ہیڈ کوچ پر الزام لگانے والی 2 ویمن ہاکی پلیئرز معطل

جسمانی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کے ٹھوس ثبوت نہ دے سکیں،فیڈریشن


Sports Reporter December 27, 2017
خاتون کھلاڑی سیدہ سعدیہ نے صوبہ پنجاب کے وزیر کھیل کو تحریری طور پر اپنی شکایت سے آگاہ کیا تھا۔ فوٹو: فائل

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہیڈ کوچ پر جسمانی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی 2خواتین کھلاڑیوں کو معطل کر دیا۔

ہاکی فیڈریشن کے سربراہ شہباز احمد نے کہا کہ تحقیقات کرنے والی کمیٹی میں شامل تمام ممبران خواتین تھیں اور ہم ان کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ سے مطمئن ہیں،انھوں نے کہا کہ میں نے تمام خواتین پر مشتمل ایک اور کمیٹی اسی لیے بنائی تاکہ کسی قسم کے امتیازی سلوک کی بات نہ ہو سکے،وہ لڑکیاں اپنے الزامات کے ٹھوس ثبوت بھی نہ دے سکیں بلکہ عینی شاہدین نے بات کی تائید بھی نہیں کی۔

یاد رہے کہ خاتون کھلاڑی سیدہ سعدیہ نے صوبہ پنجاب کے وزیر کھیل کو تحریری طور پر اپنی شکایت سے آگاہ کیا تھا،انھوں نے الزام لگایا تھا کہ ہیڈ کوچ سعید خان نے مجھے رات کے وقت اسٹیڈیم سے جانے کو کہا، بدتمیزی کی اور پیچھا کرتے ہوئے میرے کمرے تک پہنچ گئے، وہاں میرا بازو پکڑ لیا اور چند خواتین کھلاڑیوں کو جو میری مدد کو آرہی تھیں وہیں روک دیا جب کہ اس تحریری شکایت میں اقرا جاوید کا نام بطور عینی شاہد لیا گیا تھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی خواتین وِنگ کی انچارج تنزیلہ چیمہ کمیٹی کی ممبر بھی تھیں، وہ بطور گواہ پیش ہوئیں،انھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ہیڈ کوچ کو جسمانی تشدد کرتے نہیں دیکھا لہذا خواتین کھلاڑیوں کے الزامات 'بے بنیاد' ہیں جب کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ایک، ایک سال کی پابندی کے فیصلے اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو کھلاڑی سیدہ سعدیہ نے مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیسے کر لیا گیا؟ ہمیں دو مرتبہ تحقیقات کے لیے بلایا ہم نے سب بتایا اور وہاں سر سعید (ہیڈ کوچ) کو تو بلایا ہی نہیں گیا، یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں؟ یہ توپلیئرز کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوئی۔سعدیہ نے کہاکہ وہ اس فیصلے کے خلاف جہاں تک ان کے گھر والے مدد کریں گے آگے جائیں گی۔

واضح رہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے سیدہ سعدیہ اور اقرا جاوید کو 'بے بنیاد' الزامات لگانے کا قصور وار اور ہیڈ کوچ سعید خان کو بے قصور قرار دیا تھا، ساتھ ہی پی ایچ ایف سے سفارش کی تھی کہ دونوں خواتین کھلاڑیوں پر ایک، ایک سال کی پابندی لگائی جائے جسے منظور کر لیا گیا۔