ہماری کتابوں میں تاریخ مسخ ہے نصاب درست کرنا چاہیے ڈاکٹرمہدی

مدرسے میں ٹیکنالوجی لائی جائے، ابتسام الٰہی، ہمارا تعلیمی نظام کنفیوژن پیدا کرتا ہے، ایاز امیر.


Monitoring Desk March 17, 2013
ہمارا مسئلہ رول آف لا ہے، سلمان بٹ، خودی ڈبیٹس سیاہ وسفید شو میں منیزے جہانگیر سے گفتگو۔ فوٹو : ایکسپریس

ماہر تعلیم ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ہے کہ ہماری کتابوں میں تاریخ مسخ ہے،ہمیں اپنا نصاب درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ہمارے اساتذہ کی وہ تربیت ہی نہیں ہے کہ جس کے ذریعے وہ ہمارے نوجوانوں کو بیرونی دنیا سے مسابقت کیلیے تیار کر سکیں۔ ایکسپریس نیو زکے پروگرام خودی ڈبیٹس سیاہ و سفید شو میں میزبان منیزے جہانگیر سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ہم نے تاریخ کے نام پر اپنی خواہشات مذہب، عقیدے اور خواب لکھے ہوئے ہیں ۔



جب ہم اسلامی مملکت کی بات کرتے ہیں تو جمہوریت کی نفی کرتے ہیں یا تو ہم جمہوری ریاست ہو سکتے ہیں یا پھر اسلامی ریاست ہو سکتے ہیں ۔ ہمیں اپنے بچوں کو سچ بتانا چاہیے ، نعروں پر نہیں لگانا چاہیے ۔ قائداعظم ؒ کی پہلی کابینہ میں وزیرقانون ہی جوگندر ناتھ تھے ۔ جمعیت اہلحدیث کے رہنما ابتسام الٰہی نے کہا کہ ہم ٹیپو سلطان کو ہیرو سمجھتے ہیں لیکن کچھ ان کو جنگجو کہتے ہیں جن کو آجکل دہشت گرد بھی کہا جاتا ہے۔

ہمارے نصاب میں تشنگی ہے ، ٹیکنالوجی کو مدرسے میں لانے کی اشد ضرورت ہے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز امیر نے کہا کہ جو لوگ مغرب پر تنقید کرتے ہیں ان کے بچے مغربی اسکولوں میں پڑھتے ہیں ۔ ہماری کتابوں میں تعٖصب کی باتیں ہیں جبکہ بھارتی کتابیں سیکولر ہیں، ہمارا تعلیمی نظام کنفیوژن پیدا کرتا ہے، ہمیں سنگل سسٹم آف ایجوکیشن بنانا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے رہنماحافظ سلمان بٹ نے کہا کہ ہمارا مسئلہ نظام تعلیم نہیں رول آف لا ہے ۔لفظ جہاد کے معنیٰ کسی کام کیلیے کوشش کرنا ہے اور یہ کوشش تعلیم کے میدان میں بھی ہو سکتی ہے۔