امریکا کا دہرا معیار

مریکا کی نئی افغان پالیسی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات لیے ہوئے ہے


Editorial December 22, 2017
مریکا کی نئی افغان پالیسی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات لیے ہوئے ہے۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON: پاکستان نے امریکا کی قومی سلامتی پالیسی میں پاکستان پرعائد کیے گئے بے بنیاد الزامات یکسر مسترد کرتے ہوئے انھیںحقائق جھٹلانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ بدھ کو دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میںکہاگیاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف علاقائی اورعالمی جنگ میںطویل عرصے سے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے اورخطے سے القاعدہ کا خاتمہ پاکستان کے عالمی برادری سے تعاون کی بدولت ہی ممکن ہوا جس کا امریکی قیادت بھی اعتراف اور تعریف کر چکی ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان کو ہمسایہ ممالک کی طرف سے مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ان کی طرف سے ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے کیونکہ یہ ممالک دہشت گردوںکی پشت پناہی اور مالی معاونت کر کے ملک میںعدم استحکام پیدا کر رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میںجاری بھارتی وحشیانہ تشدد اورکنٹرول لائن پربھارت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوںکے باعث جنوبی ایشیاکااسٹرٹیجک استحکام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

بیان کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے باوجود پاکستان دشمن عناصر افغان سرزمین مسلسل اس کے خلاف استعمال کررہے ہیں ، پاکستان اس حقیقت کی طرف مسلسل توجہ دلاتا رہا ہے کہ افغانوںکی زیرقیادت تنازع کا سیاسی تصفیہ ہی افغانستان میں جنگ کے خاتمے کا واحد اور قابل عمل حل ہے۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو تمام سہولتیں فراہم کیں۔ امریکی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کے ایک بہترین سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو سراہتے ہوئے اسے نان نیٹو اتحادی کا درجہ دے دیا۔ پذیرائی کے اس عمل میں پاکستان کو خصوصی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی۔

اب جب امریکا افغانستان میں اپنے قدم مضبوطی سے جما چکا اور اس بدلتے ہوئے حالات میں وہ پہلے کی طرح پاکستان کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا لہٰذا اس نے اپنی مفاداتی پالیسی اور ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک طرف پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائی کے لیے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تو دوسری جانب افغانستان میں بھارت کے کردار کو بڑھاتے ہوئے پاکستان کے کردار کو انتہائی محسوس کرنا شروع کر دیا۔

پاکستان کو امریکا کی یہ پالیسی اور ایجنڈا قطعاً قبول نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں پاکستان نے دیں اور اب کابل میں نئی دہلی کو اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کا موقع دے کر پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ امریکا اپنی نئی افغان پالیسی کے تحت پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہے' وہ افغانستان میں پاکستان کو کوئی کردار دینے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دیتا بس وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان افغان امن عمل میں صرف سہولت کار کے کردار تک محدود ہوجائے۔

پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ امریکا کی نئی افغان پالیسی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات لیے ہوئے ہے لہٰذا اس نے '' سب سے پہلے پاکستان'' کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے امریکا کی نئی افغان پالیسی اور اس کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان میں امریکا' اس کی اتحادی افواج اور 3لاکھ افغان فورسز موجود ہونے کے باوجود پورے ملک میں امن قائم نہیں ہو رہا۔ جنگجوؤں کا افغانستان کے ایک بڑے حصے پر قبضہ ہے اور وہ امریکی اور افغان فورسز کے خلاف گوریلا لڑائی لڑ رہے اور وقتاً فوقتاً اپنی کارروائیوں کے ذریعے اسے نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔

امریکا افغان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ امریکا پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرے لیکن اس نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی پالیسی تشکیل نہیں دی۔ پاکستان کا شکوہ بجا ہے کہ خطے سے القاعدہ کے خاتمے میں پاکستان کے تعاون کے باوجود افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی میں پاکستان دشمن عناصر اس کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان بار بار اس جانب توجہ دلا رہا ہے لیکن امریکا اور افغان حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے۔

بھارت اور افغانستان دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں' بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث جنوبی ایشیا کا اسٹرٹیجک استحکام بری طرح متاثر ہو رہا ہے جب کہ افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کے حملے مسلسل جاری ہیں۔ امریکا پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اگر افغانستان میں جنگجوؤں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے تو اس سے پورے خطے میں خود بخود امن قائم ہو جائے گا کیونکہ پاکستان اپنے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کر کے ان کے ٹھکانے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کر چکا ہے۔