افغانستان اور سینٹرل ایشیا کو پاکستانی کرنسی میں برآمد کی اجازت

زیروریٹنگ،ری بیٹ اورڈیوٹی ڈرابیک فیسلیٹی نہیں دی جائیگی،زرمبادلہ میں برآمد پرسہولتیں ملیں گی،ایکسپورٹ پالیسی آرڈر جاری


Numainda Express March 15, 2013
زیروریٹنگ، ری بیٹ اور ڈیوٹی ڈرا بیک فیسلیٹی نہیں دی جائیگی، زرمبادلہ میں برآمد پرسہولتیں ملیں گی، ایکسپورٹ پالیسی آرڈر جاری۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے پاکستانی کرنسی میں زمینی راستے سے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کو اشیا برآمد کرنے کی اجازت دیدی تاہم اس پر زیروریٹنگ، ایکسائز ڈیوٹی کا ری بیٹ اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی سہولت نہیں دی جائے گی جبکہ افغانستان کو این ہائیڈرائیڈ کی برآمد پر غیر معینہ مدت کیلیے پابندی عائد کردی ہے۔

اس ضمن میں وزارت تجارت کی طرف سے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایکسپورٹ اورینٹڈ یونٹس اور مینوفیکچرنگ بانڈزمیں تیار ہونے والی اشیا پاکستانی کرنسی میں زمینی راستے سے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کو بھجوائی جاسکیں گی۔

ایکسپورٹ پالیسی آرڈر کے مطابق پاکستان میں تیار ہونے والی اشیا ناقابل واپسی لیٹر آف کریڈٹ اور برآمدی آرڈرز پر غیرملکی زرمبادلہ و قابل مبادلہ کرنسی میں زمینی اور فضائی راستے سے افغانستان و وسط ایشیائی ممالک کو برآمد کی جاسکیں گی اور ان اشیا کی برآمد پر برآمد کنندگان کو قابل ٹیکس اشیا پر زیرو ریٹنگ سیلز ٹیکس کی سہولت حاصل ہوگی اس کے علاوہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ری بیٹ اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ڈیوٹی ڈرا بیک کی سہولت حاصل ہوگی تاہم مذکورہ آرڈر کے مطابق نجی طور پر افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کو پٹرولیم مصنوعات کی برآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں چھوٹ نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ان مصنوعات پر وصول کردہ پٹرولیم لیوی ریفنڈ کی جائے گی، البتہ اگر یہ پٹرولیم مصنوعات حکومتی سطح پر اوگرا کے پاس رجسٹرڈ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے بھجوائی جائیں گی تو اس صورت میں زیرو ریٹنگ اور ایگزمشن کی سہولت حاصل ہوگی۔

7

آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئل ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اضافی جے پی 8 فیول افغانستان کو برآمد کرنے کی اجازت ہوگی تاہم یہ برآمد غیر ملکی ذرمبادلہ میں ہوگی اور اس پر ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں سے چھوٹ بھی نہیں دی جائیگی، البتہ اگر افغانستان میں ایساف فورسز یا ڈیفنس لاجسٹک سپورٹ سینٹر (ڈی ایل ایس سی) کو سپلائیز بھجوائی جاتی ہیں تو انہیں ریفنڈ کی اجازت ہوگی تاہم اس کیلیے انہیں افغان اتھارٹیز کی طرف سے تصدیق کا سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہو گا جس میں یہ بتانا ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات افغانستان پہنچ چکی ہیں۔