عدالتی فعالیت اور چشم کشا حقائق

ہر جرم کی سزا کے لیے قوانین موجود ہیں ، ضرورت ان پر عملدرآمد کی ہے


Editorial January 09, 2018
ہر جرم کی سزا کے لیے قوانین موجود ہیں ، ضرورت ان پر عملدرآمد کی ہے۔ فوٹو: فائل

ملک طرز حکمرانی میں مضمر خرابیوں کی اصلاح اور عدلیہ و میڈیا کی فعالیت کے غیر معمولی دورانیے سے گزر رہا ہے ۔ عدالتی نگاہ کی وسعتوں سے سیاست، سماج، تعلیم، صحت، کاروبار، روزمرہ کے معاملات، وائٹ کالر و بہیمانہ جرائم، دہشتگردی اور انسانی تعلقات کار سے متعلق ہائی پروفائل کیسز کی سماعت جاری ہے اور بیڈ گورننس سے متعلق پوری سیاسی ، سماجی، معاشی اور انتظامی صورتحال پر عدالت عظمیٰ کی گرفت پہلے سے زیادہ موثر اور نتیجہ خیز تبدیلیوں کے اشارے دے رہی ہے، جب کہ بادی النظر میں ریاستی ،حکومتی اور دیگر انتظامی شعبوں کی تطہیر کے حوالے سے ایسے سیاسی معاملات بھی عدالتوں تک آپہنچے ہیں جن پر پارلیمنٹ میں بحث ہوتی تو زیادہ بہتر تھا، عدالتوں کا وقت ضایع نہ ہوتا۔

اگرچہ بعض حکومتی حلقوں کی طرف سے عدلیہ کے از خود نوٹسز اور انتظامی شعبوں کی عدم دلچسپی، بے حسی، فرائض منصبی کی عدم ادائیگی، روز افزوں گراوٹ، بد انتظامی، تساہل، کرپشن اور نااہلیت پر جوابدہی کے جاری احکامات پرخفگی اور برہمی کا اظہار کیا گیا ہے جو بلاجواز ہے کیونکہ بنیادی وجہ خود حکومتیں اور حکمران ہیں جو اختیارات کے ناجائز استعمال، مفاد پرستی، بے حسی ، بے عملی، پالیسیوں سے انحراف ، میرٹ کے قتل اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں عدم دلچسپی کی میراث کو جمہوریت کہتے ہیں جس کے ثمرات سے عوام ہر دور میں محروم رہے، عدلیہ عوام کی ان ہی محرومیوں کا ازالہ چاہتی ہے۔

حکومت کے ضمیر پر اس کے احکامات چابک کی طرح پڑتے ہیں، نوکر شاہی کی کرپشن ، وزرا کے اللے تللوں اور بے محابا کرپشن کی داستانوں کی میڈیا میں تشہیر سے شاید اشرافیہ کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے چاہے افتادگان خاک کا کوئی والی وارث نہ ہو، یہی مسئلہ کی اصل جڑ ہے ، عدلیہ کی آزادی اور اس کا احتساب وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے حکمرانی بے فیض اور حکمراں عوام سے دور ہوجاتے ہیں، عدالتی فعالیت وہ آنکھ ہے جو ادارہ جاتی جمود اوربد نظمی و بدعنوانی کو لگام دینے پر کمر بستہ ہوجاتی ہے،آج کی عدلیہ نظریہ ضرورت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، اسے قوم و ملک کی حالت زار اصلاح احوال کے لیے غیر روایتی اور جراتمندانہ فیصلوں کی طرف مائل کرتی ہے۔

اسی سیاق وسباق میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے پیر کو کراچی کے اسپتالوں کی حالت زار، صوبے کے میڈیکل کالجز میں داخلوں کے معاملات، اہم شخصیات کی آمدورفت پر روٹ لگا کر سڑکیں بند کرنے ، میڈیکل کالجوں اور جامعات کے معیار تعلیم، ملک بھرکی جیلوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹس طلب کرلی ہیں، چیف جسٹس نے کراچی کے اسپتالوں کی حالت زار اور صوبے کے میڈیکل کالجز میں داخلوں سے متعلق ازخودنوٹس کیس13جنوری بروز ہفتہ کراچی رجسٹر ی میں سماعت کے لیے مقررکرنے کی نہ صرف ہدایت کی ہے بلکہ سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ذاتی طور پر پیش ہوکر تفصیلی رپورٹس جمع کرانے کا پابند کیا ہے، ان میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سے اسپتالوں میں دستیاب سہولیات، ادویات کی فراہمی، زندگی بچانے والی اور مفت ادویات کی فراہمی سے متعلق رپورٹس جمع مانگی گئی ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بتایا جائے کونسی ادویات مفت ملتی ہیں اورکونسی مریضوں کو باہر سے خریدنا پڑتی ہیں۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کوکہا گیا ہے کہ ایمرجنسی مشینری، آلات، وینٹی لیٹر، آکسیجن انکیوبیٹرز، آپریشن تھیٹر سہولیات، انجیوگرافی، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، ایمبولینسزسمیت تمام دستیاب سہولیات کے بارے میں رپورٹس فراہم کی جائیں، مستند ڈاکٹرزاور نرسنگ اسٹاف کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عوام زندگی بچانے والی ادویات کی کمی اور ایمرجنسی آلات غیرفعال ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ملک بھرکی جیلوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس لیتے ہوئے چاروں صوبوں کے آئی جی جیل خانہ جات سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ذرایع کے مطابق چیف جسٹس نے تمام آئی جیزکو ہدایت کی ہے کہ تین دن میں رپورٹ پیش کی جائے ۔چیف جسٹس نے یہ از خود نوٹس ایک شہری کی درخواست پر لیا ہے۔ ادھر سپریم کورٹ نے سی ڈی اے قوانین میں عدم مطابقت دور کرنے کے لیے حکومت کو2ماہ کی مہلت دیدی جب کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ میں ایک ہفتے میں اصلاحات آنا شروع ہوجائیں گی، پھر کوئی یہ نہ کہے کہ ہم مداخلت اور اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالجز کو بڑے پیمانے پر لائسنس جاری کرنے اور داخلوں کے لیے سینٹرل ایڈمیشن پالیسی ختم کرنے کے خلاف پی ایم ڈی سی کی اپیل پر کونسل کے سابق نائب صدر ڈاکٹر عاصم حسین کو طلب کرلیا، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بنچ نے ان تمام نجی میڈیکل یونیورسٹیوں کی تفصیل طلب کر لی جو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو تسلیم کرنے کی مجاز ہیں۔ چیف جسٹس نے مدلل سوال اٹھایا کہ جب میڈیکل کالجز کا قیام ہی غلط ہوگا تو ماہر ڈاکٹر کہاں سے آئینگے، چاہتے ہیں ایسا حل نکلے جو شعبہ صحت کے لیے بہتر ہو۔ اے پی پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ گڑ بڑ کہاںہے، کتنی یونیورسیٹیوں کا قیام قانون کے مطابق ہوا ،ان میڈیکل یونیورسیٹیوں سے کتنے میڈیکل کالجز منسلک ہیں یہ کیس صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہے۔

دنیا بھر کی مہذب حکومتوں کے محکمے ، مرکزی ادارے،کاؤنٹیز، مقامی خود اختیار اکائیاں انتظامی سہل پسندی کے خلاف لڑ رہی ہیں، پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں کی افرادی طاقت مواقع نہ ملنے کے باعث بیرون ملک تلاش معاش کے لیے رخت سفر باندھتی ہے، ملک میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں عام آدمی کو حاصل ناکافی سہولتوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے، ججز یہی شکایت کرتے ہیں کہ علاج مہنگا ہے، سرکاری اسپتالوں میں دوائیں نایاب، زچہ اسپتال کے بیڈ سے محروم فٹ پاتھ پر بچہ کو جنم دیتی ہے، مسیحاؤں کی مجرمانہ غفلت سے مریض سسکتے ہوئے دم توڑ دیتے ہیں، فرسٹریشن نے معاشرہ کی گردن دبوچ لی ہے۔

انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے ہیں، سستا انصاف بھی میسر نہیں، پینے کا صاف پانی شہریوں کو دستیاب نہیں ہر شے میں ملاوٹ، جب کہ واٹر ٹینکر مافیا مادر پدر آزاد اور ہزاروں گیلن پانی کی فروخت سے کروڑوں کماتی ہے، حفظان صحت کی بنیادی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ ہے کہ تھمتا ہی نہیں، معیار تعلیم زوال پذیر ہے، طبی تعلیم اور جامعات کی تدریس کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے چیف جسٹس نے ملکی جامعات کی ڈگریوں اور نصابی تعلیم کی عالمی ساکھ پر جو حقائق بیان کیے ہیں وہ حد درجہ فکر انگیز ہیں، آخر کسی کو تو تباہی اور بربادی کے اس عمل کو روکنا ہوگا،اگر عوام کو لازمی طور پر ملنے والی بنیادی ضرورت کی فراہمی کا کوئی شفاف میکنزم نہ ہو پھر بھی بجٹ کے اربوں روپے فرضی کھاتوں اور سرکاری فائلوں میں دکھائیں جائیں تو پکڑ کیوں نہ ہو، کیا قومی خزانہ لوٹنے کے لیے ہے؟

یہ حقیقت ہے کہ حکمرانوں اور متعلقہ سرکاری محکموں اور ان کے سربراہوں کی سرزنش اور احتساب پر پیش رفت وقت کا تقاضہ ہے، کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا، گورننس میں شفافیت عدلیہ کی احتسابی فعالیت سے مشروط ہے، جو جرم کرے اسے قانونی پروسس کے تحت ہتھکڑی لگنی چاہیے، ہر جرم کی سزا کے لیے قوانین موجود ہیں ، ضرورت ان پر عملدرآمد کی ہے۔اب وقت آگیا کہ سیاسی قیادتیں عدلیہ اور جمہوری عمل میں مطابقت اور ہم آہنگی کے لیے ٹھوس اشتراک عمل کا نظام قائم کریں، جمہوریت صرف زیب داستاں کے لیے نہیں ہے ، یہ جامد نظام نہیں کہ اسے صرف حوالہ یا معذرت خواہی کا بہانہ بنایا جائے جب کہ عدلیہ اور فاضل چیف جسٹس کی ''فغان درویش '' عوام کے معیار زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی مسلسل جستجو ہے ۔ بدقسمتی سے جو کام اہل اقتدار کا ہے اسے عدلیہ سرانجام دینے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔اہل سیاست اس پر غور فرمائیں۔