حصص مارکیٹ سنبھل نہ سکی مزید 76 پوائنٹس گرگئے

انڈیکس کی 17700 کی حد بھی گرگئی، مندی کے باعث 48 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔


Business Reporter March 16, 2013
انڈیکس کی 17700 کی حد بھی گرگئی، مندی کے باعث 48 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ فوٹو: آن لائن/فائل

ملک میں نگراں حکومت کے قیام تک دیکھواور انتظارکروکی پالیسی اختیار کیے جانے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو بھی کاروباری صورتحال مایوس کن رہی۔

انڈیکس کی 17700 کی حد بھی گرگئی، مندی کے باعث 48 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 15 ارب44 کروڑ80 لاکھ2 ہزار242 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کے بیشترشعبوں نے کاروبارمیں سرمایہ کاری دلچسپی کم کر دی ہے اور وہ نگراں حکومت قائم ہونے کے علاوہ معیشت میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت میں نامزدگیوں کے منتظر ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نگراں سیٹ اپ میں اگر معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے والے بہترین ساکھ کے حامل ٹیکنوکریٹس کی تقرری نہ کی گئی تو اسٹاک مارکیٹ میں ردعمل کے طور پربڑی نوعیت کی مندی رونما ہونے کے امکانات ہیں، انہی منفی خدشات کے پیش نظر بیشتر شعبے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دے رہے ہیں اور اس دوران بعض دوراندیش سرمایہ کار نچلی قیمتوں پرخریداری کر رہے ہیں تاہم یہ خریداری انتہائی محدود پیمانے پر کی جارہی ہے۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس75.86 پوائنٹس کی کمی سے 17664.83 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 115.74 پوائنٹس کی کمی سے14172.17 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 99.02 پوائنٹس کی کمی سے30636.74 ہوگیا۔

کاروباری حجم جمعرات کی نسبت10.47 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر11 کروڑ46 لاکھ13 ہزار600 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 318 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں145 کے بھاؤ میں اضافہ، 152 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں فلپس مورس کے بھاؤ11.07 روپے بڑھ کر232.51 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھاؤ 8.98 روپے بڑھ کر 340 روپے ہوگئے ۔