وفاقی انشورنس محتسب کا فوری سستا انصاف فراہم کرنے کا دعویٰ 

ادارہ2006 میں قائم، توسیع جاری،20ہزارشکایات موصول،18ہزارکے فیصلے، رئیس الدین پراچہ


Ehtisham Mufti January 14, 2018
بیشترکیسزکے دو ایک سماعتوں میں ہی فیصلے،شکایت60سے90 دن میں نمٹادی جاتی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

وفاقی انشورنس محتسب سائل کے فیصلے60 تا90 یوم میں کرنے والا واحد ادارہ بن گیا ہے جبکہ انشورنس سے متعلق کیے گئے فیصلوں پرعمل درآمد کی شرح95 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

وفاقی انشورنس محتسب رئیس الدین پراچہ نے ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت کے دوران بتایا کہ ادارہ انشورنس محتسب شکایت کنندگان کو بغیرکسی وکیل کے گھرکی دہلیز پرانصاف فراہم کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے، بیشترکیسز میں ایک یا دو سماعتوں میں ہی فیصلے جاری کیے جا رہے ہیں، وفاقی انشورنس محتسب کے ذریعے عام آدمی کوزیادہ سے زیادہ سہولت دینے کی غرض سے مطلوبہ فارم قومی زبان میں متعارف کرایاگیا ہے، عوامی آگہی کے لیے ادارہ انشورنس محتسب رواں ماہ ایس ایم ایس سسٹم بھی متعارف کرا رہا ہے۔

رئیس الدین پراچہ نے بتایا کہ ادارہ انشورنس محتسب سے متعلق عوامی آگہی بتدریج بڑھنے کی بدولت شکایت کنندگان کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے اور سالانہ2 ہزار شکایات ادارہ انشورنس محتسب کو موصول ہورہی ہیں، سال 2006 میں ادارے کے قیام سے اب تک ادارہ انشورنس محتسب کو مجموعی طور پر20 ہزارشکایات موصول ہوئیں جن میں سے18ہزار درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلے جاری کیے گئے، یہ وہ کیسز ہیں جنہیں عدالتوں میں جانا چاہیے تھا اور ان کیسز میں بیرون ملک سفر پر جانے والے مسافروں کی ٹریول انشورنس کلیمزکی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔

رئیس الدین پراچہ نے کہا کہ ادارہ انشورنس محتسب نے سال2017 میں شکایت کنندگان کو مجموعی طور پر 1ارب روپے مالیت کا ریلیف فراہم کیا جن میں10 ہزار تا5 کروڑ روپے مالیت تک کے ریلیف شامل ہیں، ادارہ انشورنس محتسب متاثرین کی جانب سے درخواستیں جمع کرانے کی شرح بڑھنے کے سبب جوڈیشری پر انشورنس کلیموں سے متعلقہ مقدمات کا بوجھ کم ہوگیا ہے۔

ایک سوال پر رئیس الدین پراچہ نے کہا کہ انشورنس آرڈیننس مجریہ 2000 کے تحت ادارہ انشورنس محتسب انشورنس انڈسٹری کو ریگولیٹ اور بیمہ داروں کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے، اگر بیمہ دار کو اپنے انشورنس کلیم سے متعلق کوئی بھی شکایت ہو وہ اپنی ادارہ انشورنس محتسب میں بغیرکسی فیس یا وکیل کے سادہ کاغذ پراپنا کیس درج کرا سکتا ہے۔

وفاقی انشورنس محتسب نے کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان ریگولیٹری اتھارٹی ہے جسے انشورنس کمپنیوں کی سرگرمیوں کی مستقل جانچ پڑتال کرنا ہے جبکہ ادارہ انشورنس محتسب شکایت کنندگان کے تصفیوں کے قائم کیا گیا ہے، ایس ای سی پی اتھارٹی کے طور پراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے طرز پر انشورنس کمپنیوں کی سرگرمیوں کی مستقل مانیٹرنگ کرے تاکہ ان کی کارکردگی بہتر ہو سکے اور عوام سمیت ہرشعبے کے بیمہ داروں کی شکایات کم ہو سکیں جبکہ انشورنس کمپنیوں کی جانب سے ان کی استعداد سے زیادہ مالیت کے کاروبار کرنے سے متعلق بھی باز پرس ممکن ہو سکے۔

ادارہ انشورنس محتسب کی جانب سے ایس ای سی پی کے توسط سے انشورنس کمپنیوں کوتجاویز ارسال کی جاتی ہیں جبکہ قوانین میں ترامیم اوربہتری کیلیے تجاویزایس ای سی پی کو دی جاتی ہیں، ادارہ انشورنس محتسب میں20 فیصد شکایات ایسی بھی موصول ہوتی ہیں جو درست نہیں ہوتیں جنہیں ادارہ مسترد کر دیتا ہے جبکہ بیمہ زندگی سے متعلق سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں۔

ادارہ انشورنس محتسب سے عوامی استفادے کے دائرہ کار کو توسیع دینے کیلیے رواں سال ملتان اور پشاور میں بھی نئے ریجنل دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ لاہوراور اسلام آباد کے ریجنل دفاتر 2015 سے سرگرم ہیں جہاں باقاعدہ کیسز کی سماعتیں ہو رہی ہیں، کیسز کی براہ راست سماعت کیلیے ویڈیولنک کا استعمال کیا جاتا ہے، وفاقی انشورنس محتسب کے فیصلے کے خلاف ادارہ انشورنس محتسب سے ہی دوبارہ رابطہ کرکے نظرثانی کی اپیل دائر کی جا سکتی ہے اور بعد ازاں صدرمملکت سے اپیل کی جاسکتی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2 بڑے قومی انشورنس اداروں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اوراین آئی سی ایل کو بھی وفاقی انشورنس محتسب کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے اور اس ضمن میں جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا جائیگا، ادارے نے انشورنس ایکٹ کو مزید بہتر بنانے کیلیے ترامیم اور عوامی ریلیف کیلیے متعدداقدامات تجویز کیے ہیں۔

وفاقی انشورنس محتسب رئیس الدین پراچہ نے بتایا کہ بینکاایشورنس کی فروخت میں غلط بیانی کی شکایات بڑھ گئی ہیں، ادارے کو شکایات ملی ہیں کہ بینک برانچوں میں تعینات عملے کی جانب سے بھاری شرح منافع کی غلط بیانی کرکے انشورنس پالیسیوں پر دستخط کرا دیے جاتے ہیں لیکن مدت پوری ہونے کے بعد کھاتے داروں کو بیان کردہ دعوؤںکی بنیاد پر منافع نہیں دیا جاتا ہے، ادارے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کو اپنی تجاویز دیں جس کے بعد مرکزی بینک نے بینکوں پر پابندی عائد کردی ہے کہ وہ اپنی برانچوں میں بینکاایشورنس پالیسی کے خریدار کھاتیداروں کی شکایات درج کرانے کیلیے نمایاں مقام پر وفاقی انشورنس محتسب کا بورڈ آویزاں کریں، اسی طرح ملک میں خدمات انجام دینے والی48 انشورنس کمپنیوں کوبھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی بیمہ پالیسیوں کی دستاویز میں عوامی شکایات سے متعلق وفاقی انشورنس محتسب کی تفصیل بھی شائع کریں۔

رئیس الدین پراچہ نے ملک بھرکے بیمہ صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ بیمہ پالیسی خریدتے وقت درست معلومات فراہم کرنے کے ساتھ متعلقہ سیلزایجنٹ سے پالیسی کی مدت، منافع ودیگر ترغیبات سے متعلق بیان کو بہرصورت ریکارڈ میں لائیں یا دستخط شدہ تحریری شکل دیںکیونکہ سیلز ایجنٹ کے ریکارڈ یا تحریری بیان کے مطابق پالیسی کی میچورٹی پرمتعلقہ انشورنس کمپنی کلیمزدینے کی پابند ہوتی ہے۔

 

مقبول خبریں