پی سی ڈی ایم اے نے انکم ٹیکس میں 2 فیصد اضافہ مسترد کردیا

انکم ٹیکس شرح صنعتوں کے مساوی کی جائے، سلیم ولی محمد، چیئرمین ایف بی آر کو خط


Business Reporter March 16, 2013
انکم ٹیکس شرح صنعتوں کے مساوی کی جائے، سلیم ولی محمد، چیئرمین ایف بی آر کو خط۔ فوٹو: فائل

لاہور: پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن نے بھی کمرشل امپورٹرز پرانکم ٹیکس کی شرح میں یکطرفہ بنیادوں پر2 فیصد اضافے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر سے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس آر او 2013(I) 212 میں دہری پالیسی کے بجائے کمرشل امپورٹرز کے لیے انکم ٹیکس کی شرح صنعتوں کے مساوی کرنے کے احکام جاری کریں۔

کیمیکل سیکٹر کے درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ صنعتوں کو کمرشل امپورٹرز پر ترجیح دینے اور یکساں کاروباری مواقع کے دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے اس سلسلے میں چیئرمین ایف بی آر کو خط بھی ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایس آراو پر عمل درآمد کے نتیجے میں کیمیکل اینڈ ڈائز کی درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا، ایس آر او 179 کے تحت صنعتوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح بھی 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر مخصوص عناصر کی ایما پرچور بازاری کو فروغ دے رہا ہے۔

6

ایف بی آر کے مذکورہ یکطرفہ اقدامات ٹی آر سی جی کی سفارشات کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں قرار دیا گیاہے کہ صنعتوں اورکمرشل امپورٹرز کو برابری کی سطح پر کاروباری سہولتیں فراہم کی جانی چاہیے۔ خط میں چیئرمین ایف بی آر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس کی شرح میں اضافے سے چور بازاری شروع ہو جائے گی، صنعتوں کے نام پر درآمد ہونے والے خام مال کی مارکیٹ میں فروخت کا حجم معمول سے بڑھ جائے گا جس سے کمرشل امپورٹرز مارکیٹ میں مسابقت سے قاصر ہوجائیں گے۔