اذیت ناک تشدد کا سلسلہ
تشدد ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ دنیا کی تقریباً ڈیڑھ سو کمپنیاں تشدد کے آلات تیار کر رہی ہیں۔
KARACHI:
انتہائی تشدد کے ذریعے ہلاک کرنے کا سلسلہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ بادشاہ ان لوگوں کو عبرت ناک سزا دیا کرتے تھے جنھیں وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ بیسویں صدی کے اوائل تک مخالفین یا باغیوں کو سرعام بھیانک تشدد کے ذریعے ہلاک کرنے کا عمل جاری رہا۔
انسان کی تشدد پسندی اور ایذا دہی کے جذبے نے ہمیشہ زیادہ سے زیادہ اذیت و عذاب پہنچانے کی نت نئی ترکیبیں ایجاد کیں، انھیں اپنے ہی جیسے انسانوں پر آزمایا اور خود کو تسکین پہنچائی۔ شاید جہنم میں بھی وہ سزائیں روا نہ رکھی جا ئیں جو انسانوں نے مجرموں اور قاتلوں کے لیے روا رکھیں اور جنھیں معصوم افراد پر بھی آزمایا گیا۔
آج تمام دنیا کے مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کی شدید ترین اور بھیانک موت جس کا مقدر بنی اس کا نام رابرٹ فرانکوئس ڈامائنز تھا۔ اس نے شاہ فرانس لوئی پانز دہم پر 5 جنوری1757ء کی سہ پہر ایک ناکام قاتلانہ حملہ کیا۔
لوئی پانز دہم ایک کمزور، فضول خرچ اور عیاش بادشاہ تھا۔ اسے فرانسیسی عوام کی بہبود و بہتری سے زیادہ اپنی محبوبہ کے آرام و آسائش کی فکر لاحق تھی۔ عوام پر لگائے گئے ٹیکسوں کو دوگنا کر دیا گیا تھا تا کہ عیش و عشرت میں دولت کی کمی خلل انداز نہ ہونے پائے۔
ڈامائینز فرانس کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے شروع میں فرانسیسی فوج میں کام کیا اور اس کے بعد وہ امراء اور شرفاء کے خدام کے زمرے میں شامل ہو گیا۔ لیکن امراء اور برسراقتدار طبقے کی عادات و حرکات نے اسے اس طبقے سے انتہائی نفرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کا خون ان لوگوں کو دیکھ کر کھولتا جو اپنے عیش و آرام کی خاطر فرانس کو قعر مذلت میں دھکیلنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس نفرت کا اس پر یہ ردعمل ہوا کہ اس نے ''سرپھروں'' کی ایک جماعت تیار کر لی اور خود اس جماعت کا سربراہ بن گیا
جس کے بعد وہ ''فرانس کا رابن ہڈ کہلایا جانے لگا۔ ''سرپھروں'' کی اس جماعت کو تیار کرنے کے بعد اس نے امراء کے گھروں میں بڑے بڑے ڈاکے ڈالے اور برسراقتدار طبقے کا جینا حرام کر دیا۔
1757 کے اوائل میں ڈامائینز کو یہ اطلاع ملی کہ شاہ لوئی پانزدہم ورسائی کے عظیم الشان محل میں قیام پذیر ہے تو وہ 4 جنوری1757 کو وہاں جا پہنچا۔ دوسرے دن وہ صبح سے محل کے ارد گرد منڈلاتا رہا۔ کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ شاہ پر قاتلانہ حملہ کر کے اسے خوفزدہ کر دے۔
شاہی گاڑی جب آہستگی سے محل کے صدر دروازے سے باہر نکلی تو ڈامائینز اپنی کمین گاہ سے اچھلا اور شاہ کو آن دبوچا، اس نے چاہا کہ وہ شاہ کے پہلو میں خنجر اتار دے لیکن شاہی محافظ دستے نے اسے گاڑی سے کھینچ کر اتار لیا اور اسے گرفتار کر لیا۔
شاہ لوئی پانز دہم کو چند نہایت معمولی خراشیں آئیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ اگر وہ چاہتا تو باآسانی شاہ لوئی پانزد دہم کو موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا لیکن اس نے شاہ کو قتل کرنے گریز کیا۔
ڈامائینز کو ایک کال کوٹھری میں رکھا گیا اور اس عرصے میں فرانسیسی ایوان حکومت میں اس بات پر بحث کی جاتی رہی کہ اسے اس کے جرم کی پاداش میں کیا سزا دی جائے۔ مرکزی حکومت کے اہلکار محسوس کر رہے تھے کہ اگر ''سرپھروں'' اور عوام کے سامنے ڈامائینز کو بھیانک سزا نہ دی گئی تو ہر طرف سے ہنگامے اٹھ کھڑے ہوں گے اور پھر یہ ہنگامے دبائے نہ دبیں گے۔
آخر کار اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ڈامائینز کے زندہ جسم کو چار مضبوط اور توانا گھوڑوں سے باندھ کر کھنچوایا جائے یہاں تک کہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
ڈامائینز کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے 18 مئی کی تاریخ منتخب کی گئی اور اس تاریخ کو بہت زیادہ مشتہر کیا گیا تاکہ عوام کی کثیر تعداد اس سزا کو انجام پاتے دیکھ سکے۔ عوام کے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے چاروں طرف مضبوط اور بلند شہتیروں کو گاڑ دیا گیا اور بیچ میں ایک اونچا پلیٹ فارم بنادیا گیا۔
وہ مقام جہاں ڈامائینز کو سزا دی جانے والی تھی وہاں لگ بھگ بیس ہزار لوگ جمع تھے۔ ڈامائینز کو دو پہیوں والی گاڑی میں کھینچ کر لایا گیا اور پھر جلاد اسے گاڑی سے اتار کر کھینچتے ہوئے پلیٹ فارم تک لے گئے۔
پلیٹ فارم کے ایک کونے میں چند برتن رکھے ہوئے تھے جن میں سے ایک میں کھولتی ہوئی موم، دوسرے میں درختوں سے نکالی ہوئی رال، تیسرے میں ابلتی ہوئی گندھک اور چوتھے برتن میں پگھلا ہوا سیسہ بھرا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے برتن میں دہکتے ہوئے چھوٹے چھوٹے چمٹے رکھے ہوئے تھے۔
دو آدمیوں نے ڈامائینز کا سیدھا بازو مضبوطی سے پکڑا اور تیسرے نے دہکتے ہوئے چمٹوں کا ایک جوڑا نکال کر اس کے بازوئوں پر رکھ دیا۔اس کے بعد ڈامائینز کے زخموں میں کھولتی موم ڈالی گئی۔ اس کے بعد رال، پھر ابلتی ہوئی گندھک اور آخر میں دہکتا ہوا سیسہ پلایا گیا اور یہ تمام مراحل بہت اطمینان اور آہستگی سے طے کیے گئے تاکہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچ سکے۔
باوجود یہ کہ ڈامائینز کی عمر 42 برس ہو چکی تھی پھر بھی وہ ایک ناقابل تسخیر قوت ارادی کا مالک تھا۔ اس کی جسمانی قوت و طاقت پر اس زمانے کے نوجوان رشک کیا کرتے تھے۔ اس تمام ظلم و ستم کے دوان اس نے کسی قسم کی کمزوری نہ دکھائی۔ آخر اس بات کی تیاری شروع ہوگئی کہ اب آخری پروگرام کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے اور ڈامائینز کے زندہ جسم کو گھوڑوں کے حوالے کر دیا جائے تاکہ اس کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔
تمام زنجیریں جو اسے جکڑے ہوئے تھیں، انھیں ڈھیلا کر دیا گیا۔ اور اس کے جسم کو پلیٹ فارم پر پھیلا دیا گیا اور چار گھوڑے مع سواروں کے پلیٹ فارم پر پہنچا دیے گئے۔ بہت ہی مضبوط رسیاں ڈامائینز کی کہنیوں اور اس کے گھنٹوں کے جوڑوں سے ذرا اوپر کو انتہائی مضبوطی سے باندھ دی گئیں اور پھر ان رسیوں کو گھوڑوں سے منسلک زنجیروں میں باندھ دیا گیا۔
بیس ہزار کا زبردست مجمع خاموش کھڑا تھا۔ ڈامائینز پر سکون نظر آ رہا تھا۔ گھوڑوں کے ذریعے انسانی جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کا عمل اس طرح انجام پانا تھا کہ چاروں سوار اپنے افسر اعلیٰ کے اشارے پر اپنے گھوڑوں کو چاروں مختلف سمتوںمیں بھگاتے اور اس طرح چند لمحوں کے اندر ہی قیدی کا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا، لیکن ڈامائینز کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔
اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ وہ جسمانی طور پر بہت طاقتور تھا اور دوسرے اہم بات یہ تھی کہ وہ گھوڑے جو اس کام کے لیے منتخب ہوئے تھے وہ مضبوط اور طاقتور تو یقیناً تھے لیکن تربیت یافتہ نہ تھے۔ انھیں اتنے بڑے مجمع کے درمیان اس قسم کے کام کرنے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ وہ اپنے سواروں کے ہر حکم پر گھبرا گھبرا کر دولتیاں مارتے اور الف ہوجاتے۔
آخر کار جلاد اعلیٰ نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ چونکہ ڈامائینز ان گھوڑوں کے لیے بہت مضبوط ثابت ہوا ہے اس لیے ہمیں گھوڑوں کی مدد کرنی پڑے گی اور اس کے احکام کے مطابق ایک دھار دار خنجر سے اس کے شانوں، کولہوں اور پیروں کے عضلات کو کاٹ دیا گیا اور پھر چند لمحوں بعد گھوڑوں نے اس کے جسم کو ایک جھٹکا دیا تو اس کا جسم بکھر کر رہ گیا اور ڈامائینز کی کہانی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد ڈامائینز کے جسم کے ٹکڑے اکٹھا کیے گئے اور ان میں آگ لگادی گئی اور اس طرح تاریخ کی سب سے زیادہ بھیانک سزا اپنے اختتام کو پہنچی۔
صنعتی انقلاب برپا ہوا اور ریاستیں خود کو مہذب کہنے لگیں لیکن بھیانک تشدد اور سزائوں کا عمل کم یا ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔ جدید دورکی فاشسٹ حکومتوں، فوجی ڈکٹیٹروں اور آمروں نے تشدد کے دائرے کو بہت پھیلا دیا۔ لوئی پانز دہم کے دور میں تشدد کا دائرہ محدود تھا۔ ہمارے اس ''مہذب دور'' میں لوگوں کو رنگ، نسل، زبان، قومیت، نظریے، مذہب اور مسلک کی بنیاد پر لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔
ہزاروں سال تک انسانوں نے دوسروں سے بدلہ لینے، اپنی طاقت کا اظہار کرنے، انحراف و اختلاف کرنے والوں کی رائے کو کچلنے کے لیے ریاستی سطح پر تشدد کا جو مظاہرہ دیکھا ہے اس کے بعد عام لوگوں کی نفسیات میں اذیت پسندی پیدا ہو گئی ہے۔ کمزور طبقوں پر کھلے عام تشدد کے مظاہرے ہم روز و شب دیکھتے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ تشدد ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ دنیا کی تقریباً ڈیڑھ سو کمپنیاں تشدد کے آلات تیار کر رہی ہیں۔ ان میں سے نصف کا تعلق دنیا کی عظیم جمہوریت امریکا سے ہے اور ان کی فروخت سے کروڑوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ دنیا میں جمہوری زمانہ بھی آ گیا لیکن اذیت ناک تشدد کا سلسلہ ختم ہونے کے بجائے کہیں زیادہ دراز ہوتا چلا جا رہا ہے۔