’’آہوئے مشکین‘‘ اور پاکستانیوں کا المیہ
بظاہر یہ بات سیدھی سی لگتی ہے لیکن حقیقت میں یہ پوری جلیبی بلکہ جلیبیوں کی کڑاہی ہے
یہ دوسری قسط نہیں بلکہ الگ کالم ہے لیکن ایک دوسرے کالم سے اس کا تھوڑا سا تعلق ہے جس میں ''ہم'' کو ڈھونڈنے کی کچھ کوشش کی تھی لیکن ناکام ہونے پر غالب کا سہارا لے کر بات ختم کر دی تھی لیکن گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے موضوع کچھ تشنہ رہ گیا تھا، بات کو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھا کہ آخر یہ اپنے وطن کے سارے لوگ اس بے چارے ہم کے پیچھے کیوں لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں اور یہ جناب ''ہم'' ہیں کون؟ جو سنائی تو دیتا ہے لیکن دکھائی اور پکڑائی نہیں دے رہا ہے۔
ملک بھر کے قلم کار، کالم کار، کیمرہ کار، سیاست کار، کلاکار مطلب یہ کہ ''ہر ہر کار'' اسے ڈھونڈ رہا ہے اور اس کا کوئی پتہ سراغ نہیں مل رہا ہے، اگر آپ ہماری عقل کا ماتم کرتے ہوئے یہ کہیں کہ اس میں ڈھونڈنے کی کیا بات ہے یہ جو لوگ ''ہم ہم'' کر رہے ہیں یعنی ہم کہاں ہیں ہم کہاں کھڑے ہیں ہم کہاں جا رہے ہیں ہم کو کیا ہوا ہے، ہم یہ کیوں نہیں کر رہے ہیں، ہم وہ کیوں کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ... تو جب وہ خود ہی ''ہم ہم'' کر رہے ہیں تو ہم ان کو ''ہم'' کیوں نہیں مان رہے ہیں۔
وہی تو ہیں ''ہم'' ...بلکہ ''ہم ہی ہم ہم'' کہیں اور ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے ''ہم'' تو سامنے ہیں اور وہ خود کہہ بھی رہے ہیں کہ ''ہم'' بظاہر یہ بات سیدھی سی لگتی ہے لیکن حقیقت میں یہ پوری جلیبی بلکہ جلیبیوں کی کڑاہی ہے کیوں کہ یہ ہی اگر ''ہم'' ہیں جو ہم ہم کر رہے ہیں تو پھر دوسروں سے پوچھ پوچھ کر لوگوں کا دماغ کیوں کھا رہے ہیں۔ اس پیچیدہ صورت حال کو مزید پیچیدہ کرنے کے لیے ایک لطیفہ بھی ہے۔ ایک میلے میں ایک بچہ اپنے باپ سے بچھڑ گیا۔ دونوں ایک دوسرے کو ڈھونڈ رہے تھے۔ بچے نے ایک شخص سے پوچھا آپ نے میرے باپ کو تو نہیں دیکھا ہے۔ آدمی نے پوچھا، بھئی تمہارے باپ کی کوئی پہچان کوئی نشانی ... بچے نے کہا ہاں... اس کے ساتھ میں نہیں ہوں گا۔
پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
ہو نہ ہو یہ ''ہم'' کوئی اور ہے جسے یہ لوگ ڈھونڈ رہے ہیں، آخر یہ اتنے بڑے بڑے دانشور، زبردست قسم کے اینکر، عظیم الشان قسم کے تجزیہ نگار، ماہرین، لیڈران کرام اور رہبران عظام یونہی تو اس ''ہم'' کو ڈھونڈ نہیں رہے ہیں، ضرور یہ کوئی اور ہے جو فراری ہو چکا ہے اور اب یہ لوگ اخباروں، ٹی وی اور ملک بھر میں اشتہار دے رہے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں یا لیٹے ہیں یا روپوش ہیں، ایک اور شبہ جو ان اشتہارات سے ہوتا ہے، یہ ہے کہ یہ اشتہاری ''ہم'' اپنے ساتھ وہ کتاب بھی لے بھاگا ہے جس میں ان تمام سوالوں کے جوابات بند ہیں جو کیے جا رہے ہیں ۔۔۔ ہم کہاں ہیں، ہم میں یہ کیوں نہیں ہے، اور ہم میں وہ کیوں ہے۔
ہم مسلمانوں میں اتفاق کیوں نہیں ہے، ہم پاکستانیوں میں یہ کیوں نہیں رہا اور وہ کیوں پیدا ہوا، ہمارے گھر کی لونڈی دیانت داری کہاں غائب ہو گئی ہے، ہم پیچھے کیوں ہیں، ہم پسماندہ کیوں ہیں، ہم بھکاری کیوں ہیں، ہم اندھے کیوں ہیں، گونگے بہرے کیوں ہیں، ہماری عقل کیوں پھوٹ گئی ہے، ہماری مت کیوں ماری گئی، ہمارے لیڈر ہمیں دھوکہ کیوں دے رہے ہیں اور ہم دھوکہ کیوں کھا رہے ہیں ۔۔۔ مطلب یہ کہ سوالات کی ایک بھنڈار ہے جو ہم اس ''ہم'' سے کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کم بخت کہیں ایسا غائب ہوا ہے کہ جیسے گدھے بلکہ ''گدھوں'' کے سر سے سینگ۔
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
اس ''ہم'' کی تلاش کو شاید مبالغہ سمجھیں لیکن اس کے لیے ہمارے پاس ایک بڑی زبردست دلیل ایک کہانی کی صورت میں موجود ہے کہ کس طرح ایک بزرگ ''ہم'' کی تلاش میں سرگرداں ہوئے تھے، اس بستی میں بارش کی بڑی ضرورت تھی لیکن آسمان نے قسم کھا لی تھی کہ بارش نہیں برسائے گی ، لوگ بارش کے لیے یوں ترسنے لگے جیسے پاکستان کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس اور اینکر اور کالم نویس اس ''ہم'' کے لیے ترس رہے ہیں، لیکن وہ لوگ اچھے عقیدے والے تھے چنانچہ ایک بزرگ کے پاس دعا کرانے کے لیے گئے جیسے کہ اہل پاکستان کے نمایندے اس بزرگ کے پاس ''دعا'' کے لیے جاتے ہیں جو دور دیس کی ایک ''سفید کٹیا'' کا مرجع خلائق ہے۔
لیکن بزرگ نے جب دعا کی تو رب کریم کی طرف سے القاء ہوا کہ ابھی اس بستی پر دو سال کے لیے اور بھی بارش بند ہے، بزرگ نے لوگوں کو بتایا کہ خدائی حکم ہے کہ مزید دو سال تک بارش نہیں ہو سکتی، اس لیے صبر کرنا ہی پڑے گا لیکن دوسرے دن اچانک بارش برسنے لگی، زبردست جل تھل ہو گیا اور لوگ نہال ہو گئے۔ بزرگ کو بڑا دکھ ہوا۔ بارگاہ ایزدی میں شکوہ کناں ہو گیا کہ یہ کیا مجھے تو دو سال بارش نہ ہونے کا کہا گیا اور دو دن میں بارش ہو گئی، رب کریم کی طرف سے فرمان آ گیا کہ یہ ایک ایسے بندے کی فرمائش پر ہوا کہ اس کی بات کو ہم ٹال نہیں سکتے تھے۔ بزرگ نے پوچھا وہ ایسا کون سا بندہ ہے جو مجھ سے بھی زیادہ بارگاہ رب العزت میں مقبول ہے۔
ارشاد ہوا ، بتا دیں گے، تم پہلے ایسا کرو کہ یہ چُھری لو اور کسی ایسے انسان کو تلاش کرو جو میرے نام پر اپنے جسم کا گوشت دے دے، بزرگ نے چُھری لی اور نکل گئے جگہ جگہ ڈھونڈا کیے اور ایسے انسان کو تلاش کرنے لگے لیکن کافی تلاش کے بعد بھی کوئی ایسا بندہ نہیں ملا، آخر پھرتے پھرتے ایک جنگل میں ایک درویش کا پتہ کسی نے دیا کہ شاید وہ اپنا گوشت دینے پر آمادہ ہو جائے، بزرگ گئے اس درویش سے بات کی تو اس نے پوچھا کون سے حصہ جسم کا گوشت ۔۔ بزرگ نے کہا یہ تو مجھے پتہ نہیں ابھی جا کر مراقبہ کرتا ہوں کہ جسم کے کس حصے کا گوشت چاہیے۔
درویش نے کہا ٹھہرو اس میں وقت لگے گا اس لیے میں ہر حصہ جسم سے تھوڑا تھوڑا کر کے گوشت دیتا ہوں اور ایسا ہی اس نے کیا کہ جسم کے ہر ہر حصے سے ایک بوٹی کاٹ کر دی، بزرگ نے گوشت لیا تو اسی وقت فرمان الٰہی آیا اسی بندے کی خواہش پر میں نے بارش برسائی تھی یہ تو تمہیں دکھانا تھا مجھے گوشت کی کیا ضرورت ہے لیکن تم بھی تو انسان تھے تمہارے جسم میں بھی گوشت تھا، اس سے ثابت یہ ہوا بچو کہ اس درویش کو ''ہم'' کا پتہ معلوم تھا لیکن وہ بزرگ اس ''ہم'' کو دوسروں میں ڈھونڈ رہے تھے، ''ختن'' میں پایا جانے والا ہرن جس خوشبو کی تلاش میں دیوانہ ہو کر یہاں وہاں دوڑتا رہتا ہے وہ خوشبو خود اس کے جسم میں ہوتی ہے جو مشک کہلاتی ہے۔
مژدگانی بدہ اے خلوتی نافہ کشائے
کہ ''صحرائے ختن'' آہوئے مشکیں آمد