دسویں عالمی اردوکانفرنس کا شاندار اختتام

بلاشبہ اردو کے ارتقا اور وسعت کے لیے اہل قلم ، اہل فکر ، شعرا اور ادیبوں نے بے مثال کردار ادا کیا ہے۔


Editorial December 27, 2017
بلاشبہ اردو کے ارتقا اور وسعت کے لیے اہل قلم ، اہل فکر، شعرا اور ادیبوں نے بے مثال کردار ادا کیا، فوٹو: ایکسپریس

لاہور: کراچی آرٹس کونسل میں دسویں عالمی اردو کانفرنس اختتام پذیر ہوئی، مجبوراً ہمیں ''اختتام'' کا لفظ لکھنا پڑتا ہے لیکن حقیقت میں ہم اسے اختتام نہیں بلکہ ایک نئے بیانیے کا آغاز زبان وتہذیب کے حوالے سے رشتے کو مضبوط کرنے کا سبب جانتے ہیں۔ منتظمین بلاشبہ مبارکباد کے مستحق ہیں، جنھوں نے اردوادب کے جگمگاتے ستاروں کی کہکشاں سجائی، علم وادب سے وابستہ افراد کا اجتماع تھا اوروہ علم وحکمت کے موتی بکھیر رہے تھے۔

اردو زبان سے محبت،چاہت اور الفت رکھنے والے عوام نے اس کانفرنس میں بھی بہت دلچسپی لی ۔ کانفرنس میں واقعی اردو کا معجزہ اور کرشمہ نظر آیا۔ مختلف عنوانات کے تحت جو سیشن منعقد ہوئے اور اس میں اہل علم وادب نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ نہ صرف گرانقدر ہیں بلکہ سنہری حروف سے لکھے جانے اور عوام کی زبان و ادب سے رغبت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ جیسے شمیم حنفی نے کہا کہ وہی تنقید اچھی اور بامقصد ہے جو تخلیقی لوگوں نے لکھی ہو۔ یعنی انھوں نے نقاد کے لیے ایک اچھا تخلیق کار ہونے کی ضرورت و اہمیت کو اجاگرکیا ۔کانفرنس میں جاپانی ادیب ہیروجی کتائیو نے اردو میں خطاب کیا۔انھوں نے ثقافت اوراردو ادب پر ساٹھ سے زائد تحقیقی مقالے لکھے ہیں ۔

غالب ، اقبال، فیض اور منٹو کے تراجم جاپانی زبان میں کیے ہیں ۔نظم ونثر کی تمام اصناف پر گفتگو کے لیے مختلف معلوماتی سیشن تھے جن کی تفصیل میں جائیں تو سیکڑوں صفحات درکار ہوں گے ۔ نعت لکھنے والا اپنے پورے وجود کی سچائی سے نعت لکھتا ہے۔ یہ کہنا تھا افتخارعارف کا ۔کشور ناہید چاہتی تھیں کہ تخلیقی ادب پر کھل پر بات کی جانی چاہیے ۔ موضوع تھا '' ہمارا ادبی وسماجی تناظر اور خواتین کا کردار'' نسائی ادب کے ارتقاء پر سیر حاصل گفتگو ممتاز اہل قلم خواتین نے کی ۔

'اردو شاعری ایک مطالعاتی تناظر'' پر بھی نشست ہوئی۔'اردو کی نئی بستیاں اور تراجم کی صورتحال'' کے موضوع پر ہمیں نوید سنائی گئی کہ دنیا میں اردو زبان تیزی سے پھیل رہی ہے اور دریا غیر میں اردوکا مستقبل بہت روشن ہے ، مغربی معاشرے میں مصروف رہنے کے باوجود وہاں اردو زبان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ بلاشبہ اردو کے ارتقا اور وسعت کے لیے اہل قلم ، اہل فکر ، شعرا اور ادیبوں نے بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ زبان علم وادب سے محبت کرنیوالی یہ کانفرنس دراصل انسان دوستی کا مظہر تھی جوکہ ادب کا اولین اصول قرار پاتا ہے ۔ اس کانفرنس کو اسی پیرائے میں دیکھنے ، سمجھانے ، سمجھنے اوراس کے پیغام کو پھیلانے کی ضرورت ہے ۔