گنے کے کاشتکار اور حکومت کا کردار

ان کاشتکاروں کی پسماندگی اور غربت میں حکومتی ادارے، منڈی کے آڑھتی اور مڈل مین بھی شامل ہیں


Editorial December 23, 2017
ان کاشتکاروں کی پسماندگی اور غربت میں حکومتی ادارے، منڈی کے آڑھتی اور مڈل مین بھی شامل ہیں۔فوٹو: فائل

ویسے تو وطن عزیز کے بہت سارے اہم اور قیمتی شعبوں کا حال خراب ہے۔ ان میں صنعت و حرفت کے علاوہ تجارت و زراعت کے شعبے بھی شامل ہیں لیکن زراعت کا حال زیادہ خراب ہے ۔ اس شعبے سے وابستہ کاشتکاروں کی حالت زار ارباب بست و کشاد کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ بعض اوقات تو حالات سے تنگ آکرکاشتکار اپنی کھڑی فصلوں کو آگ لگا دیتے ہیں۔

ان کاشتکاروں کی پسماندگی اور غربت میں حکومتی ادارے، منڈی کے آڑھتی اور مڈل مین بھی شامل ہیں۔ آجکل گنے کے کاشتکاروں کے مسائل کے حوالے سے میڈیا میں تواتر سے خبریں آرہی ہیں۔ گنے کا کاشتکار شوگر ملز کے رحم وکرم پر ہوتا ہے کیونکہ اس کی سال بھر کی فصل کے سب سے بڑے خریدار یہی ہیں لیکن یہاں بھی ناخواندہ کسانوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کاشتکاروں کو ایک طرف گڑ بنانے سے قانونی طور پر منع کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی تمام فصل شوگر ملوں کی دہلیز پر ہی نچھاور کریں۔

اب یہاں ان کے ساتھ دہرا ظلم یہ ہوتا ہے کہ اول تو انھیں سرکار کی طرف سے مقرر کردہ نرخ پورا نہیں ملتا، دوئم شوگر ملز کا کنڈا ناقص ہے یعنی صحیح تول نہیں ملتا اور اس پر مزید زیادتی یہ کہ گنے کی ٹرالیاں ہفتہ ہفتہ ملز کے باہر کھڑی رکھی جاتی ہیں تاکہ گنے کا وزن مزید کم ہو جائے۔ اور اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ کہ ادائیگی بھی بروقت نہیں ہوتی بلکہ کئی کئی مہینے کاشتکار کو پھیرے ڈلوائے جاتے ہیں لیکن گنے کی رقم نہیں ملتی۔ اس زیادتی کا مداوا صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ گنے کے کاشتکاروں کو خود گڑ بنانے کی اجازت دیدی جائے جس کی وجہ سے وہ شوگر ملوں کے تسلط سے خود بخود آزاد ہو جائیں گے۔ لیکن اکثر اوقات کسانوں کو گڑ بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ایک مزید قدغن اس طرح لگائی جاتی ہے کہ کاشتکاروں کو اپنی فصل دوسرے ضلع میں منتقل کرنے کا اختیار بھی نہیں دیا جاتا ،گویا کسانوں کو پوری طرح باندھ کر مارا جاتا ہے۔

عمران خان نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو سندھ میں شوگر مافیا کے خلاف پوری قوت سے احتجاج کرنے اور کسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہدایت کی ہے۔ پارٹی رہنمائوں کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھرپور آواز اٹھانے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاشتکاروں کے مفادات کا پہلے بھی تحفظ کیا ہے آیندہ بھی کریں گے' کاشتکاروں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی قبول نہیں۔بہرحال باتیں تو سب کرتے ہیں لیکن اصل کام نہیں کیا جاتا، آزاد منڈی کے اصول کے مطابق اگر شوگر ملز کو اپنی ضرورت اور مارکیٹ کے ریٹ کے مطابق گنا خریدنے کی آزادی ہے تو پھر کاشتکاروں کو بھی گڑاور چینی بنانے کی اجازت دی جانی چاہیے، اس کے علاوہ کسانوں کو گنا ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں لے جاکر فروخت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، اگر حکومت کسی ایک فریق کے مفاد کے لیے کام کرے گی تو لازمی بات ہے کہ دوسرے فریق کے ساتھ زیادتی کرے گی۔