ملکی معیشت اور آئی ایم ایف

ملک کی اقتصادی صورت حال سے یہی لگتا ہے کہ پاکستان خاصا معاشی دباؤ میں ہے


Editorial December 16, 2017
ملک کی اقتصادی صورت حال سے یہی لگتا ہے کہ پاکستان خاصا معاشی دباؤ میں ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں آئی ایم ایف کمیشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر نے گزشتہ روز پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 6فیصد ہدف کے مقابلے میں5.6فیصد رہنے کا امکان ہے' 2018میں حکومت نے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام لینے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ نہیں' روپے کی قدر میں مزید کمی کی گنجائش ہے مگر ہمارا اس سے لینا دینا نہیں' پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے' رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف پورا نہیں ہو سکے گا۔

آئی ایم ایف کمیشن کے سربراہ کی باتوں سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ روپے کی قدر میں حالیہ کمی سے خاصی حد تک مطمئن ہیں اور انھوں نے اس میں مزید کمی کا اشارہ بھی دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس کمی سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ملک کی اقتصادی صورت حال سے یہی لگتا ہے کہ پاکستان خاصا معاشی دباؤ میں ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان مالیاتی کنٹرول کے لیے اپنے تعین کوششیں کر رہا ہے لیکن ملک کا سیاسی عدم استحکام معیشت کو مستحکم ہونے نہیں دے رہا۔ ہیرالڈفنگر نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ مناسب وقت پر کیا گیا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی کا بڑھنا فطری امر ہے اور اس کے اثرات عام آدمی پر مرتب ہوں گے۔ جی ڈی پی گروتھ کا ہدف مکمل نہیں ہو گا۔ بہرحال ان مشکل ترین حالات میں بھی ملکی معیشت میں قدر بہتر اشاریے دیے ہیں۔اگر ملک میں سیاسی استحکام رہتا تو معیشت زیادہ بہتر حالت میں ہوتی۔