جنوبی کورین سرمایہ کاروں کو حالات پر تشویش ہے قونصل جنرل

کراچی چیمبر کا دورہ، ہارون اگر کا آزاد تجارتی معاہدے کیلیے مذاکراتی عمل تیز کرنے پر زور


Business Reporter March 16, 2013
کراچی چیمبر کا دورہ، ہارون اگر کا آزاد تجارتی معاہدے کیلیے مذاکراتی عمل تیز کرنے پر زور۔ فوٹو: فائل

کراچی میں تعینات ریپبلک آف کوریا کے قونصل جنرل چینگ ھی لی نے کہا ہے کہ پاکستان بلحاظ سرمایہ کاری اگرچہ کورین انویسٹرز کی توجہ کا مرکز ہے لیکن کراچی میں امن وامان کی خراب صورتحال پر کوریا کے سرمایہ کاروں کے تحفظات ہیں۔

یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر ایوان کے صدر ہارون اگر سے ملاقات کے دوران کہی، کورین قونصل جنرل نے کہا کہ دونوں ممالک کے چیمبرزآف کامرس کوپاکستان اور کوریا کی تاجربرادری کے درمیان مضبوط اور فعال روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں کورین قونصلیٹ بھرپورتعاون کے لیے تیار ہے، انھوں نے بتایا کہ کوریا ٹریڈ انویسٹمنٹ پروموشن ایجنسی (کے ٹی آئی پی اے) دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے پاکستان میں طویل عرصے سے سرگرم عمل ہے جبکہ کوریا کے ساتھ تجارت کرنے والے تاجروصنعت کاروں کومعاونت بھی فراہم کررہی ہے۔

2

اس موقع پر کراچی چیمبر آف کامرس کے صدرمحمد ہارون اگر نے کہا کہ کورین منافع بخش سرمایہ کاری کے لیے پاکستان ایک مثالی ملک ہے، متبادل توانائی، زراعت اورانجینئرنگ سیکٹرز میں جوائنٹ وینچرشروع کرنے کے منافع بخش مواقع دستیاب ہیں، دونوں ممالک میں دستیاب مواقع کی وجہ سے آئندہ 5 سال میں باہمی تجارت کی مالیت 1.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3 تا 5 ارب ڈالر تک پہنچنے کے امکانات ہیں، سال 2012 میں پاکستان سے کوریاکے لیے 49 لاکھ 90 ہزارڈالر جبکہ کوریا سے پاکستان کے لیے 61 لاکھ 10 ہزار ڈالر مالیت کی مختلف مصنوعات کی برآمدات ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ کوریا کی سرفہرست کمپنیاں جن میں ہنڈائی، ڈائیوو، ایل جی، لوٹے سام سنگ شامل ہیں پاکستان میں منافع بخش کاروبار کررہی ہیں لہٰذا پاکستان میںکوریا اسپیشل اکنامک زون کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، حکومت پاکستان نے اسپیشل اکنامک زون کا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت جاپان اسپیشل اکنامک زون کے قیام پر کام جاری ہے ، پاکستان اورکوریا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکراتی عمل کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

ہارون اگر نے کہا کہ کورین تاجروسرمایہ کارپاکستان کوخصوصی اہمیت دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کئی بار منفی ٹریول ایڈوائزری جاری ہونے کے باوجود کورین بزنس مین پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے نہیں ہچکچاتے۔