کراچی کے مسائل عدالت عظمیٰ کے روبرو

کراچی اور صوبہ سندھ کے شہری پینے کے صاف پانی اور دودھ کے نام پر دراصل زہر پی رہے ہیں


Editorial January 15, 2018
کراچی اور صوبہ سندھ کے شہری پینے کے صاف پانی اور دودھ کے نام پر دراصل زہر پی رہے ہیں، فوٹو:فائل

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بنچ نے اتوار کو چھٹی کے دن بھی آلودہ پانی، ٹینکر مافیا، ماحولیاتی آلودگی، نجی میڈیکل کالجوں، کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر، وی آئی پی نقل و حرکت، اور ڈبہ پیک دودھ سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ میں شامل جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی ساعتوں کے دوران اہم ریمارکس دیے۔ چیف سیکریٹری، سیکریٹری صحت سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کو درپیش مسائل سے نجات دلانے کا جو بیڑا اٹھایا ہے اس پر کئی جبینوں پر شکنیں نمودار ہوئی ہیں اور دلائل کے انبار لگائے جانے کے ساتھ ساتھ اداروں کے اپنی حدود میں رہتے ہوئے فرائض منصبی سرانجام دینے کی چہ میگوئیاں بھی ہورہی ہیں، مگر بنیادی تضاد یہ ہے کہ حکمرانوں نے شہر کراچی کو، جو ایشیا کا عظیم اور صاف ستھرا شہر کہلاتا تھا، جس کی سڑکیں ہر صبح دھلا کرتی تھیں، آج موئن جو دڑو کے کھنڈرات اور شہری و بلدیاتی سہولتوں کے اعتبار سے دنیا کے انتہائی غلیظ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالہ سے خطرناک شہروں کی فہرست میں شامل کروا دیا ہے۔

چنانچہ متفرق درخواستوں کی ہنگامی بنیادوں پر سماعت ملکی عدالتی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جس میں عدلیہ سیاسی نظام کی کوتاہییوں، سماجی بدنظمی، تہذیبی اور اخلاقی انحطاط، تمدنی غفلت، فرض ناشناسی اور شہریت کے اصول و انسانی حقوق کے حوالہ سے ان سوالوں کے جواب اہم اداروں، وزارتوں اور ذمے دار سرکاری محکموں سے طلب کررہی ہے، جنہیں کسی حکومت نے درخور اعتنا نہیں سمجھا، اور برس ہا برس سے کراچی اور صوبہ سندھ کے شہری پینے کے صاف پانی اور دودھ کے نام پر دراصل زہر پی رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بنیادی سوال ہے پانی کے منصوبے کب پورے ہوں گے، آپ رپورٹس میں ہمیں مت الجھائیں، سیدھا بتایا جائے کہ منصوبے پر عمل کب ہوگا۔ یہ بتائیں کہ پانی کی کمی کیوں ہے اس شہر میں، مگر یہ کمی ٹینکرز سے کیوں پوری ہوتی ہے، مافیا کی بات سب کرتے ہیں نام کوئی نہیں لیتا۔ سپریم کورٹ نے جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کو واٹر کمیش کا نیا سربراہ مقرر کردیا۔

چیف جسٹس نے اسی دوران کثیرالمنزلہ عمارتوں پر پابندی کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی، بلڈرز نے موقف اختیار کیا کہ عدالت پابندی پر نظر ثانی کرے، آباد کے وکیل نے کہا حکومت کی کوئی اسکیم کام نہیں کر رہی۔ درخواست گزار شہاب اوستو نے کہا کہ یہ صرف پانی کا مسئلہ نہیں، یہ شہر کے ڈھانچے کا مسئلہ ہے۔ عدالت نے بلڈرز کو 6 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی اجازت دیدی۔ چیف جسٹس کے روبرو میئر کراچی پیش ہوئے اور کہا کہ شہر میں بڑے مسائل ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس شہر میں آپ کا زیادہ وقت رہا، حکومت رہی، آپ کی معاونت چاہیے۔

بلاشبہ عدالت عظمیٰ کی جنگ ایک فرسودہ سسٹم سے ہے جو فرد اور ریاست کے درمیان رشتہ کو کمزور کرنے کا سبب بنی ہے، جہاں منہ زور نوکرشاہی اور بے نیاز حکمراں طبقہ نے مجرمانہ غفلت کی انتہا کی، عدلیہ کے اٹھائے گئے اہم سوالات کراچی پر حکمرانی کرنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے خلاف شہری سہولتوں سے محرومی کا ایک اندوہ ناک دبستان اور پینڈورا باکس ہیں۔

جسے کھول کر اہل اقتدار کو عدالت عظمیٰ احساس زیاں، خود احتسابی اور جوابدہی و اصلاح احوال کے ایک تعمیری اور ناگزیر مرحلہ سے گزار رہی ہے، ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مہذب معاشرے اور ذمے دار و عوام دوست حکومتیں شہریوں کو صاف ستھرا ماحول، کشادہ گھر، باوقار ٹرانسپورٹ، منظم ٹریفک، صحت مند خوراک، پینے کا صاف پانی، ملاوٹ سے پاک اشیائے خورونوش اور صاف ستھری آب و ہوا کی نعمتوں سے سرفراز کرنے کی اپنی بنیادی ذمے داریاں پوری کریں، جب کہ ہمارے حکمراں ووٹ لینے کے بعد یہ بھول جاتے ہیں کہ انھیں عوام سے کیے ہوئے وعدے بھی پورے کرنے ہیں۔

المخصر شہر کراچی کے لیے تعمیراتی، ماحولیاتی، سماجی، معاشی، سکونت پذیری، روزگار، غذائی اشیا اور طبی، تعلیم و پانی جیسی بنیادی ضرورت اور آئین و قانون پر عملدرآمد کے فقدان کے لیے عدالتی فعالیت کا فیصلہ نہ صرف خوش آیند اور کثیر جہتی مقاصد کے سیاق وسباق میں نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے بلکہ کراچی اور صوبہ سندھ کو غیر انسانی صورتحال سے دوچار کیا گیا ہے، اس میں صرف سندھ کی موجودہ حکومت قصوروار ٹھہرائی نہیں جاسکتی، اس شہر آشوب کی درد انگیزی میں ماضی کی کوئی بھی حکومت بری الذمہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ کے روبرو ماحولیاتی آلودگی سے متعلق سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ میں درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او اور ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی ہوا 92 فیصد آلودہ ہے۔ ہوا میں آلودگی سے سب سے زیادہ حاملہ خواتین، بچے اور بزرگ متاثر ہورہے ہیں۔ گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں، پاور جنریشن کمپنیوں کی وجہ سے ہوا میں آلودگی پھیل رہی ہے۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے وی آئی پی موومنٹ پر بھی شگفتہ سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی وی آئی پی ہوں، مگر میرے لیے سڑک بند نہیں ہوتی۔ یوں ان مقدمات کی سماعت میں کراچی کے دکھ بیان ہوئے، شہریوں کی سسکیوں کی صدائیں سنائی دیں۔ کراچی کی تقدیر کا فیصلہ ہونے والا ہے۔