شمالی وزیرستان میں3ایف سی اہلکاروں کی شہادت

شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کاقبضہ توختم ہوگیا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دہشتگردوں کےایجنٹ موجودہیں


Editorial December 26, 2017
شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کاقبضہ توختم ہوگیا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دہشتگردوں کےایجنٹ موجودہیں ۔ فوٹو : آئی ایس پی آر : فائل

شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایف سی کے 3اہلکار شہید ہوگئے، آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان کے علاقہ دیور گر میں فوجی اہلکاروں کی نقل و حرکت سے پہلے روڈ کلیئرنس کے لیے جانے والی پارٹی کو سڑک پر مشکوک چیز نظر آئی جسے ناکارہ بنانے کے لیے بم ڈسپوزل پارٹی کوشش میں مصروف تھی کہ اچانک بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا جس میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین جوان شہید ہوگئے۔ ادھر لوئر اورکزئی ایجنسی کے علاقہ اتمان خیل میں ہینڈ گرنیڈ پھٹنے سے 7 بہن بھائی زخمی ہوگئے۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا قبضہ تو ختم کر دیا گیا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دہشت گردوں کے ایجنٹ موجود ہیں جو ریاستی آبادیوں میں ہی رہ رہے ہیں' بارودی سرنگ کا بچھایا جانا' اس امر کا ثبوت ہے کہ کچھ لوگ پیسے کے لالچ میں یا انتہا پسند نظریات کے زیر اثر ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بن رہے ہیں' ایسے عناصر کا پتہ لگانا اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانا انتہائی ضروری ہے' بہر حال پاک فوج اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان علاقوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بلاشبہ پاک فوج نے فاٹا کو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیا ہے لیکن ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ فاٹا کی مختلف ایجنسیوں میں طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افراد کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا' ان لوگوں کو پکڑنے کے لیے پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

اس کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کی بھی تربیت کرنی ہو گی' اس طریقے سے ہی فاٹا سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ڈیورنڈ لائن کو فول پروف بنانے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔ بلاشبہ اس مسئلے پر بھی خاصی مشکلات موجود ہیں لیکن پاکستان کی بقا اور تحفظ کے لیے پاکستان کو آؤٹ آف دی وے جا کر بھی کام کرنا پڑے تو اس میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔