وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج کا دورانیہ 38 سے کم کرکے 30 دن کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے


Editorial December 27, 2017
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج کا دورانیہ 38 سے کم کرکے 30 دن کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔فوٹو: فائل

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم کی زیرصدارت منعقد ہوا، اس اجلاس کی جوتفصیلات سامنے آئی ہیں، اس کے مطابق اجلاس میں فاٹا اصلاحات کمیٹی کا نام تبدیل کرکے قومی عملدرآمد کمیٹی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ عملدرآمد کمیٹی تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر حتمی مسودہ تیارکرے گی۔ اس کمیٹی میں آرمی چیف، گورنر اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کورکمانڈر الیون کور، وزیر دفاع اورکورکمانڈر پشاور کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یقیناً قدم بقدم اصلاحات کی جانب بڑھنا اس لیے خوش آیند قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ فاٹا کے عوام کا مطالبہ بھی ہے، وہ پاکستان کے ساتھ جینا اور مرنا چاہتے ہیں ۔ بظاہر تو ایسا ہوتا ہے ،کسی بھی مسئلے پر کمیٹی بنا دی جاتی ہے تو وہ معاملہ طول پکڑ جاتا ہے ، امید واثق ہے کہ کم ازکم یہ کمیٹی ایسا ہرگز نہیں کرے گی ۔جتنی جلد ممکن ہوسکے ان اصلاحا ت کا مسودہ مکمل کرکے قومی اسمبلی میں پیش کرکے منظور کروایا جائے کیونکہ فاٹا کی خیبرپختون خوا اور پاکستان میں شمولیت ملکی استحکام کا باعث بنے گی ۔یہ توقع منظر عام پر آنا بھی خوش آیند ہے کہ حکومت آٹھ جنوری سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل پیش کردے گی۔

دوسری جانب اسی اجلاس میں وفاقی کابینہ نے متعدد ترامیم کے ساتھ حج پالیسی کی منظوری بھی دی ہے، جو نمایاں نکات سامنے آئے ان کے مطابق حج کا دورانیہ 38 سے کم کرکے 30 دن کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ وزیراعظم نے حج اخراجات کوکم کرنے کی ہدایت کی۔ حج ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے ، بلاشبہ اس مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے جانے والے عازمین حج کو سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے جس حج پالیسی کا اعلان کی جاتا ہے ۔

اس کے مندرجات پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں، کیونکہ حج، عمرہ ٹریول ایجنٹس بڑی بڑی بولیاں لگا کر باقاعدہ ''کوٹہ'' حاصل کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی خاطر جس طرح عازمین اور زائرین کو لوٹتے ہیں اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ غیر معروف اور ناکارہ ائیر لائنزکی کنیکٹنگ فلائٹس جوکہ مکہ پہنچانے میں اٹھارہ سے بائیس گھنٹے لیتی ہیں ، خانہ کعبہ اور روضہ رسول سے دو سے تین کلومیٹر دور رہائش دینا،انتہائی خستہ حال عمارتوں میں ٹھہرانا، فیملیز کو چادر لگا کر مشترکہ کمرے دینا، زیارت نہ کروانا، الغرض کوئی پرسان حال نہیں ہوتا عازمین حج اور عمرہ زائرین کا۔ٹریول ایجنٹس سے بازپرس کرنا وزارت مذہبی امور کی ذمے داری ہے جو وہ ادا نہیں کرتی ۔