سانحہ قصور خرابی کہاں ہے

حکمرانوں کی بے حسی، خودغرضی اور ریاستی اداروں کے زوال پذیری کے سبب درندگی کے واقعات رونما ہونا معمول بنتا جا رہا ہے۔


Editorial January 12, 2018
شہریوں میں یہ سوچ راسخ ہو چکی ہے کہ پولیس اور قانون کا نظام بااثر ملزموں کی پشت پناہی کرتا۔ فوٹو: فائل

قصور میں سات سالہ معصوم زینب سے زیادتی کے بعد قتل کے دلخراش اور دل سوز واقعہ نے جہاں قصور کے شہریوں کو مشتعل کر دیا وہاں پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ آج ہمارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کی کس انتہا کو چھو رہا ہے جہاں معصوم بچوں کی عزتیں اور زندگیاں بھی اپنے محلوں اور گلیوں میں محفوظ نہیں رہیں۔

ایسا افسوسناک واقعہ پہلی بار نہیں ہوا اس سے پیشتر بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں درندہ نما انسانوں نے معصوم بچوں اور خواتین کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ایک خبر کے مطابق اس سال زیادتی کے بعد قتل کے ایسے درجن بھرافسوسناک واقعات رونما ہوئے' پاکستان میں روزانہ بچوں سے بدفعلی کے اندازاً 10واقعات ہوتے ہیں' رواں سال کم عمر بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ واقعات معاشرے میں جنم لینے والی سفاکیت کی نشاندہی تو کرتے ہیں' مگر یہ سوال ہنوز تشنہ لب ہے کہ کیا اس کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا یا وہ اب بھی نئے شکار کی تلاش میں آزاد گھوم رہے ہیں۔

آخر معاشرے میں اس سفاکیت نے کیوں جنم لیا' اس کا ذمے دار ریاست ہے یا وہ معاشرہ جو کسی فرد پر زندگی کے سنہرے اصول وضع نہیں کر سکا یا والدین جو بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کرنے میں ناکام ہو گئے یا وہ استاد جو روحانی تربیت دینے اور اخلاقی شعور اجاگر کرنے میں اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام نہیں دے سکے۔

ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں اور اچھا بھلا انسان کیوں درندہ بن جاتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی صرف اپنی ہوس کی تسکین کے لیے اخلاقیات اور انسانیت کی تمام حدوں کو عبور کر جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات اس سوال کا جواب تو اپنے انداز میں دیتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسا نظام وضع نہیں کیا جا سکا جو انسان کو اس سفاکیت سے روک سکے۔ زیادتی کے واقعات جہاں پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں رونما ہوتے ہیں وہاں ترقی یافتہ ممالک کا دامن بھی تعلیم و تربیت کے تمام حربے آزمانے کے باوجود ان واقعات سے داغدار ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی زیادتی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو شہری مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آتے اور توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ شہریوں کے قانون اور پولیس کے نظام پر عدم اعتماد کی سوچ کی غمازی کرتا ہے۔ شہریوں میں یہ سوچ راسخ ہو چکی ہے کہ پولیس اور قانون کا نظام بااثر ملزموں کی پشت پناہی کرتا ، انھیں تحفظ فراہم کرتا ہے اور غریب آدمی کی کہیں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔

اگر پولیس ملزموں کو فوری گرفتار کر لے اور بروقت انصاف ملے تو ممکن ہے شہریوں کے مشتعل ہونے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رونما نہ ہوں۔ دوسری جانب سیاستدان بھی کسی واقعہ کو ایشو بنا کر حکومت کے خلاف شہریوں کے جذبات کو برانگیختہ اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جب خدانخواستہ کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہو جائے تو مقامی سطح پر موجود سیاستدان اور عوامی نمایندے فوری طور پر شہریوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انھیں انصاف دلانے کے لیے متحرک ہو جائیں۔ ان کا یہ رویہ شہریوں میں اعتماد پیدا کرنے' انھیں مشتعل ہونے اور توڑ پھوڑ سے روکنے میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارا سیاسی' قانونی اور معاشرتی نظام اس قدر زنگ آلود ہو چکا ہے کہ وہ معاشرے کو تحفظ دینے کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔

ہمارے حکمران اپنی تقریروں میں تو بار بار یہ نعرے لگاتے ہیں کہ اگر انصاف نہ ملا تو خونیں انقلاب آئے گا۔ جب ظلم کا شکار ایک مجبور اور بے بس شہری انصاف کے حصول کے لیے پولیس اور عدالتوں کے دروازوں پر خوار ہو گا' جب انصاف مانگنے والوں پر گولیاں چلائی جائیں گی اور نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگانے والے بھی حقیقتاً اسی فرسودہ نظام کے وجود کو قائم رکھنے میں درپردہ اپنا کردار ادا کریں گے تو پھر شہریوں کا مشتعل ہونا فطری امر ہے۔ جب غیرتربیت یافتہ پولیس مشتعل شہریوں کو روکنے میں ناکامی پر سیدھی گولیاں چلا دے تو پھر خونیں انقلاب کی آمد کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

جنسی زیادتی کے بعد قتل کے درجنوں واقعات میں نہ تو ملزم پکڑے جا سکے اور جو پکڑے بھی گئے انھیں وہ سزائیں نہ مل سکیں جس کے وہ مستحق تھے۔ حکمرانوں کی بے حسی اور خود غرضی اور ریاستی اداروں کے زوال پذیری کے سبب درندگی کے واقعات رونما ہونا معمول بنتا جا رہا ہے۔ جب تک پولیس' عدلیہ سمیت پورے سسٹم کو تبدیل نہیں کیا جائے گا تب تک معاشرے میں جنم لینے والی سفاکیت کو روکنا ممکن نہیں۔ حکمران ملک میں انصاف کے حصول کو آسان بنائیں ورنہ ان کے یہ نعرے حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں کہ لوگوں کو انصاف نہ ملا تو پھر خونیں انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔