بے نظیر کی کمی محسوس ہوتی رہے گی

شہید بی بی کا عزم مسلح مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف مزاحمت سے تعبیر تھا،آصف علی زرداری


Editorial December 27, 2017
شہید بی بی کا عزم مسلح مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف مزاحمت سے تعبیر تھا،آصف علی زرداری۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی 10ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی، اس سلسلے میں ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے قافلے گڑھی خدابخش پہنچے، لاہور اور دیگر شہریوں سے بھی خصوصی ٹرین کے ذریعے جیالے اپنی لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے وہاں موجود تھے ، حکومت سندھ نے بینظیر بھٹو شہید کی برسی پر عام تعطیل کی منظوری دی۔

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے10ویں یوم شہادت کے موقعے پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جن کا پاکستان کے لیے وژن ایک جدید اور ترقی پسند ریاست کا تھا اور ان کا عزم مسلح مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف مزاحمت سے تعبیر تھا۔

درد ناک حقیقت یہ ہے کہ بے نظیر کی شہادت سے ملک ایک مدبر، عالمی امور و ایشوز پر گہر نظر رکھنے والی سیاست دان سے محروم ہوگیا جسے اہل پاکستان مختلف سیاسی ، نظریاتی اور مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے مکالمہ کے فورمز پر دنیا کے سامنے بڑے اعتماد سے پیش کرسکتے تھے مگر دہشتگردوں نے انھیں شہید کردیا اور ستم یہ کہ 10برس گزر جانے کے بعد بھی ان کے قاتل بے نقاب نہ ہوسکے،ان کی شہادت نے ایک طرف قوم کی سائیکی پر مندمل نہ ہونے والے زخم لگائے دوسری جانب ملکی سیاسی صورتحال ان کے سیاسی منظر نامے سے ہٹائے جانے سے لے کر آج تک سنبھل نہ سکی، ملک کو اعصاب شکن چیلنجز کا سامنا ہے اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور جیالے آیندہ الیکشن میں ایک بڑے مینڈیٹ سے کامیابی کی توقعات کے ساتھ گڑھی خدا بخش کے جلسہ گاہ میں موجود تھے۔

بے نظیر کو دوبار حکومت ملی ، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انھیں فری ہینڈ نہیں ملا، اگر ملتا تو پاکستان بحرانوں کی نذر نہ ہوتا بلکہ بے نظیر اپنی سفارت کارانہ چابکدستی، باریک بینی، استقامت، وژن، دور اندیشی ، عالمی سیاست کے نشیب و فراز سے اپنے گہرے ادراک اور اسلامی دنیا سے قریبی تعلقات اور دوطرفہ وابستگی سے ملک کو دہشتگردی کے عفریت سے محفوظ کر لیتیں۔مگر افسوس انھیں جمہوریت دشمن قوتوں ، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کی ملی بھگت سے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ فہمیدہ حلقوں نے بے نظیر حکومت کے دونوں ادوار میں حکومت مخالف سیاسی جوڑ توڑ کی غیر جمہوری کوششوں کے پیچھے ایسے عناصر کی نشاندہی کی جنہیں بے نظیر کو ہر قیمت پر سیاست سے آؤٹ کرنا تھا۔ تاہم وہ نواز شریف سے میثاق جمہوریت کا معاہدہ کرکے امر ہوگئیں، سیاسی اور جمہوری قوتیں آج بھی اسی میثاق جمہوریت پر عمل کی منتظر ہیں۔