احمدی نژاد کی گرفتاری

سابق ایرانی صدر احمدی نژاد پر عوام کو مظاہروں پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے


Editorial January 09, 2018
سابق ایرانی صدر احمدی نژاد پر عوام کو مظاہروں پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

ایران میں حالیہ دنوں میں خاصے پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں' اس بحرانی کیفیت میں نئی پیشرفت سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی ہے جن پر عوام کو مظاہروں پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کچھ ایسی ہی نوعیت کا الزام مذہبی و سیاسی رہنما مہدی کروبی اور سابق وزیراعظم میر حسین موسوی پر بھی عائد کیا گیا ہے اور انھیں نظربند کر دیا گیا ہے۔

حکومت مخالف مظاہروں میں نوجوان طلباء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی' یہ مظاہرین مہنگائی' بے روز گاری کے خاتمے اور عوامی فلاحی اقدامات کرنے کے مطالبات کرتے ہیں' میڈیا کی اطلاعات کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی خاص طور پر روٹی کی قیمت میں اضافے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور حکومتی اقدامات سے ستائے عوام سڑکوں پر نکل آئے' اس تحریک کو نوجوان طلباء کی شمولیت سے مہمیز ملی جس کے بعد حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی۔ یہ مزاحمتی تحریک ایران کے متعدد صوبوں تک پھیل گئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف حکومت مخالف ان مظاہروں کے پیچھے امریکی ہاتھ کا الزام لگا رہے ہیں۔ ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے اور دونوں صدیوں کے تہذیبی و ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایران میں ہونے والی گڑ بڑ پر پاکستان کو بھی تشویش ہے۔جہاں تک امریکی مداخلت کا معاملہ ہے تو اس عنصر کو رد نہیں کیا جا سکتا ،امریکا پاکستان کی بھی امداد بند اور مذہبی آزادی کے حوالے سے واچ لسٹ میں شامل کرکے اسے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے،ممکن ہے کہ وہ ایران سمیت پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام پیدا کرکے پورے خطے کو عراق بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔

امریکی ریشہ دوانیوں کے اس تناظر میں بہتر ہے کہ ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا مناسب اور قابل قبول حل تلاش کرے تاکہ خطے کو کمزور کرنے کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ سابق صدر احمدی نژاد کی گرفتاری اور دیگر رہنماؤں کی نظربندی سے مسائل بڑھ سکتے ہیں لہٰذا اس صورت حال کو جلد از جلد ڈی فیوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سارے خطے کی صورتحال پرامن رہے۔