او آئی سی سربراہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ

بیت المقدس کے مسئلے پر مسلم ممالک کا متحد ہونا خوش آیند ہے


Editorial December 15, 2017
بیت المقدس کے مسئلے پر مسلم ممالک کا متحد ہونا خوش آیند ہے۔فوٹو: فائل

استنبول میں ترکی کی صدارت میں ہونے والی ہنگامی او آئی سی سربراہ کانفرنس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ عالمی برادری مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے' امریکا اسرائیل فلسطین عمل میں اپنے کردار سے دستبردار ہو' مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اقدام انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے گا۔

پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے او آئی سی کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے 3تجاویز پیش کیں' انھوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل معاملے میں سنجیدگی نہ دکھائے تو اسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے رکھا جائے' بیت المقدس پر اسرائیلی تسلط کو ختم کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم اقتصادی معاملات کے ذریعے دباؤ ڈال سکتی ہے' امریکا کے حالیہ فیصلے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جا سکتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے جب کہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے' یہ فیصلہ اسرائیل کے دہشت گردی اقدامات پر اسے تحفہ دینے کے مترادف ہے۔

استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا انعقاد اس امر کا مظہر ہے کہ اسلامی دنیا نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور وہ اس مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ بیت المقدس کے مسئلے پر مسلم ممالک کا متحد ہونا خوش آیند ہے لیکن اس کے ساتھ اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ 57رکنی مسلم تنظیم او آئی سی کے اس ہنگامی سربراہی اجلاس میں 22اسلامی ممالک کے سربراہان اور25ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے جب کہ باقی اسلامی ممالک کے سربراہان کی جانب سے اس میں شریک نہ ہونا حیران کن امر ہے۔

اس اجلاس میں مسلم ممالک کے سربراہان نے بعض تشویشناک پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن نہیں آ سکتا' امریکی صدر کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے' امریکا امن بات چیت میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کے لیے نااہل ہو گیا' امن بات چیت میں امریکا کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ اس نے اپنے تعصب کو ثابت کر دیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی انھی امور کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے امریکا کی مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے جاری امن عمل میں غیرجانبدار ثالث کی حیثیت ختم ہو گئی۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکی صدر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اگر امریکا اپنے فیصلے پر قائم رہتا اور کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا ہے تو کیا اقوام متحدہ اس مسئلے پر اسے روکنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کے کردار کے تناظر میں صورت حال کا بنظرغائر جائزہ لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اقوام متحدہ نے ہمیشہ امریکا کے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور کبھی ایسا فیصلہ نہیں کیا جو امریکی مفادات کے برعکس ہو۔ اب بھی امکان ہے کہ اقوام متحدہ تمام عالمی قوانین کی پروا نہ کرتے ہوئے امریکی فیصلے کو رد نہیں کرے گی۔ اگر ایسا ہو جاتا تو یہ صورت حال بہت تشویشناک اور مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرناک ہو گی۔

اس سے خطے میں مسلح جدوجہد میں شدت آ سکتی ہے اور اگر اسرائیل نے فلسطین پر حملہ کر دیا تو یہ جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے بلکہ ارد گرد کے ممالک بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ امریکا کا تعصب تو سامنے آ گیا ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے میں جانبدار رہے گا۔ ایک جانب امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کرتا ہے تو دوسری جانب ایسے اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرتا جس سے دہشت گردی کو مزید بڑھاوا ملتا ہے۔ اسلامی ممالک اس قابل تو نہیں کہ امریکا کے اس فیصلے کے خلاف اعلان جنگ کر دیں جس طرح عراق اور افغانستان کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کیا تھا لیکن وہ کم از کم اقتصادی دباؤ ڈال کر امریکا کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور تو کر سکتے ہیں۔