ہندکو عالمی کانفرنس

ہندکو والوں کو شاید اس کا احساس ہوا ہے اور وہ اپنی سی کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔


Saad Ulllah Jaan Baraq December 26, 2017
[email protected]

پشاور میں ہندکو عالمی کانفرنس اختتام پذیر ہوئی اور سنا ہے کہ بڑی اچھی اورکامیاب کانفرنس ہوئی اس لیے تھوڑا سا افسوس ہوا کہ ہم اس میں شرکت نہ کرسکے وجہ وہی ہے کہ

بندگی میں بھی وہ آزاد و خود بیں ہیں کہ ہم

الٹے پھر آئے درکعبہ اگر وا نہ ہوا

کسی نے بلایا نہیں تھا اور ہمارے دادا کا ایک قول زریں ہے کہ ایسی ویسی دعوت پر ہم اپنے گھر میں بھی کھانا نہیں کھاتے تو کہیں اور کیا آئیں گے ،کانفرنس کے کرتا دھرتاؤں میں ہمارے اکلوتے ڈاکٹر دوست عدنان محمودگل کا نام سرفہرست تھا اور ڈاکٹر عدنان ڈاکٹروں میں ابھی تک ''انسان'' ہی ہیں، یوں کہئے کہ آدم خوروں کے جزیرے میں واحد سبزی خور اور اس پر ہم اہل ھندکوکو مبارک باد دیتے ہیں کہ ان کو ڈاکٹر عدنان محمود گل جیسا در نایاب نصیب ہوا ہے بلکہ ھندکو والوں سے ہم نے کہا بھی ہے کہ تم ہمیں ڈاکٹر عدنان دے دو ہم تمہیں دس بیس ''ڈاکٹر'' پروفیسر وغیرہ دے دیں گے لیکن بڑے سیانے ہیں راضی نہیں ہو رہے ہیں۔

غالباً کانفرنس میں ہمیں نہ بلانے کی وجہ ہماری ''بری شہرت'' ہے جو اب پاکستان کی سرحدوں سے نکل کر دوردور تک پھیل چکی ہے کہ ہم ''مقالے'' کا نام آتے ہی سو جاتے ہیں، برا ہو نئی ایجادات کا کہ تقریبات میں ہماری خوابیدہ تصاویر بھی مشتہر ہو جاتی ہیں اور وہ کلیہ بلکہ تحقیق بھی کہ ہمارے خیال میں آج کل مقالہ جات صفحوں کے حساب سے نہیں بلکہ ملی گراموں کے حساب سے لکھے جاتے ہیں، دس سے پچیس ملی گرام تک خواب آور مقالہ جات نوآموز اور تازہ تازہ واردان بساط ہوائے تقریبات لکھتے ہیں، پچیس سے پچاس ملی گرام تک کا مقالہ وہ ڈاکٹر پروفیسر اور اسکالر لکھتے ہیں جو ابھی کسی ادبی تعلیمی یا تحقیقی محکمے کی ملازمت پر ہوتے ہیں جب کہ پچاس سے سو ملی گرام کے مقالے بھوت دانشور لکھتے ہیں جو کسی بھی محکمے سے ریٹائرمنٹ کی موت مرکر بھوت بن چکے ہوتے ہیں۔

چونکہ ملازمت کے دوران ان کی قوم سے ''خواہش انتقام'' ادھوری رہ چکی ہوتی ہے اس لیے وہ دانشور، مفکر اور تجزیہ نگار محقق وغیرہ بن کر قوم سے مقالات کے ذریعے انتقام لیتے ہیں۔ چونکہ اکثر تقریبات میں ہم یہ دیکھ بلکہ بھگت چکے ہیں اس لیے ہم نے اپنے اندر ایسی مشینری فٹ کی ہوئی ہے کہ ادھر مقالہ شروع ہوتا ہے اور ادھر ہمارے پپو ٹے بھاری ہونے لگتے ہیں۔ غالباً ہماری یہ بری شہرت ھندکو والوں کو بھی پہنچ چکی ہوگی کہ ہم ایسی کانفرنسوں میں خراٹے مارکر دوسرے سونے والوں کو ڈسٹرب کرتے ہیں، اس لیے نہیں بلایا ہو گا۔

اور پھر ڈاکٹر عدنان گل سے تصدیق بھی ہو گئی کہ واقعی مقالہ جات سنانے والے بڑے بڑے ڈاکٹر پروفیسر اسکالر اور دانشور ہی تھے گویا صرف ہم پشتو والے اس نعمت سے بہرور نہیں بلکہ ''چچا زاد بھی فیل ہو گیا ہے''

اس تمہید کے بعد اب اصل موضوع پر آتے ہیں، دنیا میں جب سے گلوبل ویلج کے چرچے ہونے لگے ہیں تب سے بعض زبانوں کے سر پر ''معدومیت'' کی تلوار لہرانے لگی، بہت ساری زبانیں معدوم بھی ہو چکی ہیں کچھ معدومیت سے دو چار ہیں اور کچھ ابھی ڈینجر زون سے باہر ہیں لیکن جلد یا بدیران کو بھی خطرہ ہے۔ اور ہمارے خیال میں ہندکو بھی ان زبانوں میں شامل ہے جو ڈینجر زون میں پہنچ چکی ہے کچھ تقدیم و تاخیر سے خطرہ پشتو کو بھی ہے بلکہ اور بھی بہت ساری زبانوں کو ہے۔

ہندکو ذرا زیادہ خطرے میں اس لیے ہے کہ بنیادی طور پر یہ شہری زبان ہے، پشاور شہر کے اکثر محلے خالص ہندکو زبان اور مخصوص کلچر کے مراکز تھے اب بھی کسی حد تک ہیں لیکن ملک میں اور پھر خاص طور پر پشاور میں مسلسل نئے نئے لوگوں کی آمد، جن میں زیادہ تر وہ قبائلی لوگ شامل ہیں جن کے پاس نہ جانے کہاں سے بے پناہ دولت آگئی ہے، ان کے اپنے اپنے علاقے چونکہ پسماندہ بھی ہیں اور بڑی حد تک خطرناک اور غیر محفوظ بھی ہیں ، اب ایک حلال کی روزی کمانے والا پرانی طرزکا شہری جس کا کاروبار بھی سمٹ کر چھوٹی دکانداریوں میں بدل رہا ہے اگر اسے اپنے چھوٹے سے گھر میں منہ مانگی قیمت مل رہی ہو تو وہ زبان اور کلچر کو کیا کرے گا۔ رقم لے کر اپنے تنگ مکانوں سے حیات آباد اور دیگر ماڈرن اور کھلی آبادیوں میں اس کے لیے خاص کشش ہوتی ہے اور نئی آبادیوں میں ضروری نہیں ہے کہ اس کے پڑوسی اور قرب و جوار کا ماحول اس کا ''ہم زبان'' ہو۔

ہم پورا حساب کتاب تو نہیں جانتے لیکن یہ سلسلہ گزشتہ نصف صدی سے برابر چل رہا ہے اور پشاور شہر کی خالص ہندکو آبادی برابر یہاں وہاں بکھر رہی ہے یہاں تک کہ کراچی لاہور اور اسلام آباد کو بھی منتقل ہو رہی ہے۔

اوپر سے ان نودولیتوں کے آج کل نئی نئی کالونیوں ٹاؤن شپ اور رہائشی منصوبے بھی بڑے مقبول ہو رہے ہیں، ساتھ پراپرٹی کا کاروبار بھی زوروں پر ہے جن کے چالاک اور چرب زبان لوگ پتھر پر بھی جونک لگانے کے ماہر ہوتے ہیں، ہمارا اندازہ ہے کہ اگر یہ صورت حال جارہی ہے تو ہندکو زبان اور شہری کلچر کو ہر گز نہیں بچایا جا سکے گا۔ اس کے مقابلے میں چترالی اور کوہستانی زبانیں زیادہ محفوظ ہیں، پشتو بھی فی الحال تو خطرے میں نظر نہیں آتی لیکن خطرہ برابر آگے بڑھ رہا ہے بلکہ ہمارا تو یہ اندازہ ہے کہ پاکستان میں ایک اور ''اردو'' زبان تیزی سے رائج ہو رہی ہے جو مروجہ اردو پنجابی سندھی اور پشتو کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

یہ نئی اردو یا اردو +انگریزی+ علاقائی زبانیں بڑی تیزی سے بن رہی ہیں جو ارد گرد کی مقامی زبانوں کے علاوہ پرانی اور مروجہ اردو کو بھی نگل کر ''جزوبدن'' بنا رہی ہے اور چونکہ یہ اونچی سوسائٹی اور مقتدر اشرافیہ میں بن رہی ہے اس لیے اس کا روکنا بھی ناممکن ہے۔ ہندکو والوں کو شاید اس کا احساس ہوا ہے اور وہ اپنی سی کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں، بد قسمتی یہ ہے کہ صرف ہندکو ہی نہیں بلکہ پشتو اور دوسری علاقائی زبانیں بھی ''ذریعہ آمدن'' نہیں ہیں اور اس کمرشلائزڈ معاشرے میں ان کے پاس کچھ مخلص لوگوں کے جذبات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔