اداکار اور کردار
اس فلم کے ڈائریکٹروں کا بھی یہ کمال ہے کہ ان کی کہانیاں فلم بینوں کے لیے اتنی پرکشش ہوتی ہیں
سرمایہ دارانہ نظام ہماری معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی کی ایک ایسی دہشت ناک فلم ہے جس کے ہزاروں اداکار، ہزاروں کردار ہیں اور اس فلم کے ڈائریکٹروں کا کمال یہ ہے کہ ہر کردار اس قدر حقیقی لگتا ہے کہ اس پر نقلی ہونے کا گمان تک نہیں کیا جاسکتا۔ ان کرداروں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کردار انسانوں کے نہیں بلکہ قدرت کے تخلیق کردہ ہیں۔
ہماری فلم انڈسٹری جو فلمیں بناتی ہے، وہ بھی اسی نظام کا ایک حصہ ہیں۔ اس فلم کے ڈائریکٹروں کا بھی یہ کمال ہے کہ ان کی کہانیاں فلم بینوں کے لیے اتنی پرکشش ہوتی ہیں کہ فلمساز فلم بینوں کو ڈیڑھ دو گھنٹے کی تفریح فراہم کرکے ان کی جیبوں سے سو پچاس روپے اس طرح نکال لیتے ہیں کہ غریب فلم بینوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف وہ فلم دیکھ کر اس قدر خوش اور خوشگوار احساسات کے ساتھ سینما گھروں سے باہر آتے ہیں جیسے کوئی خوبصورت خواب دیکھ کر آرہے ہوں، ان فلموں میں عموماً کسی غریب ڈرائیور یا ملازم کو کسی بڑے سیٹھ، ساہوکار یا جاگیردار کی خوبصورت بیٹی سے عشق کرتے دکھایا جاتا ہے اور ایسے ڈرامائی واقعات و حادثات پیش کیے جاتے ہیں کہ غریبوں کو پیر کی جوتی سمجھنے والی ایلیٹ کی لڑکیاں غریب کرداروں پر اس بری طرح فریفتہ ہوجاتی ہیں کہ امیر اور مغرور ماں باپ کو اپنی بیٹیوں کے طوفانی عشق کے سامنے ناک رگڑنا پڑتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں تخلیق کی جانے والی ان فلموں کا مقصد بھی غریب طبقات کو خواب بیچ کر ان کی جیبوں پر اس طرح ڈاکا ڈالنا ہوتا ہے کہ غریب کو ان ڈکیتیوں کا احساس تک نہیں ہوتا اور غریبوں کی جیبوں سے نکلنے والے سو سو، پچاس پچاس روپے کروڑوں اربوں کی شکل میں فلمسازوں کے بینکوں میں چلے جاتے ہیں، یہی خواب سرمایہ دارانہ جمہوریت کے کردار الیکشن کے موقع پر غریب عوام کو بیچتے ہیں اور ان کے ووٹ لے کر اربوں کی دولت کے مالک بن جاتے ہیں اور غریب عوام فلموں کے غریبوں کی طرح خوابوں کے ویران جزیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں جہاں غربت ہوتی ہے، جہالت ہوتی ہے، بیماری ہوتی ہے، بے کاری ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ خوش حالی کے خواب ہوتے ہیں جو انھیں اس طلسم ہوشربا سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔
ہماری فلموں کے بڑے اداکار، ہیرو ہیروئن اپنی حقیقی اداکاری کا معاوضہ کروڑوں بلکہ اربوں کی شکل میں لیتے ہیں اور ادھر ادھر سے پکڑ کر لائے جانے والے ایکسٹراز معمولی سی مزدوری حاصل کرکے فلموں کی رونق بڑھانے کی ذمے داری پوری کرتے ہیں۔ ان فلموں میں ہیرو اور ولن سب کے کردار ڈائریکٹر کے تخلیق کردہ ہوتے ہیں۔ یہی حال ہماری سیاسی فلموں کا ہوتا ہے جس کا ہر کردار اس نظام کے ڈائریکٹروں کا تخلیق کیا ہوتا ہے۔
اب تک غربت اور امارت پر سیکڑوں نہیں ہزاروں فلمیں بن چکی ہیں، ہزاروں ناول، افسانے لکھے جاچکے ہیں لیکن غربت اور امارت آج بھی نہ صرف برقرار ہے بلکہ ان میں ناقابل یقین اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارا ملک چونکہ ابھی تک قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی پرپیچ گلیوں ہی میں بھٹک رہا ہے لہٰذا ہماری فلموں اور ڈراموں کا موضوع بھی عموماً یہی نظام ہوتا ہے۔
عشروں پہلے ہمارے ٹی وی پر ایک ڈرامہ ''وارث'' پیش کیا گیا تھا جو اول سے آخر تک جاگیردارانہ رعونت پر مبنی تھا، اس ڈرامے کو عوام میں اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ جب ٹی وی پر یہ ڈرامہ شروع ہوتا تھا تو سڑکیں، مارکیٹیں، دفاتر ہر جگہ سناٹوں کا راج ہوتا تھا، ہر بچہ، بڑا، جوان، بوڑھا، عورت، مرد ہر کام چھوڑ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے تھے۔ اس موضوع پر سیکڑوں فلمیں بنائی گئیں، کہانیاں اور ناول لکھے گئے، لیکن یہ نظام نہ صرف باقی ہے بلکہ اور زیادہ مستحکم ہوگیا ہے۔ ہمارے سیاسی اداکار بھی انتخابات سے قبل ''وارث'' جیسے ڈرامے پیش کرتے ہیں اور اپنے منشوروں میں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا خوبصورت خواب سجا کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ خواب فروش یا تو خود جاگیردار ہوتے ہیں یا جاگیردارانہ نظام کے غلام ہوتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کی ہارر فلم کے ہزاروں اداکار، ہزاروں کردار ہیں۔ ان سب کے کردار اور اداکاری کا جائزہ لینے کے لیے درجنوں کتابوں کی ضرورت ہے، ایک کالم میں ان کرداروں کو سمونا ممکن نہیں اس لیے ہم یہاں اس کے چیدہ چیدہ اداکاروں اور کرداروں کا مختصر جائزہ پیش کر رہے ہیں۔ اس ہارر فلم کے مرکزی کردار دو ہیں، ایک حکومت دوسرا اپوزیشن۔ اگرچہ یہ دونوں کردار ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں لیکن ان کے کردار کو دو حصوں میں تقسیم کرکے عوام یعنی تماش بینوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ ایک نہیں دو الگ الگ کردار ہیں۔
بے چارے عوام سینما گھروں کی طرح انتخابات کی فلم میں بھی دھوکے پر دھوکا کھاتے رہتے ہیں اور اپنے صدیوں پر پھیلے خوابوں کی سیاسی فلم نوٹ کے بجائے ووٹ کے ٹکٹ سے دیکھتے ہیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے ان فراڈ اداکاروں کو مسند اقتدار پر بٹھاکر اس امید میں دن گزارتے رہتے ہیں کہ شاید ان کے سپنے اس بار ہوجائیں گے اپنے ! لیکن ان کے سپنے تو پورے نہیں ہوتے البتہ ان کے ووٹ کی طاقت کو استعمال کرکے اس ہارر فلم کے مرکزی کردار اتنے نوٹ بٹور لیتے ہیں کہ انھیں رکھنے کے لیے ملکی بینکوں میں جگہ کم پڑ جاتی ہے اور مجبوراً نوٹوں کے ان تھیلوں کو غیر ملکی بینکوں میں رکھنا پڑتا ہے۔ اس فلم میں جہاں اس کے مرکزی کردار مالا مال ہوجاتے ہیں وہاں سرمایہ دارانہ نظام کی شریانوں میں ووٹ سے حاصل ہونے والی دولت خون بن کر دوڑتی اور اسے مضبوط بناتی رہتی ہے۔
پاکستان میں اس ہارر فلم کا ایک ایپی سوڈ ممکنہ طور پر مئی میں پیش کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ اس ہارر فلم کے بے شمار اداکار جمہوریت کی پلاسٹک سرجری کے خوبصورت چہرے کے ساتھ بھولے بھالے عوام کو رجھانے یا دھوکا دینے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں لیکن لگ یہ رہا ہے کہ بار بار دھوکا کھانے والے عوام اب پلاسٹک سرجری کے اس خوبصورت چہرے کی بدصورتی سے واقف ہورہے ہیں، ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں عوام کی اس آگاہی کے مناظر دیکھے جارہے ہیں جن میں عوام اس فلم اور اس فلم کے اداکاروں اور کرداروں کی مذمت کرتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن اس فلم کا ہر اداکار ''پوری ایمانداری'' سے اپنا کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے۔ بڑے بڑے جلسوں جلوسوں کی تیاریاں جاری ہیں، لیکن اس فلم میں تاریخ کے بدترین ہارر کا جو کردار داخل ہوا ہے وہ اس ساری فلم کا ہی منکر ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ یہ کردار اس ایپی سوڈ میں کھنڈت ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام نے بے شمار کردار تخلیق کیے ہیں ان میں ایک کردار چور کا ہے تو دوسرا کردار چوکیدار کا ہے۔ اس نظام کا ایک کردار بھوک اور ضرورت سے مجبور ہوکر چوری کرتا ہے تو اس کا دوسرا کردار چوکیداری کرتا نظر آتا ہے۔ ایک کردار رشوت خور ہے تو دوسرا کردار اینٹی کرپشن کا ہے، ایک کردار قانون کے محافظ کا ہے تو دوسرا کردار قانون توڑنے والے کا ہے، ایک کردار مزدور کا ہے تو دوسرا صنعتکار کا ہے، ایک کردار ہاری کا ہے تو دوسرا کردار وڈیرے کا، ایک کردار جسم فروشی کرتا نظر آتا ہے تو دوسرا کردار اسے سنگسار کرتا نظر آتا ہے۔
ایک کردار انصاف کرتا نظر آتا ہے تو دوسرا کردار انصاف کو خریدتا نظر آتا ہے، ایک کردار ٹریفک کے قانون کو توڑتا نظر آتا ہے تو دوسرا کردار قانون توڑنے والے سے رشوت لے کر اسے چھوڑتا نظر آتا ہے، ایک کردار ہتھیار بناتا نظر آتا ہے تو دوسرا کردار ہتھیار استعمال کرتا نظر آتا ہے، ایک کردار بھوک سے عاجز آکر خودکشی کرتا نظر آتا ہے تو دوسرا کردار خیرات کے ذریعے بھوکوں کی مدد کرتا نظر آتا ہے، ایک کردار غلام کا ہے تو دوسرا کردار آقا کا ہے اور ان میں سے زیادہ کرداروں کا تعلق عموماً ایک ہی طبقے سے ہے، ان متضاد کرداروں نے اس نظام کو اس قدر کریہہ چہرہ بنادیا ہے کہ کوئی معقول شخص اس چہرے پر نظر ڈالنا گوارا نہیں کرتا، لیکن ہر شخص کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اس نظام کا کوئی نہ کوئی کردار بنا ہوا ہے۔