سانحہ کوئٹہ حفاظتی اقدامات کی مزید ضرورت

عوام اور خاص کر اقلیتی برادریوں کا تحفظ ریاست اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمے داری ہے


Editorial December 20, 2017
عوام اور خاص کر اقلیتی برادریوں کا تحفظ ریاست اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمے داری ہے۔ فوٹو: فائل

کوئٹہ میں چرچ پر خودکش حملے میں جاں بحق ہونیوالے 6 افراد کی تدفین گزشتہ روز کردی گئی، اس موقع پر اراکین اسمبلی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے تدفین کی رسومات میں شرکت کی۔ سانحہ کوئٹہ کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جب کہ گرجا گھروں میں جاں بحق ہونیوالوں کی یاد میں دعائیہ تقریبات اور ان کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کے لیے شمعیں روشن کی گئیں۔

چرچ، مساجد اور مذہبی مقامات پر حملہ کرنیوالوں کا تعلق کسی بھی مذہب یا انسانیت سے نہیں ہوتا، ایسے لوگ انسان کہلانے کے لائق نہیں، پاکستان ایک عرصہ سے دہشت گردوں کے ان خونیں حملوں کا شکار ہے، چرچ پر ہونے والا یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ اس سے پیشتر دیگر مذاہب اور فرقوں کے پرامن افراد کو ان کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت حملے کا نشانہ بنا کر خون میں نہلا دیا گیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان انسانیت دشمن شرپسندوں کے خلاف پوری شدومد کے ساتھ فعال ہوا جائے، صرف مذمتی بیانات اور کمزور کارروائیوں سے یہ دہشتگرد پسپا ہونیوالے نہیں ہیں۔

قابل افسوس امر یہ ہے کہ ملک میں انٹیلی جنس ادارے مکمل فعال نہیں ہیں، یا پیشگی اطلاعات ہونے کے باوجود بھی سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے جاتے۔ مسیحی برادری کا سب سے بڑا تہوار کرسمس قریب ہے، ایسے وقت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ شرپسند عناصر کسی اور مہم جوئی میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

عوام اور خاص کر اقلیتی برادریوں کا تحفظ ریاست اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمے داری ہے، اس جانب سے ذرا برابر غفلت نہ برتی جائے۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال اور خودکش حملے دنیا میں ملک کا امیج خراب کررہے ہیں، صائب ہوگا کہ سیکیورٹی کے سخت فول پروف انتظامات کے ساتھ دہشت گردوں کی باقیات کے خلاف فعال آپریشن کیا جائے۔ریڈ الرٹ سٹرٹجی ہمہ وقت برقرار رکھی جائے۔