عراق پر حملہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا صدر اوباما

امریکی صدر پہلے بھی عراق پر حملے کیخلاف تھے اور اب بھی ان کی پوزیشن وہی ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس جے کارنے


News Agencies March 21, 2013
امریکی صدر پہلے بھی عراق پر حملے کیخلاف تھے اور اب بھی ان کی پوزیشن وہی ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس جے کارنے فوٹو: فائل

عراق میں تازہ بم دھماکوں کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 8 زخمی ہو گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق دھماکا بغداد سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر موصل میں ایک ریسٹورنٹ کے نزدیک ہوا جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے زخمیوں کو فوری طورپر اسپتال داخل کرادیا گیا۔ مجموعی ہلاکتیں 68 ہوگئیں، 90سے زائد زخمی ہیں، دہشت گردوں نے چھوٹے ہوٹلوں،مزدوروں کے مجمع اور بس اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا تھا۔



امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ عراق پر حملہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا، غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہائوس کے ترجمان جے کارنے نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صدر اوباما پہلے بھی عراق پر حملے کیخلاف تھے اور اب بھی ان کی پوزیشن یہی ہے کہ عراق پر حملہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا۔

ادھر بغداد میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی مشن جو کہ دنیا میں سب سے بڑا مشن ہے رواں سال کے اختتام تک اپنے عملے کے ارکان میں دو تہائی کمی کرکے اس تعداد کو 16000کی بلند ترین شرح سے کم کر رہا ہے بغداد میں امریکی سفارتخانے کے مجموعی کارکنان کی تعداد اور بصرہ کرد علاقے کے دارالحکومت اربل اور متنازعہ شمالی شہر کرکوک میں اس کے سفارتخانوں کی تعداد اور بشمول کنٹریکٹرز میں بھی رواں سال کے اختتام تک 5,500تک کم کردی جائے گی۔