business Reporter March 15, 2013
5 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کا اسٹاک بھی موجود، نئی قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہیں۔ فوٹو: فائل

درآمد شدہ پرانی گاڑیوں کے ڈیلروں نے روپے کی قدر میں کمی کا بہانہ بناتے ہوئے قیمتوں میں من مانا 10 فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے سروے کے مطابق پرانی گاڑیوں کے ڈیلروں نے اپنی مرضی سے 8 فیصد سے 10 فیصد تک قیمت میں اضافہ کیا ہے، کراچی سہراب گوٹھ میں نیلام بازار کی قیمت سمیت ڈیلروں نے مختلف گاڑیوں بشمول میرا(Mira)، سوزوکی، کائی(Suzuki Kei) کی قیمتوں میں 30 ہزار سے 40 ہزار روپے تک اضافہ کردیا ہے، اسی طرح وٹز، پاسو (Vitz/Passo)کی قیمتوں میں بھی 55 ہزار سے 65 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سیڈان، پریمیو، الیون (premio/allion) کی قیمتوں میں 1لاکھ25 ہزار روپے سے 1لاکھ40ہزار روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔

پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں یہ ڈیلر کوئی شناختی کارڈ یا ٹیکس نمبر بھی صارف سے حاصل نہیں کرتے اور کوئی بھی شخص بغیر کسی دستاویز کے یہ درآمدی گاڑیاں خرید سکتا ہے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرانی درآمد شدہ گاڑیاں پہلے ہی مقامی طور پر تیار شدہ نئی گاڑیوں سے زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہیں، صارفین نے بھی من مانی قیمتوں پر پرانی گاڑیوں کی فروخت پر سخت احتجاج کیا ہے، متعلقہ ادارے ان گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

3

سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پرانی درآمد شدہ گاڑیوں کے ڈیلروں کے پاس 5 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کا اسٹاک بھی موجود ہے اور وہ اس پرانے اسٹاک کو نئی قیمتوں پر فروخت کررہے ہیں جو صارفین کے ساتھ سراسر دھوکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرانی گاڑیوں کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی میکنزم نہیں ہے اور اس کی قیمت متعین نہیں ہوتی، ہر شوروم والا اپنی مرضی سے گاڑی فروخت کرتا ہے، اس کے علاوہ کوئی بعد از فروخت سروس یا وارنٹی کی پیشکش بھی نہیں کی جاتی، حکومت کی طرف سے کسی بھی پالیسی تبدیلی یا پرانی گاڑیوں کی میعاد میں اضافے سے براہ راست لاکھوں افراد متاثر ہوں گے، ڈیلروں کی جانب سے اپنی مرضی کے مطابق درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے سے ظاہر ہے کہ ان کا مقصد صارفین یا پاکستان سے محبت نہیں ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہے۔