بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نئے وزیراعلیٰ منتخب

2013ء سے موجودہ حکومت کے دوران میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے تیسرے وزیراعلیٰ ہیں


Editorial January 14, 2018
2013ء سے موجودہ حکومت کے دوران میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے تیسرے وزیراعلیٰ ہیں . فوٹو : فائل

پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو واضح اکثریت کے ساتھ بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی کی سربراہی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں (ق) لیگ کے امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے امید وار آغا لیاقت کے درمیان مقابلہ ہوا۔

بلوچستان اسمبلی میں کل 65 نشستیں ہیں جب کہ وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے امیدوار کو 35 اراکین کے ووٹ درکار ہوتے ہیں، تاہم میر عبدالقدوس بزنجو نے 41 اور سید لیاقت علی آغا نے 13 ووٹ حاصل کیے۔ اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ درانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان کا نیا وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔

حقیقت میں میر عبدالقدوس بزنجو کا بلوچستان کی اعصاب شکن اور غیر معمولی سیاسی صورتحال کے تناظر میں وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالنا بلاشبہ ایک ''ہرکولین ٹاسک'' کی ذمے داری قبول کرنے کے مترادف ہے، ان کے انتخاب کو سیاسی مبصرین مختلف سیاسی اور انتظامی حوالوں اور خدشات و توقعات کے آئینہ میں دیکھ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وزارت اعلیٰ کا انتخاب پارلیمانی حوالہ سے آئینی استحقاق اور معروف و مسلمہ روایات کے تحت ہوا مگر ایک ایسے وقت میں جب 2018ء کے الیکشن سر پر ہیں اور موجودہ وفاقی حکومت اور تمام صوبائی اسمبلیوں کی میعاد جون 2017ء میں ختم ہونے والی ہے۔

نئے وزیراعلیٰ کے لیے بلوچستان کے سیاسی بحران کا خاتمہ، انتظامی شفافیت، اقتصادی ترقی، روزگار کی فراہمی اور ملک دشمنوں کی طرف سے جیو پولیٹیکل عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم سازشوں سے نمٹنا صوبہ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے، انھیں بحران سے پاک اور مائل بہ ترقی بلوچستان کی آزمائش سے کامیاب ہوکر نکلنے کے لیے اتحادیوں کا بھرپور تعاون درکار ہوگا جب کہ قوم پرست علیحدگی پسندوں کی برپا کی ہوئی شورش اور کم شدت کی حامل مسلح جدوجہد کو سیاسی مکالمہ کی طرف لے جانے کی حکمت عملی واضح کرنی ہوگی تاکہ مین اسٹریم سے باہر کی ناراض سیاسی طاقتوں کو جو بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو ایک بڑے سیاسی طوفان کا باب اول قراردیتی ہیں، اس بات کا یقین آجائے کہ بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کا انتخاب آئینی و قانونی تقاضوں اور جمہوری عمل کے مطابق ہوا ہے، جس کا مارچ میں سینٹ کے الیکشن کے التوا یا کسی ماورائے آئین گریٹر پلان کی افواہوں سے کوئی تعلق نہیں، ساتھ ہی ملک کی مجموعی قومی سیاسی صورتحال سے بلوچستان کی ترقی و استحکام کے عمل کوجوڑے رکھنا، تاکہ سی پیک کے گیم چینجر منصوبوں اور گوادر پورٹ سمیت بلوچستان کی مجموعی اقتصادی ترقی کا کوئی منصوبہ تشنہ تکمیل نہ رہ جائے۔

وقت اگرچہ بہت کم رہ گیا ہے تاہم نئے وزیراعلیٰ کے سامنے چیلنجز بے شمار ہیں اور داخلی امن و امان کے لیے بھی نئی کابینہ کو آبلہ پائی کے ایک شفاف اور کرپشن فری صبر آزما سفر کا سامنا بھی ہوگا۔ ادھر دہشت گردی کے نیٹ ورک اور انتہاپسند کالعدم تنظیموں کی تخریبی کارروائیوں، خودکش حملوں اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کی ذمے داری بھی اہم ٹاسک ہے، چیلنجز سے نمٹنا ایک ایسی حکومت کے لیے آسان نہ ہوگا جس کی ہیئت ترکیبی کو بھی اپنے فیصلوں کی استقامت ثابت کرنا اور شفاف انتظامی ڈھانچہ کی بنیاد رکھنا ہے۔

بلاشبہ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں نیا صوبائی سیٹ اپ ارادہ کرلے تو پیش رفت کے ضمن میں بڑا اپ سیٹ بھی کرسکتا ہے۔ بلوچستان کے نامزد وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو ساڑھے 4 سال کے دوران قائمقام گورنر، قائمقام اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بھی رہے، صوبہ کی تاریخ میں یہ اعزاز میرعبدالقدوس بزنجو کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوا، مرحوم جام محمد یوسف کے دور میں صوبائی وزیر بھی رہے، گزشتہ دور حکومت میں اختلافات کے باعث ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ چھوڑ دیا اور ڈیڑھ سال تک بلوچستان اسمبلی بغیر ڈپٹی اسپیکر کے چلتی رہی، میرعبدالقدوس بزنجو بلوچستان کی تاریخ میں واحد رکن صوبائی اسمبلی ہیں جو کہ گورنر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر رہے اور امکان ہے کہ وہ پانچ ماہ تک وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز رہیں گے۔

2013ء سے موجودہ حکومت کے دوران میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے تیسرے وزیراعلیٰ ہیں جب کہ ان سے قبل نواب ثناء اﷲ زہری اور عبدالمالک بلوچ بھی وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ جواں سال وزیراعلیٰ بلوچستان کی سیاسی ترجیحات میں کوئی ابہام نہیں رکھیں گے، صوبہ میں امن کی بحالی اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالہ سے سکیورٹی فورسز کا کردار لائق تحسین ہے لیکن بلوچستان عالمی قوتوں کے ٹارگٹ پر ہے جو شورش، بد امنی کو بڑھاوا دینے کی سازشیں کررہی ہیں.

بلوچستان ایران سرحدی تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، آواران وزیراعلیٰ کا حلقہ انتخاب ہے، اسے بلوچستان کا انتہائی پسماندہ ترین ضلع شمار کیا جاتا ہے اور دہشتگردی کے واقعات کے تسلسل کے باعث عوام شدید مصائب کا شکار رہے ہیں، دہشتگروں کے ایکٹیوٹی زون کے حوالہ سے علاقہ وزیراعلیٰ کی خصوصی توجہ کا محتاج رہے گا۔ ضرورت غربت کے خاتمہ اور عوام کو روزگار، صحت و تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی کی ہے، صوبائی حکومت نے اس تھوڑے سے عرصہ میں صوبہ کے امن کو یقینی بنا لیا تو اسے بریک تھرو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔