’’خون کے دھبّے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد‘‘

کام آسان ہے کہ جن لوگوں نے جانیں دے کر مزاحمت کی تھی، وہ جماعت اسلامی کے لوگ تھے


Abdul Qadir Hassan March 15, 2013
[email protected]

متحدہ پاکستان توڑ دیا گیا اور اس کو توڑنے والے جو بھی تھے وہ سب سزا پا گئے، زندگیوں سے گئے۔ زمین سے اوپر کوئی ایک عدالت ایسی بھی تھی جس نے ان مجرموں کا فیصلہ کیا۔ اس مملکت خدا داد کے لیے سر زمین ہند سے جس ٹکڑے کا انتخاب کیا گیا وہ کوئی ایسا مقدس قرار پایا کہ اس کی گستاخی اور اس سے بے وفائی معاف نہ کی گئی۔ اس مملکت خدا داد کی حفاظت، اتحاد اور سلامتی کے لیے جن لوگوں نے جدوجہد کی وہ آج اس ملک کو توڑنے والوں کے نشانے پر ہیں، قانوناً وہ ان کی طرح بنگلہ دیشی ہیں لیکن وہ بنگلہ دیش کے قیام کے خلاف تھے۔

اب وہ اس نئے ملک کی اصلاح میں مصروف ہیں، اسے سیکولر ازم سے نکالنا چاہتے ہیں اور اسے بھارت کی بالادستی سے آزاد کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیں، اس لیے وہ سب گردن زدنی ہیں، قید و بند اور پھانسی ان کی سزا ہے اور وہ اپنے نظریات کے لیے قربانی دے رہے ہیں لیکن یہ لوگ وہ ہیں جو پاکستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے، اب انھیں اس جرم کی سزا مل رہی ہے۔ در اصل انھیں نیست و نابود کر دینے کی کوشش ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے البدر اور الشمس کے ذریعے بھارت کی مکتی باہنی کا مقابلہ کیا۔ تعجب ہے پاکستان کے ترقی پسند، طلبہ کی ان جانثار تنظیموں کا مذاق اڑاتے تھے۔ مشرقی پاکستان کے وہ بنگالی لیڈر جو بنگلہ دیش کو قبول نہ کر سکے، ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔

ان دنوں یہ تاریخ پھر دہرائی جا رہی ہے اور پرانی یادیں تازہ کی جا رہی ہیں جن میں نور الامین جیسے بزرگ کے وہ آنسو بھی ہیں جو انھوں نے پاکستان آنے کے بعد اپنے قائد کے مزار پر بہائے تھے۔ ایسے غم کو یہ قوم بھلا نہیں سکتی۔ ان حالات کا ایک چشم دید گواہ میں بھی ہوں۔ جس نے ایک اخباری وقایع نگار کی حیثیت سے بہت کچھ دیکھا اور مشرقی پاکستان کے معصوم بے گناہ شہریوں کو پاکستان کے ساتھ محبت کرتے بار بار دیکھا۔ مغربی پاکستان کے جاگیردار اور فوجی اشرافیہ نے اپنے ان ہموطنوں کو کمی کمین بنا دیا تھا، جب کبھی مشرقی پاکستان جانا ہوتا تو وہاں کے شہری ہمیں کوئی متمول امریکی سمجھتے۔ ہمارا لباس اور رویہ بہت مختلف ہوا کرتا لیکن اس امتیازی سلوک کے باوجود پاکستان کے ساتھ ان کی محبت حیران کن تھی۔ یک طرفہ محبت۔

ایک بار میں ایئر مارشل اصغر خان کے ہمراہ ان کے مشرقی پاکستان کے دورے پر تھا۔ ڈھاکا سے دور کسی مضافاتی مقام پر ایئر مارشل نے ایک ریسٹ ہائوس میں رات بسر کی، قریب ہی ہمارا قیام تھا۔ پوری رات ہزاروں پاکستانی ایئر مارشل کی قیام گاہ کے باہر بیٹھے نعرے لگاتے رہے، وہ صبح ہونے پر یعنی دوسرے دن اپنے اس لیڈر کو دیکھنا چاہتے تھے جس کے ساتھ انھوں نے اپنی کچھ امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ صبح کے وقت جب مغربی پاکستان کے لیڈر اصغر خان باہر نکلے تو جذبات اور دیوانگی کا یہ منظر اب بیان نہیں کیا جا سکتا، صرف دیکھا جا سکتا تھا۔

دوسرے کئی مقامات پر بھی ان کا ایسا ہی والہانہ استقبال ہوا کیونکہ یہ ان کے پاکستان کے ایک رہنما تھے۔ مشرقی پاکستان میں ایک جرنیل متعین رہے۔ وہ وہاں اس قدر مقبول تھے کہ دیہات کے لوگوں سے ہاتھ ملا ملا کر ان کے ہاتھوں سے خون رسنے لگا۔ چچا اعظم خان بے پناہ محبوب شخصیت تھے۔ ان کی پوجا کی جاتی تھی۔ میں ایک بار وفد کے ساتھ ڈھاکا گیا تو وہاں صدر صاحب نے ہم لوگوں کی دعوت کی۔ یہ گورنر ہائوس تھا، ہمارے گورنر ہائوسوں کے سرونٹ کوارٹروں سے ذرا بہتر۔ پرانا فرنیچر اور پرانے قالین۔ صدر صاحب نے ایک دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دیوار پر تصویریں لگی ہیں مگر ایک جگہ خالی ہے، یہ جنرل اعظم خان کی تصویر کے لیے ہے جو ہمیں یہاں دستیاب نہیں ہو سکی، کیا آپ یہ تصویر ہمیں بھجوا سکتے ہیں میں نے واپسی پر ناکام کوشش کی۔

ڈھاکا کے ایوان صدر میں تصویروں والی دیوار کی ایک جگہ شاید اب تک خالی ہو گی۔ مشرقی پاکستان کی وہ نسل جس نے متحدہ پاکستان دیکھا ہے اس کے دل کی دیوار پر بھی ایک جگہ اب تک خالی ہے۔ وہ جگہ اس پورے پاکستان کی تصویر کی ہے جو مشرقی صوبے نے دیکھا تھا اور جسے مغربی پاکستان کے بعض کم بختوں نے دیکھنے سے انکار کر دیا۔ ایوب خان کو معافی کیسے ملے گی جس نے ملک توڑنے کی ابتداء کی تھی اور جس کی وجہ سے کئی دیواریں اب تک خالی ہیں سوائے دل کی دیوار کے۔ ایک بہت پرانا شعر پوری آب و تاب کے ساتھ یاد آیا ہے اور زندہ ہوا ہے

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

ان دنوں مشرقی پاکستان میں یہی گردنیں کاٹی جا رہی ہیں۔ کام آسان ہے کہ جن لوگوں نے جانیں دے کر مزاحمت کی تھی، وہ جماعت اسلامی کے لوگ تھے، اب ان کے لیڈروں کی گردنیں کاٹی جا رہی ہیں، انھیں برسوں بعد سزا دی جا رہی ہے، یہ لوگ ویسے بھی زندہ شہید تھے اور اس ملک کی تصویریں دلوں میں آویزاں کر کے بیٹھے تھے۔

ہمارے ایک ترقی پسند شاعر جو سراسر پاکستانی تھے اور آخری وقت تک پاکستانی رہے، دہری شہریت ان کے لیے نہیں، یہ شہریت دینے والوں کا اعزاز تھا لیکن وہ میرے دل مرے مسافر کا نغمہ الاپتے رہے اور پورے پاکستانی رہے ، جناب فیضؔ نے سانحہ مشرقی پاکستان پر ایک مایہ ناز نظم کہی تھی جو اس صوفی شاعر کے دل کی آواز اور فریاد تھی۔ ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیے۔ اس پر کیا اضافہ ہو سکتا ہے، کوئی فیض چاہیے۔ خون کے یہ دھبے بڑھتے ہی جا رہے ہیں، پھیلتے جا رہے ہیں۔

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے

ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

مقبول خبریں