ایندھن کی ملک گیر ترسیل کے لیے تیل پائپ لائن منصوبہ

پاکستان میں 10 ہزار سے زائد ٹینکرز تیل کے مواصلاتی نظام کا حصہ ہیں


Editorial December 24, 2017
پاکستان میں 10 ہزار سے زائد ٹینکرز تیل کے مواصلاتی نظام کا حصہ ہیں . فوٹو فائل

ایندھن کا ذخیرہ بڑھانے اور عمومی و جنگی صورتحال میں تیل کی ملک گیر ترسیل کو محفوظ رکھنے کے لیے پاک عرب وائٹ آئل موٹر گیسولین پائپ لائن پراجیکٹ کا سنگ بنیاد گزشتہ روز کراچی میں رکھا گیا، اس منصوبہ کے تحت 26 انچ قطر کی 786 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے کراچی کے قریب پورٹ قاسم سے مظفر گڑھ کے قریب محمود کوٹ تک پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کی جائے گی، پائپ لائن کے راستہ میں تین پمپنگ اسٹیشنز اور پورٹ قاسم، شکارپور اور محمود کوٹ میں ٹرمینلز اسٹیشن بنائے جائیں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ روڈ حادثات اور تیل سے بھرے ہوئے کنٹینرز کو پیش آنے والے سنگین واقعات کے پیش نظر اس بات کی ضرورت تھی کہ پٹرول، ڈیزل اور تیل کی دیگر مصنوعات کی بحفاظت ترسیل کو حتمی طور پر فالٹ فری اور یقینی بنایا جائے، اس کے لیے دنیا بھر میں پائپ لائنوں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے لیے ٹینکروں کی بڑی تعداد نظام میں ہونے سے حادثات کا خطرہ ہی لاحق نہیں رہتا تھا بلکہ بہاولپورکے قریب ہونے والا حادثہ اس کی المناک مثال ہے جس میں 200 سے زائد قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، پھر تسلسل سے کئی حادثے ہوئے، بلاشبہ پائپ لائن منصوبہ انسانی تحفظ کے حوالہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے.

اس وقت پاکستان میں 10 ہزار سے زائد ٹینکرز تیل کے مواصلاتی نظام کا حصہ ہیں اور ان کے معیار کے بارے میں اگرچہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے تشویش کا اظہار بھی کیا ہے، تاہم تیل کی ترسیل میں معاون ٹرانسپورٹرز توانائی کی ترسیل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کا لاجسٹک کنٹری بیوشن رہا ہے، لہذا نئے انتظام کی صورت میں انہیں کسی پریشانی یا تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ یہ متبادل سسٹم ایمرجنسی میں بھی کام آئیگا جب تک کہ منصوبہ مکمل نہیں ہوجاتا۔