5 ہزار ٹن چاول کوٹہ کیلیے ملائیشیا پر دباؤ ڈالا جائے جاوید غوری

حکومت ملائیشیا کے ساتھ تجارت متوازن بنانے کیلیے بات کرے، چیئرمین رائس ایکسپورٹرز


Business Reporter March 17, 2013
ملائیشین قونصل جنرل سے ملاقات، پاکستانی چاول کے کوٹے ودیگر امور پر بات چیت۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین جاوید علی غوری نے وزارت تجارت اور اسکے ماتحت ادارے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملائیشیا میں پاکستانی برانڈڈ چاولوں کا 5000 ٹن کاکوٹہ حاصل کرنے کیلیے ملائیشیا کی حکومت اوروہاں کے ادارے ''برناس'' کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کی حکمت عملی مرتب کرے کیونکہ پاکستانی چاول کے برآمدکنندگان ملائیشیا کی مارکیٹ میں بہترین معیار کے برانڈڈ چاول برآمد کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ملائیشیا کے قونصل جنرل ابوبکر مامت سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان میں ملائیشیا سے تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کاپام آئل درآمد کیا گیا جبکہ رواں سال میں اب تک ملائیشیا سے مزید1.4 ارب ڈالر کاپام آئل درآمد ہوچکا ہے، اس کے برعکس پاکستان سے ملائیشیا کے لیے سال 2007 سے 2012-13 کے دوران صرف 25 کروڑ40 لاکھ ڈالر مالیت کے چاولوں کی برآمدات ہوئی ہیں جن میں 4 کروڑ80 لاکھ ڈالر مالیت کا 59 ہزار ٹن باسمتی چاول جبکہ20 کروڑ70 لاکھ ڈالر مالیت کا 57 ہزار ٹن نان باسمتی چاول شامل ہے۔



جاوید غوری نے کہا کہ پاکستان اورملائیشیا کے درمیان باہمی تجارت کے عمل میں تجارت کا توازن ملائیشیا کے حق میںہے لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ وہ تجارتی لین دین متوازن کرنے کے لیے ملائیشیا کے حکومتی ادارے ''برناس'' سے پاکستانی برانڈڈ چاولوں کے لیے کم سے کم 5000 ٹن کا کوٹہ مختص کرنے کے لیے نہ صرف موثر انداز میں بات چیت کرے بلکہ اس ضمن میں سفارتی ذرائع کو بھی استعمال میں لائے۔

انہوں نے کہا کہ ملائیشیا اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیے ویتنام سے 49 اور تھائی لینڈسے 35 فیصد جبکہ پاکستان سے صرف 16فیصد چاول درآمدکررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں تعینات ملائیشین قونصل جنرل ابوبکرمامت سے پاکستانی برانڈڈ رائس کے درآمدی کوٹے سمیت دیگر امورپرتفصیلی بات چیت ہوئی لیکن یہ معاملہ حکومتی سطح پر ہی حل ہوسکتا ہے۔