مارکیٹ حرکیات تبدیل پاکستان میں روئی کی تجارت بند

کاٹن امپورٹ ٹیکس فری،بھارتی روئی بھی کراچی پہنچ گئی،روپے کی قدر میں کمی، بھاؤ پر بے یقینی چھاگئی


Business Reporter January 07, 2018
تاجروں کوبھارتی وامریکی پیشکشیں پرکشش نہیں،نئی پیشرفت کے قیمتوں پراثرات دوایک روزمیں واضح ہونگے،جنرز۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

مارکیٹ حرکیات تبدیل ہونے کے نتیجے میں قیمتوں کے متعلق بے یقینی کے باعث پاکستان کی تمام کاٹن مارکیٹوں میں روئی کی خرید و فروخت عملاً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

بھارتی کاٹن کی آمد اور کپاس کی درآمد پر مختلف ڈیوٹیاں اور ٹیکسوں کے ختم ہونے سے مارکیٹ حرکیات تبدیل ہونے کے نتیجے میں قیمتوں کے متعلق بے یقینی کے باعث پاکستان کی تمام کاٹن مارکیٹوں میں روئی کی خرید و فروخت عملاً معطل ہو کر رہ گئی ہے، چونکہ فیصلے کااطلاق پیر سے ہوگا اس لیے روئی کی مقامی قیمتوں پر اس کے اثرات اسی دن معلوم ہو سکیں گے مگر بھارت اور امریکا میں روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ اپٹما کی اپیل پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جمعہ کو روئی کی درآمد پر عائد 9 فیصد ڈیوٹی و سیلزٹیکس 8 جنوری سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بھارت سے ابتدائی طور پر 1 ہزار 800 گانٹھ روئی کراچی پہنچ چکی ہے، آئندہ ہفتے بھارت سے مزید روئی کراچی پہنچنے کی اطلاعات ہیں جس کے باعث پاکستان بھر میں روئی کی خریدوفروخت معطل ہونے سے کاٹن جنرز میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ بھارتی ایکسپورٹرز پاکستانی درآمدکنندگان کو 1 سے 1.5 سینٹ اضافے سے 87.50 سینٹ فی پاؤنڈ جبکہ امریکی برآمد کنندگان 95 سینٹ فی پاؤنڈ کی پیشکشیں کر رہے ہیں جو پاکستانی درآمد کنندگان کے لیے بظاہر پرکشش نظر نہیں آ رہی اس لیے مذکورہ عوامل کے روئی کی مقامی قیمتوں پر اثرات آئندہ چند روز میں واضح ہوں گے۔

یاد رہے کہ مذکورہ فیصلے سے قبل پاکستان میں روئی 8 ہزار سے 8 ہزار 100 روپے فی من فروخت کی جا رہی تھی اور اس میں مزیداضافے کی توقع تھی، دوسری طرف روپے کی بے قدری بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے، اگر ڈالر کے مقابل روپے کی قدر گری تو نرخ بڑھ سکتے ہیں۔

 

مقبول خبریں