پاکستانی قرارداد ہمارے معاملات میں مداخلت ہے کشمیر اٹوٹ حصہ ہے اور رہیگا لوک سبھا کی جوابی قرارداد

پاکستان کی قومی اسمبلی میں افضل گورو کی پھانسی کے خلاف منظورقرارداد پر لوک سبھاکی ناراضی، پاکستان اپنے مسائل حل کرے


Monitoring Desk March 16, 2013
پاکستان کی قومی اسمبلی میں افضل گورو کی پھانسی کے خلاف منظورقرارداد پر لوک سبھاکی ناراضی، پاکستان اپنے مسائل حل کرے،سلمان خورشید فوٹو: اے ایف پی/فائل

بھارتی ایوان زیریں لوک سبھا نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں افضل گورو کی پھانسی کے خلاف منظور کی گئی۔

قرارداد پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جوابی قرارداد منظور کی ہے۔ جمعے کو پارلیمانی امور کے بھارتی وزیر کمل ناتھ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان نے جو قرارداد منظور کی ہے ، اس پر ہم سبھی کو تشویش ہے۔

بی بی سی کے مطابق لوک سبھا کی اسپیکرمیراکمار نے قرارداد منظور کرتے ہوئے پڑھکر سنائی، ''یہ ایوان 14 مارچ کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کو مسترد کرتا ہے، ایوان کا خیال ہے کہ پاکستان نے وعدہ کیا ہے کہ اس کی سرزمین بھارت کے خلاف دہشتگردی کیلیے استعمال نہیں کی جائیگی اور اس وعدے کووفا کرناہی پاکستان بھارت پرامن تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ایوان بھارت کے داخلی امور میں مداخلت کو مسترد کرتا ہے اور پاکستان کی قومی اسمبلی سے شدت پسندوں اور دہشتگردوں جیسے عناصر کی حمایت جیسے فعل سے باز رہنے کو کہتا ہے۔''



میراکمار نے کہا کہ ایوان پھر سے تاکید کرتا ہے کہ جموں وکشمیر کی پوری ریاست بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بھارت کے داخلی امور میں کسی بھی جانب سے مداخلت کی کوشش کو متحد قوم کی حیثیت سے سخت جواب دیاجائیگا۔ بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید نے بتایا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل کو حل کرے اور ہمیں ہمارے معاملات خود دیکھنے دے۔

پارلیمانی امور کے وزیرکمل ناتھ نے کہاکہ افضل گورو کو بھارتی قانون کے مطابق پھانسی دی گئی ہے۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی نے واک آوٹ کیا اور مطالبہ کیاکہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات معطل کردے۔ بی جے پی کے ترجمان راجیو پرتاپ رڈی نے کہاکہ عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا گڑھ ہے جہاں پارلیمنٹ خود دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔