بازاری ڈانس شامل کرنے سے کمرشل تھیٹر نائٹ کلب بن گیا فنکار

کمرشل تھیٹر کے نام پر بازاری ڈانس ہورہا ہے جس کا نتیجہ بھیانک نظر آرہا ہے، فنکاروں کا ایکسپریس سے اظہار خیال


Cultural Reporter March 18, 2013
اچھا تھیٹر اس لیے نہیں ہورہا اس کے پیچھے کوئی پروڈیوسر بلکہ انویسٹر ہے ۔، فنکاروں کا ایکسپریس سے اظہار خیال فوٹو: فائل

کمرشل تھیٹر میں بازاری ڈانس شامل کرکے اسے نائٹ کلب بنا کر رکھ دیا ہے' جہاں اب شرفاء کی بجائے مخصوص لوگ ہی آرہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار فنکاروں نے ''ایکسپریس سروے'' میں کیا۔ رفیع پیر تھیٹر کے روح رواںعثمان پیرزادہ نے کہا کہ تھیٹر کی بہت ساری اصناف ہیں جن میں سنجیدہ ،کلاسیکل،کامیڈی، ڈانس اور کمرشل سمیت دیگر شامل ہیں۔ لیکن آج کمرشل تھیٹر کے نام پر بازاری ڈانس اور بھانڈ بازی ہورہی ہے جس کا نتیجہ انتہائی بھیانک نظر آرہا ہے۔اجوکا تھیٹر کی مدیحہ گوہر نے کہا کہ آرٹ کی پروموشن کے لیے بنائے گئی آرٹس کونسلوں میں بھی وہی کچھ ہورہا ہے جو کمرشل تھیٹر کے نام سے پرائیویٹ تھیٹرز میں دکھایا جارہا ہے۔

4

ان اداروں کی یہ مہربانی ہے کہ وہ کبھی کبھار ہمیں پرل تھیٹر اور آرٹ کے حوالے سے ہونیوالے پروگراموں کے لیے ہمیں ہال دے دیتے ہیں۔اداکار وہدایتکار عرفان کھوسٹ نے کہا کہ حکومت اگر لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلیاں لانا چاہتی ہے اور وہ اس پر فخرکریں تو پرل تھیٹر کو پروموٹ کیا جائے کیونکہ تھیٹر کے ذریعے لکھاری بہت ساری باتیں بڑی آسانی اورکامیابی سے لوگو ں تک پہنچا سکتا ہے۔ کامیڈین افتخارٹھاکرنے کہا کہ اچھا تھیٹر اس لیے نہیں ہورہا اس کے پیچھے کوئی پروڈیوسر بلکہ انویسٹر ہے ۔

اداکارہ وہدایتکارہ ثمینہ احمد نے کہا کہ پرل تھیٹر کی پروموشن کے لیے حکومتی سرپرستی بہت ضروری ہے۔ اداکارہ خوشبو نے کہا کہ اگر کمرشل تھیٹر اچھا نہیں ہورہا تو پھر عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ڈرامہ دیکھنے ہی نہ آتے۔اداکار سخاوت ناز نے کہا کہ بہتری لانے کی باتیں کرنیوالوں نے ہمیشہ اس کے خلاف ہی بات کی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس کی خامیوں کی نشاندہی کرکے اس کے حل کے لیے تجاویز دیں۔

مقبول خبریں