وفاق میں7نئی وزارتوں کے قیام کا فیصلہ غیر آئینی ہے رضا ربانی

18ویں ترمیم لپیٹنے کی کوشش کی گئی، ہائیر ایجوکیشن نے بھی صوبوں کو منتقل ہونا ہے


News Agencies August 07, 2012
18ویں ترمیم لپیٹنے کی کوشش کی گئی، ہائیر ایجوکیشن نے بھی صوبوں کو منتقل ہونا ہے(فوٹو ایکسپریس)

KARACHI: 18ویںترمیم پرعملدرآمد کے جائزے کیلیے قائم سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے دوران رضاربانی نے وفاقی حکومت پرمتذکرہ آئینی ترمیم کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائدکردیے،انھوں نے کہا کہ وفاقی وزرا خورشید شاہ اورمولابخش چانڈیوکی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹیوںنے 18ویںترمیم کو لپیٹنے کی کوشش کی،ان کمیٹیوںکی جانب سے وفاق میں 7 نئی وزارتوں کے قیام کا فیصلہ غیر آئینی ہے،

انھوں نے واضح کیاکہ چاہے غیر ملکی امدادی ادارے فنڈز روک دیںصحت کے تمام پروگراموں کو صوبوں کو منتقل ہوناہےگوروںکواختیار نہیں کہ وہ خودمختارملک کووزارتوں کے حوالے سے ہدایات دیں،اجلاس میں شریک حکومت اوراپوزیشن کی تمام جماعتوں نے فاضل سینیٹر کے موقف کی تائید کی ۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جہانگیر بدرکی زیرصدارت ہوا۔

چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر عملدر آمد میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنا ضروری ہے۔ وزیر بین الصوبائی رابطہ میر ہزارخان بجارانی نے کہا کہ اختیارات کی منتقلی جمہوری و سیاسی قوتوں کے خواب کی تعبیر ہے۔ کلثوم پروین نے کہا کہ18ویں ترمیم کے تحت چھوٹے صوبوں کو اثاثے منتقل نہیں کیے گئے ، بوجھ میں اضافہ ضرور کیا گیا ہے ، عوام تک 18 ویں ترمیم کے ثمرات نہیں پہنچ رہے ہیں۔ سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ انیس الحسن نے بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت 17 وزارتیںصوبوں کو منتقل ہوئی ہیں،

صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے بعد کے مسائل کے جائزے کیلیے 2اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں قائم کیگئیتھیں۔سینیٹر زاہد نے کہا کہ صحت کے تمام پروگرامات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، وفاق کا ان پر اختیار نہیں،18 ویں ترمیم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ تحفظات کے حوالے سے ہمارا ہدف وزارت بین الصوبائی نہیں،18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد فیڈرل بیورو کریسی کی بعض قوتیں اورکچھ سیاسی شخصیات صوبوں کو اختیارات کی منتقلی نہیں چاہتے تھے ،

خورشید شاہ اور مولا بخش چانڈیو کی سربراہی میں دونوں کمیٹیوں نے18 ویں ترمیم کو ایک حد تک لپیٹنے کی کوشش کی ،7نئی وزارتوں کے قیام کا کوئی جواز نہیں تھا،حکومت نے غیر آئینی اقدام اٹھاتے ہوئے تعلیم و ٹریننگ کے نام سے نئی وزارت قائم کی ،18 ویں ترمیم کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں،ا س سے صوبائی خود مختاری کا عمل متاثر ہو گا، عملدر آمد کمیشن کے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کبھی یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ ایچ ای سی وفاق میں رہے گا ،یہاں ٹاسک فورس بننا تھی،نیا قانون بننا تھا،ایچ ای سی اس میں رکاوٹ ہے، حکومت بتائے کہ کس آئینی شق کے تحت نئی وزارتیں بنیں، PTDCکے اثاثے ایک سال میں صوبوں کو منتقل ہونا تھے مگر ایسا بھی نہ ہوا۔جہانگیر بدر نے کہا کہ نئی وزارتوں کے قیام کے حوالے سے تحفظات کا جائزہ لینا ضروری ہے،اس بارے میں آئندہ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ ،کابینہ ڈویژن اور وزارت قانون کے اعلیٰ حکام کو طلب کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بریفنگ اور رضا ربانی کے خیالات کا یہی نچوڑ ہے کہ 18ویں ترمیم پر اس کی روح کے مطابق عملدر آمد نہیں ہو رہا ،صوبائی خود مختیاری کے حوالے سے دشواریاں پیدا کی جا رہی ہیں ،اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہونگے۔جے یو آئی ف کے مولانا عبدالشکور نے کہا کہ اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو بلایا جائے اور ان کی رائے لی جائے ، اس پر جہانگیر بدر نے کہاکہ اس بارے میں صوبوں کو سنا جائے گا،آئندہ اجلاس میں چاروں چیف سیکریٹریز کو بھی بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں کمیٹی کا اجلاس 12 ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔