محاذ آرائی کی نئی شکل

ہمارے ملک کی جمی جمائی اشرافیائی سیاست کو تہہ و بالا کرنے کا ایک خطرناک عنصر عمران خان کی شکل میں داخل ہوا ہے


Zaheer Akhter Bedari January 04, 2018
[email protected]

ہر ملک اپنے قومی اداروں کے پیروں پر کھڑا رہتا ہے ،ان اداروں میں عدلیہ سب سے اہم ترین ادارہ ہے۔ جمہوری ملکوں میں اس ادارے کا ہر صورت میں احترام کیا جاتا ہے، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا ملک اپنی 70 سالہ تاریخ میں 35 سال آمریت کے سائے میں بے زبان بنا رہا اور 35 سال اس جمہوری حکمرانی کے زیر تسلط رہا جو اپنے کردار میں آمر حکومتوں سے بدتر رہی ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہر جمہوری ملک میں اسٹیبلشمنٹ منتخب حکومت کے تابع رہتی ہے لیکن ہماری قومی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ منتخب حکومتوں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے سول حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان روایتی توازن درہم برہم ہوکر رہ گیا، اس کمزوری کو دورکرنے کا مثبت طریقہ یہ تھا کہ حکومت اپنی گورننس کو بہتر بناتی اور کرپشن کے چنگل سے نکل آتی لیکن ہوتا یہ رہا کہ حکومتیں خود احتسابی کے بجائے محاذ آرائی پر اتر آئیں۔

ہمارے ملک کی جمی جمائی اشرافیائی سیاست کو تہہ و بالا کرنے کا ایک خطرناک عنصر عمران خان کی شکل میں داخل ہوا ہے ۔ عمران کی باغیانہ روش نے اشرافیہ کی نیندیں حرام کردی ہیں، 70 سال سے ملک میں حکومت اور اپوزیشن دونوں اشرافیہ پر ہی مشتمل رہی ہیں اور ان کے اختلافات طبقاتی مفادات کے تابع رہے اور سیاسی محاذ پر حکومت اور اپوزیشن مفاہمتی سیاست کے نام پر اپنے طبقاتی مفادات کا تحفظ کرتی رہیں جس کی ایک نمایاں مثال سابق حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت کو پوری کرنے کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ لیکن 2014 سے اشرافیائی سیٹ اپ کے سر پر جو خطرہ سوار ہو گیا ہے اس کی وجہ 70 سالہ سیٹ اپ درہم و برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ سیاسی اختلافات تو رہے لیکن ایسی محاذ آرائی اور دشمنی میں نہیں بدلے جیسی آج نظر آرہی ہے نہ عدلیہ کو کسی محاذ آرائی میں اس طرح گھسیٹا گیا جیسا آج گھسیٹا جا رہا ہے۔

پاناما کیس کے حوالے سے نواز شریف کی نااہلی نے ہماری سیاست میں عدلیہ کو ایک ایسا فریق بنا دیا ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے ملک کے مستقبل سے بے نیاز گروہوں نے تنقید شروع کردی ہے۔ عدلیہ کی توہین سیاسی کارکن اس طرح کرنے لگے ہیں جیسے وہ اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے نہیں بلکہ سیاسی حریفوں کے حوالے سے تنقید کر رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ دیگر جمہوری ملکوں میں بھی عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کی جاتی ہے لیکن یہ تنقید قانون اور انصاف کے دائرے میں رہ کر کی جاتی ہے اور اخلاق کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑا نہیں جاتا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری متاثرہ سیاسی جماعتیں نہ قانون اور انصاف کے حوالے سے عدلیہ پر تنقید کر رہی ہیں نہ اخلاقی حدود میں رہ کر تنقید کی جا رہی ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں ہی میں نہیں بلکہ پسماندہ ملکوں میں بھی عدلیہ کا احترام کیا جاتا ہے کیونکہ ان ملکوں میں جمہوری روایات جمہوری اخلاقیات مضبوط ہیں ،بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں 70 سالوں سے اشرافیہ ملکی سیاست اور اقتدار پر اس طرح قابض ہے کہ قانون انصاف اور اخلاقیات کو اس نے اپنے پیروں کی دھول بناکر رکھ دیا ہے، یہ بداخلاقی اس لیے کی جا رہی ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں سے ایک مڈل کلاس کا سیاستدان ان کے مقابلے میں کھڑا ہو رہا ہے اور سیاسی اشرافیہ سیاست میں اپنی اجارہ داری ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتی ہے اگر ایک مڈل کلاس شخص کے بجائے اشرافیہ کا کوئی سپوت ان کا حریف ہوتا تو اس قدر طوفان بدتمیزی برپا نہیں کیا جاتا۔

ہر ملک میں چند قومی ادارے ایسے ہوتے ہیں جن کی بنیادوں پر ملک کھڑا ہوتا ہے ان اداروں میں عدلیہ سب سے اہم قومی ادارہ ہوتا ہے جس کا احترام ملک کے ہر شہری پر لازم ہوتا ہے اگر اس ادارے کا احترام ختم ہوجاتا ہے تو ملک کا برقرار رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ بدقسمتی نہیں بلکہ المیہ ہے کہ ہمارے خودغرض سیاستدانوں نے اس محترم ادارے کو محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر بے توقیر کرکے رکھ دیا ہے۔ چونکہ پاناما لیکس کے حوالے سے حکومت عدلیہ کے فیصلوں کی زد میں ہے اس لیے عدلیہ پر حکومت کی قہرمانیاں جائز ہوگئی ہیں۔

عدلیہ پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس کے فیصلے کسی اسکرپٹ کے مطابق ہوتے ہیں اور اس سے زیادہ توہین آمیز الزام لگائے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ بعض انسانی حقوق اور جمہوریت کے شیدائی بھی عدلیہ کے کردار کو سمجھے بغیر عدلیہ کے فیصلوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ عدلیہ کے فیصلوں کو ملک کی 70 سالہ المناک تاریخ کے پس منظر میں دیکھنے کی زحمت نہیں کی جا رہی ہے۔ 70 سال سے یہ ملک ایسی اشرافیہ کی گرفت میں ہے جسے نہ عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے نہ ملک کے مستقبل سے نہ جمہوریت کے مستقبل سے۔ اس کی پہلی اور آخری ترجیح اقتدار ہے اور اقتدار پر اس کی گرفت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ غیر جمہوری حکومتیں بھی اس کی حمایت اور تعاون کے بغیر نہیں چل سکتی تھیں۔ ایسی بے لگام اشرافیہ سے کیا عوام کو نجات دلانا ضروری نہیں؟ اگر عدلیہ اس بے لگام اشرافیہ کو لگام دے رہی ہے تو کیا اسے غلط یا جانبداری کہا جاسکتا ہے؟ کیا عدلیہ کے سوا کوئی ایسا سول ادارہ ہے جو اقتدار سے چمٹی ہوئی اقتدار مافیا سے عوام کو نجات دلادے؟

اشرافیہ کے شہزادے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سیاستدانوں کا احتساب الیکشن کے ذریعے عوام کرتے ہیں اور اسی حوالے سے یہ فرما رہے ہیں کہ اب فیصلے سڑکوں اور گلیوں میں عوام کریں گے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہماری اشرافیہ اس حقیقت کو فراموش کر رہی ہے کہ پچھلے 70 سال سے براہ راست اور بالواسطہ حکومت میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل حل کرنے میں مجرمانہ کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس مجرمانہ کردار کی وجہ سے عوام ہر قیمت پر اس سے نجات چاہتے ہیں۔ کیا ہماری اشرافیہ عوام کے اس ڈر سے ناواقف ہے؟ اگر کوئی ادارہ عوام کو اس عذاب سے نجات دلا کر مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو آگے لانا چاہتا ہے تو کیا عوام اس اقدام کی مخالفت کریں گے یا حمایت کریں گے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی نہ کسی مثبت شکل میں بہت جلد عوام کے سامنے آجائے گا۔ ہماری مقتدر اشرافیہ بار بار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ عوام کی طاقت سے اس سازش کو ناکام بنادے گی جس کا مقصد اس سے اقتدار چھیننا ہے اور دعویٰ یہ کر رہی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں عوام اسے ایک بار پھر اقتدار میں لاکر اس سازش کو ناکام بنا دیں گے جو ''جمہوریت'' کے خلاف کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس بدقسمت ملک میں کبھی جمہوریت رہی ہی نہیں۔ دوسری تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر 2018 میں الیکشن ہوئے تو اشرافیہ کی یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی کہ عوام اس ممکنہ الیکشن میں اسے ووٹ دے کر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔ گھوڑا اور میدان سامنے ہے۔

مقبول خبریں