کچھ شخصیات نے 600ارب کاٹیکس ری فنڈکرالیامانڈوی والا

ترقیاتی فنڈز کی مد میں وزارت خزانہ کا کام صرف فنڈز کا بندوبست کرناہوتا ہے


Monitoring Desk March 21, 2013
ڈالرپرمصنوعی کنٹرول نہیں کیا،نیلم جہلم پروجیکٹ پرتوجہ نہیں دی،کل تک میں گفتگو فوٹو : فائل

KARACHI: سابق وزیرخزانہ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کی مد میں وزارت خزانہ کا کام صرف فنڈزکابندوست کرنا ہوتا ہے۔

ہمیں علم نہیں ہوتا یہ کہاں خرچ کئے جائیںگے ۔ یہ تاثر غلط ہے کہ میں صرف بیٹھا ہوا تھا اور چیک لکھے جارہا تھا،ترقیاتی فنڈز کی مد میں پیسے کسی شخص کو نہیں جاتے وہ متعلقہ محکموں کے پاس رہتے ہیں ۔انھوں نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں کہاکہ لوڈشیڈنگ کم کرنے کے لیے2سو ارب روپے مختص کیے ہیں،پی ایس او کے واجبات میری آمد سے قبل ہی ادا ہوچکے تھے۔



 

اسوقت180 ارب روپے سرکلر ڈیٹ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ہم نے190 ارب ٹیکس وصول کیا لیکن 600ارب ری فنڈ کی مد میں واپس لے لیا گیا،ان میں صنعتکار اور کچھ سیاستدان شامل ہیں،جن کے نام میں نہیں لیناچاہتا۔سٹیل ملز کو14 ارب ،پی آئی اے کو12ارب، کراچی سرکلر ریلوے کو 30ارب کے پیکج دیے۔مانڈوی والا نے کہاکہ زرمبادلہ 13.2 ارب ڈالرہیں اور ماہانہ طلب3 ارب ڈالر ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے میں حکومت کا عمل دخل نہیں ۔

جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ڈالر62روپے کا تھا اوراسے مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا گیا تھا، ہم نے مصنوعی کام نہیں کیاکیونکہ اس کے نقصانات زیادہ تھے ۔کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ ہمارے دور میں معیشت خراب ہوئی بلکہ ہمارے دور میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ 1.7 سے بڑھ کر4 فی صدہوگیا ہے۔ ان کامزیدکہناتھاکہ اس وقت57 فی صد بجلی چوری ہورہی ہے جس کا بل غریب آدمی دے رہا ہے۔نیلم جہلم پروجیکٹ کو ہم نے روکا نہیں تھا،بس اس پرتوجہ نہیں تھی۔میرے علم میں ایسی خبر نہیں کہ لوگ پاکستان سے کاروبار بند کرکے کسی دوسرے ملک میں گئے ہوں، ہاں سرمایہ کاری باہر منتقل ہوئی ہے۔