جاپان آبادی کی شرح میں اضافے کے بجائے کمی

ایشیائی اورافریقی ممالک کےبرعکس کئی یورپی ممالک کوبھی آبادی میں اضافہ تودرکنارالٹاکمی کاسنگین مسئلہ درپیش ہے


Editorial December 24, 2017
ایشیائی اورافریقی ممالک کےبرعکس کئی یورپی ممالک کوبھی آبادی میں اضافہ تودرکنارالٹاکمی کاسنگین مسئلہ درپیش ہے . فوٹو : فائل

لاہور: جنگ عظیم دوئم کے زمانے میں ایٹم بم کا انتہائی گہرا زخم کھانے والا ملک جاپان جہاں صنعت و ٹیکنالوجی میں ترقی کے ایسے عروج پر پہنچ گیا کہ ترقی یافتہ یورپ اور امریکا بھی اسے حسرت سے دیکھنے لگے مگر اس تعمیر و ترقی کے ساتھ ہی اس کی پہلے سے ہی کم آبادی مزید کمی کا شکار ہونے لگی ہے۔

ایشیائی اور افریقی ممالک کے برعکس کئی یورپی ممالک کو بھی آبادی میں اضافہ تو درکنار الٹا کمی کا سنگین مسئلہ درپیش ہے مگر جاپان کی آبادی بڑھنے کے بجائے الٹا پہلے سے بھی کم ہونا شروع ہو گئی ہے جو اس ذہین و فطین قوم کے لیے بے حد پریشانی کا مسئلہ ہے۔ برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جاپان کے گزشتہ ایک صدی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ آبادی میں اضافہ کی شرح صفر سے بھی نیچے گر گئی ہے۔

2017ء میں جاپان میں پیدا ہونیوالے بچوں کی مجموعی تعداد نو لاکھ اکتالیس ہزار بتائی گئی ہے۔ جاپان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی آبادی سکڑ کر رہ گئی ہے۔ بہت سے یخ بستہ یورپی ممالک میں آبادی کے اضافے کے لیے نوبیاہتا جوڑوں کو مختلف حوالوں سے ترغیبات دی جاتی ہیں یعنی زچہ کے لیے پورے ایک سال کی پوری تنخواہ اور تمام مراعات کے ساتھ چھٹی جب کہ خاوند بھی تین ماہ کی تعطیلات سے متمتع ہو سکے گا۔ اس انداز سے وہاں آبادی کم ہونے کے بجائے ایک جگہ پر ٹھہر گئی ہے۔

اگرچہ جاپان میں بھی اسی طرح کی سہولتیں اور ترغیبات موجود ہیں مگر ان کا نتیجہ آبادی میں اضافے کی صورت میں نہیں نکل رہا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کی طرف سے زیادہ آبادی والے ممالک پر آبادی کو کم کرنے پر اس بناء پر زور دیا جاتا ہے کہ آنے والے زمانے میں یہ ممالک اپنی آبادی میں اضافہ کی بناء پر کم آبادی والے مغربی ممالک پر حاوی نہ ہو جائیں۔ یوں دیکھا جائے تو غریب ممالک میں افزائش آبادی بڑا مسئلہ ہے جب کہ متمدن اور ترقی یافتہ ممالک میں آبادی میں کمی مسئلہ بن رہی ہے۔