کہانی کے کردار تلاش کریں

ہمارے بزرگ جنہوں نے یہ کہانی تصنیف کی تھی سگمنڈ فرائیڈ اور ڈاک ٹریونگ سے بھی سینئر ماہرین نفسیات تھے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq January 12, 2018
[email protected]

پہلے کہانی سنیے، ایک جگہ جو کسی بھی ملک بشمول پاکستان میں کہیں بھی ہو سکتی ہے چار لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک اندھا دوسرا بہرا تیسرا دونوں پیروں سے اپاہج اور چوتھا الف ننگا ۔پھر ان چاروں نے اپنے اپنے ڈائیلاگ بولے۔ پہلا ڈائیلاگ تھا،وہ دیکھو دور پہاڑ کی چوٹی پر دو چیونٹیاں لڑ رہی ہیں دوسرا ڈائیلاگ یہ تھا کہ ہاں اور ایک دوسرے کو گندی گندی گالیاں بھی دے رہی ہیں۔

تیسرے نے اپنا ڈائیلاگ یوں ادا کیا۔ آؤ ذرا قریب جاکر تماشا دیکھیں۔ لیکن تیسرے نے مخالفت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ فاصلہ بہت ہے کہیں راستے میں کوئی ہمیں لوٹ نہ لے۔ یہ بالکل بچوں کے صفحات والے کھیلوں کی طرح ایک کھیل ہے جیسے راستہ تلاش کریں، پھلوں کے نام ڈھونڈیں، فرق تلاش کیجیے یا نقطے ملا کر تصویر بنائیے۔ چنانچہ آپ کوبھی کرنا صرف یہ ہے کہ ان چار لوگوں میں مناسب ڈائیلاگ تقسیم کریں۔ یہ کس نے کہا کہ دیکھو دور پہاڑ کی چوٹی پر چیونٹیاں لڑ رہی ہیں۔

گالیوں کے بارے میں کس نے بتایا۔ چل کر قریب سے تماشا دیکھنے کی رائے کس نے دی اور راستے میں لٹنے کا خدشہ کس نے ظاہر کیا۔اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم آپ کی مدد نہ کریں اس لیے پہلا اشارہ یہ ہے کہ یہ کردار اور ڈائیلاگ پاکستانی سیاست میں موجود ہیں، زیادہ تلاش کرنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ مناسب ڈائیلاگ کو مناسب پارٹی کے نام لگانا ہیں۔لیکن ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ قطعاً ناکام رہیں گے بلکہ پہلے ہی سے ناکام ہیں ورنہ ابھی تک یا تو ان چاروں کرداروں کی ایسی کی تیسی کر چکے ہوتے اور یا خود ہی چلو بھر پانی میں ڈوب چکے ہوتے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے اور آپ نہ صرف ان کرداروں کے ڈائیلاگ بڑے آرام سے سن رہے ہیں بلکہ تالیاں بجا رہے ہیں، کہ واہ کیا ڈائیلاگ بولا۔ کیا پنچ مارا ہے۔

کیا فقرہ جمایا ہے کیا نکتہ نکالا ہے۔چنانچہ آپ کی بے مثل اور بے شک و شبہ نالائقی پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے ہم خود ہی اس معمے کا حل بتاتے ہیں اور ڈائیلاگ کو اصل کردار کے منہ سے نکالتے ہیں جو یو ں ہے۔(1) وہ دیکھو پہاڑ کی چوٹی پر دو چیونٹیاں لڑ رہی ہیں (اندھا) (2) اور ہاں گندی گندی گالیاں بھی دے رہی ہیں (بہرا) (3)آؤ چل کر قریب سے تماشا دیکھیں (لنگڑا) (4)کوئی ہمیں لوٹ لے گا (ننگا)۔یہ کہانی یقینا عجیب نہیں لگے گی کیونکہ یہ کہانی آپ ستر سال سے سیٹج ہوتی دیکھ رہے ہیں اور اگر اس کے باوجود بھی یہ آپ کے لیے نئی ہے تو پھر آپ پکے پکے ''عامر خان'' ہیں جس کی یاداشت پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ٹکتی تھی۔

اسی کہانی کو لے کر ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارے بزرگ جنہوں نے یہ کہانی تصنیف کی تھی سگمنڈ فرائیڈ اور ڈاک ٹریونگ سے بھی سینئر ماہرین نفسیات تھے کہ انسان میں یہ مرض پیدائشی ہے کہ جو صفت اس میں نہیں ہوتی اسے اپنے اندر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے اندر جو عیب ہوتا ہے اسے چھپانے کے لیے اس پر ہمیشہ کسی صفت کا پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ حد درجہ بزدل لوگ خود کو بہادر ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں حد درجہ نالائق خود کو لقمان وارسطو بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ انتہائی بے ایمان لوگ ایمانداری کی اداکاری کریں گے اور زبر دست ڈائیلاگ بولیں گے۔

مطلب یہ کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے اور اگر کبھی آئینے کے سامنے گئے تو اور بھی بہت کچھ معلوم ہو جائے گا۔ہمارے ایک بزرگ سنایا کرتے تھے کہ جوانی میں شہر کے ایک درزی کے ساتھ ان کا آنا جانا تھا۔ ہم اس کے پاس بیٹھتے تھے وہ اپنا کام بھی کرتا تھا اور ہمیں اپنی جوانی کے زبر دست کارنامے بھی سنایا کرتا تھا کہ اپنے زمانے کا وہ ایک زبردست ڈاکو تھا۔ اور کہا ں کہاں اس نے کیسے کیسے ڈاکے ڈالے تھے۔ علاقے بھر میں اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی چونکہ وہ ریاست دیر کے کسی علاقے کا باشندہ تھا اس لیے ہم اس پر مکمل یقین کرتے تھے۔

یہ تو ہمیں معلوم تھا کہ وہ پیروں سے معذور ہے اس کے مطابق ایک ڈاکے میں تیسری چھت سے کودنے پر اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھی تب اس نے ڈاکہ زنی چھوڑ کر درزی کا کام شروع کیا۔ اتنا عرصہ ہم نے اس کی ٹانگیں نہیں دیکھی تھیں جو ایک تخت کے نیچے چھپی ہوئی ہوتی تھیں۔ کافی عرصے بعد جب ہم نے اس کی ٹانگیں اتفاقاً دیکھ لیں تو حیران رہ گئے اس کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی نہیں تھیں بلکہ پیدائشی طور پر پولیو زدہ تھا اور ٹانگوں کی جگہ کمزور بچوں جیسی ٹانگیں تھیں۔

چلیے اس کہانی کو بھی کہانی سمجھ لیجیے لیکن یہ سامنے والی کہانی جو ستر سال سے اسٹیج ہو رہی ہے یہ تو جھوٹ نہیں ہے کہ جن کی ٹانگیں سر ے سے موجود ہی نہیں ہیں وہ دوڑنے کی بات کر رہے ہیں بلکہ اپنے ساتھ پورے ملک کو بھی بغل میں داب کر عالمی چمپیئن بننے کے دعوے کرتے ہیں۔ ایک بدنام ترین لفظ اردو میں نہ جانے کہاں سے آگیا ہے ''جم+ ہو+ریت'' جو اس ملک میں اتنا رسوا ہو چکا ہے کہ اتنا رسوا کبھی مائیکل جیکسن بھی نہیں رہا ہوگا اور اتنی زیادہ ذبح کی گئی ہے کہ اتنی زیادہ برائلر مرغے بھی ذبح نہیں کیے گئے ہوں گے جواس کے سب سے بڑے مدعی ہیں ۔

ان کے گھروں کے دروازے اس پر ویسے ہی بند ہیں جیسے امریکا کے دروازے کبھی اسامہ بن لادن پر بند ہوا کرتے۔ آپ منتظر ہوں گے کہ اب ہم ان پارٹیوں کا بھی ذکر کریں گے جو جمہوریت کے ساتھ ساتھ دین نافذ کرنے کی بھی عملبردار ہیں بلکہ ان کے پاس ایک ترقی دادہ قسم جمہوریت کی ایسی ہے جو دین پر پیوندکاری کرکے اگائی گئی ہے اس کا میوہ انتہائی میٹھا کھانے میں آسان اور ثواب دار نہیں بھی ہے۔لیکن معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ تو ابھی کسی درخت سے لٹکنے کے موڈ میں ہیں نہ اپنے جسم کو چٹنی میں تبدیل کرنے کا ارادہ ہے اور نہ ہماری گردن میں ایسی کھجلی ہو رہی ہے کہ سرکو گردن سے دو چار فٹ دور کروادیں۔

بہر حال کہانی تو آپ کی سمجھ میں یقینا نہیں آئی ہوگی اور نہ ہی اس کہانی میں ڈائیلاگ کے مطابق کردار پہچان گئے ہوں گے اس لیے جم ،ہو، ریت کے مزے لوٹئے اور جلسوں جلوسوں اور دھرنوں میں ''دیہاڑیاں'' لگائیے خوش و خرم رہیے اپنے لیڈروں کا خیال رکھئے اور خود ہی اپنی ایسی کی تیسی کرتے رہیے۔