2018ء کے انتخابات اور پنجاب

جب تک پنجاب پر شریف برادران کی اجارہ داری ہے، شریف برادران کو پاکستان پر حکومت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔


Zaheer Akhter Bedari December 15, 2017
[email protected]

ISLAMABAD: سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور محاذ آرائیوں کے باوجود سیاسی جماعتوں کی اکثریت اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ 2018ء میں الیکشن ہوں، مسلم لیگ (ن) کی انتخابی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آرہی ہے اور تحریک انصاف تیزی سے رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے عوامی رابطوں میں تیزی لا رہی ہے، ملک میں کوئی دوسری ایسی جماعت دکھائی نہیں دیتی جو نواز لیگ کا خلا پورا کرسکے۔

پیپلز پارٹی بھی اس خلا کو جس کے پیدا ہونے کا امکان نظر آرہا ہے پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن 2008ء سے 2013ء تک اس کی پانچ سالہ کارکردگی اس کی کوششوں کی راہ میں حائل ہو رہی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے جس نوجوان قیادت کو آگے بڑھایا ہے وہ بھی عوام کو متاثر کرنے میں کامیاب نظر نہیں آرہی اور زرداری بار بار خود آگے آکر اور بلاول کو پیچھے کرکے دہری قیادت کا ایسا مظاہرہ کر رہے ہیں جو عوام میں ذہنی انتشار پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ عوام یہ سمجھنے سے قاصر نظر آرہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا اصل قائد بلاول ہے یا زرداری؟

میاں برادران کی پنجاب پر اجارہ داری ہی اس کے اقتدار کی ضامن بنی ہوئی ہے، اسی اجارہ داری کی وجہ سے لگ بھگ تین دہائیوں سے پنجاب کے اقتدار پر میاں برادران کا قبضہ ہے، لیکن پاناما لیکس کے حوالے سے بڑے میاں اور ان کا گھرانہ جن سنگین الزامات کی زد میں ہے اور وزارت عظمیٰ سے نواز شریف کی نااہلی نے میاں خاندان کو بہت مشکلات میں مبتلا کردیا ہے، نواز شریف عدلیہ اور فوج کے خلاف بالواسطہ جس جرأت رندانہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اسے بعض حلقے تاریخی بہادری کا اعزاز دے رہے ہیں لیکن نواز شریف اور ان کے خاندان پر کرپشن کے جو سنگین الزامات ہیں اور عدالتوں میں ان الزامات کے حوالے سے جو کارروائیاں ہو رہی ہیں جن میں حسن اور حسین کی مفروری اور گرفتاری کے وارنٹ کے اجرا سے میاں خاندان کی جو تضحیک ہو رہی ہے اس کے منفی اثرات عوام پر پڑ رہے ہیں اور ہر جگہ ان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شہباز شریف اس طوفان کی زد سے بچے ہوئے تھے اور پنجاب پر ان کی گرفت بڑی حد تک برقرار تھی، لیکن ماڈل ٹاؤن کا کیس اب ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔ مولانا طاہرالقادری اس حوالے سے پوری تیاریوں اور منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے مختلف جماعتوں سے ان کے رابطوں میں تیزی آرہی ہے۔

عمران خان کا ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے قادری کی حمایت کا اعلان نہ غیر متوقع ہے نہ حیران کن، کیونکہ تحریک انصاف اس مسئلے پر قادری کے موقف کی تسلسل کے ساتھ حمایت کرتی آرہی ہے، لیکن حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے بہ نفس نفیس طاہرالقادری سے ان کی رہائش گاہ جا کر ملاقات کی اور ماڈل ٹاؤن کے مسئلے پر نہ صرف قادری کی حمایت کی بلکہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے خلاف ممکنہ طور پر چلنے والی تحریک میں شرکت کا بھی عندیہ دیا ہے، جو میاں برادران کے لیے نہ صرف ایک سیاسی جھٹکا ہے بلکہ اس طبقاتی اتحاد کی بھی نفی ہے جو دونوں جماعتوں کے درمیان برسوں سے جاری ہے۔

2018ء کے ممکنہ انتخابات کے حوالے سے سیاسی رہنما اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ جب تک پنجاب پر شریف برادران کی اجارہ داری ہے، شریف برادران کو پاکستان پر حکومت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس حقیقت کے پیش نظر شہباز شریف پنجاب میں تیزی سے ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں، اس حوالے سے اورنج لائن ٹرین کے منصوبے میں جو رکاوٹ درپیش تھی وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے دور تو ہوگئی ہے لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں اختلافی نوٹ دیا گیا ہے، وہیں اس فیصلے کو 31 شرائط سے مشروط کردیا گیا ہے اور منصوبے کی مانیٹرنگ کے لیے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

ان مانیٹرنگ کمیٹیوں کی تشکیل سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کو اس منصوبے پر کام کرنے کے لیے فری ہینڈ نہیں دیا ہے بلکہ منصوبے کی مانیٹرنگ کا انتظام کیا ہے، جو بالواسطہ طور پر پنجاب حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے کہ ہماری حکومتیں ترقیاتی کاموں کا اس طرح پروپیگنڈا کرتی ہیں کہ یہ کام انھوں نے اپنی جیب خاص سے سر انجام دیے ہیں اور اسی حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سادہ لوح عوام بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ترقیاتی کام حکمران طبقات اپنے سرمائے سے پورے کر رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ترقیاتی کاموں کا پروپیگنڈا اس طرح کیا جاتا ہے کہ یہ کام حکمرانوں کے سرمائے سے انجام دیے جا رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہر ترقیاتی کام عوام کے سرمائے سے ہوتا ہے حکمرانوں کا کام ایک پوسٹ مین کا ہوتا ہے۔

آئیے اب ذرا 2018ء کے ممکنہ عام انتخابات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ جیساکہ ہم نے نشان دہی کی ہے جب تک پنجاب پر شریف برادران کی بالادستی قائم ہے انھیں ملک پر حکومت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اس ناگوار حقیقت سے پوری طرح واقف ہے اسی لیے پیپلز پارٹی کی قیادت نے پنجاب میں ڈیرے ڈال دیے تھے اور اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز پنجاب کو بنایا تھا لیکن واقف حال حلقوں کا اندازہ ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں قدم جمانے میں کامیاب نہیں ہوسکی، حالانکہ اس نے بلاول کو آگے لاکر پنجاب کے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جو فہمیدہ حلقوں کے مطابق کامیاب نہ ہوسکی۔

عمران خان بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ پنجاب کے عوام کو شریف برادران کی گرفت سے نکالے بغیر ان کا اقتدار کی منزل تک پہنچنا مشکل ہے۔ غالباً اسی حقیقت کے پیش نظر عمران خان لگاتار پنجاب کے مختلف دور دراز علاقوں میں بھی جلسے کر رہے ہیں اور ان جلسوں میں عوام کے بڑے ہجوم دیکھے جا رہے ہیں۔

عوام کی عمران خان کے جلسوں میں بھاری تعداد میں شرکت کی بہ ظاہر وجہ عمران خان کی شخصیت نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام 70 سال سے اپنے سروں پر مسلط کرپٹ اشرافیہ سے نجات چاہتے ہیں جس نے ان سے زندگی کی ہر خوشی چھین لی ہے اور وہ عمران خان کو ایک حوصلہ افزا متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان ابھی تک اقتدار میں نہیں آئے نہ ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

مقبول خبریں