مقبوضہ کشمیر میں حالات کشیدہ بھارتی فوج کی مظاہرین پرفائرنگ متعدد زخمی

لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کے گھروں پر پولیس کے چھاپے،کئی گرفتار، دوسرے روز بھی کرفیو نافذ، خوراک کی قلت.


News Agencies March 16, 2013
مقبوضہ علاقے میں فوجی راج قائم ہے،عالمی برادری خاموش تماشائی بننے کے بجائے کشمیریوں کی حالت زار کا نوٹس لے، یاسین ملک. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

مقبوضہ کشمیر میں افضل گورو کی پھانسی اور حریت رہنمائوں کی گرفتاری کیخلاف نمازجمعے کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

بھارتی فورسز اور پولیس کی فائرنگ، وحشیانہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں 2 کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے، وادی میں حالات کشیدہ ہونے پر کرفیو نافذ ہے، لوگوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کیلیے بھی مسجد نہیں جانے دیا گیا۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے بھارتی فوج اور پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل پھینکے اور فائرنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ مسلسل کرفیو اور شدید پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت ہو گئی ہے۔

دریں اثنا بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے ضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن میں پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا کارروائی میں 10 افراد زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے لبریشن فرنٹ ضلع پلوامہ کے صدر جاوید احمد کے علاوہ ایک اور پارٹی رہنماامتیاز بٹہ گورو کو گرفتار کرلیا ہے۔ ادھر بھارتی پولیس نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد رہنمائوں کو گرفتار کر لیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنمائوں بشیر احمد بٹ، نورمحمد کلوال اور دیگر رہنمائوں کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ دریں اثنا جموںو کشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے ایک بیان میں پارٹی رہنمائوں کے خلاف پولیس کے کریک ڈائون کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں فوجی راج قائم ہے اور لوگوں کو گھروںمیں قید کر دیا گیا ہے۔ ا نھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کی بجائے کشمیریوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔