یورپی یونین کے سفیروں کی بزنس کونسل کے ممبران سے ملاقات

براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، یورپی مارکیٹ تک آسان و بروقت رسائی سے متعلق بات چیت۔


Business Reporter March 19, 2013
براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، یورپی مارکیٹ تک آسان و بروقت رسائی سے متعلق بات چیت۔ فوٹو: فائل

یورپی یونین کے رکن ممالک سے متعلقہ سفیروں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کی۔

ملاقات کا مقصد پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے سازگار ماحول کی تشکیل اور ملکی برآمدات کی بڑے پیمانے پر یورپی مارکیٹ تک آسان و بروقت رسائی کیلیے نتیجہ خیز مذاکرات کرنا تھا۔ اس موقع پر پاکستان میں نامزد برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن نے پاکستان بزنس کونسل کے وفدکو خوش آمدید کہا اور یورپی یونین کے ممبران ممالک کی پاکستان کے ساتھ مثالی و برادرانہ تعلقات پر خصوصی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین سکندر مصطفی خان نے کہا کہ تمام تر مشکلات اور دگرگوں حالات کے باوجود پاکستان براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کیلیے ایک محفوظ ترین ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور مالی وکاروباری ثمرات کے اعتبار سے خطے کی دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے ہم پلہّ و مساوی ہے اور خطے کے دیگر ممالک کے برعکس بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے کارو باری و تجارتی اداروں کے خلاف قطعی امتیاز نہیں برتتا۔ جی ایس پی اور یورپی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین پاکستانی درخواست پر مثبت طور پر غور کرے گا۔



اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں تجارتی و کاروباری ماحول کی درستگی کے حوالے سے بیشمار محدود مدّتی اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں جن کے طفیل دونوں خطّوں کے مابین باہمی تجارتی تعلقات وسیع طور پر فروغ پاسکیں گے۔ اختتام اس بات پر کیا گیا کہ آئندہ آنیوالی حکومت کے دور میں بھی یورپی یونین اور پاکستان بزنس کونسل پاک یورپی تعلقات کی ترویج و توسیع میں بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

پاکستان بزنس کونسل کا وفد سکندر مصطفی خان ، عبد الرزاق داؤد، علی حبیب، آصف سعد، عاطف اسلم باجوہ، بشیر علی محمد، احسان ملک، حسین داؤد، میاں محمد منشاء، سینٹر عثمان سیف اللہ، اور پی بی سی کے سی ای او کامران مرزا پر مشتمل تھا۔