پروفیسر حسن ظفر کی پراسرار موت

پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف ماہر تعلیم اور ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر تھے


Editorial January 15, 2018
پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف ماہر تعلیم اور ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر تھے۔ فوٹو: فائل

تعلیم و سیاست کی دنیا کا ایک بڑا نام پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی پراسرار موت کے معمہ نے اہل نظر کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ بلاشبہ حسن ظفر عارف پاکستان کے اعلیٰ ترین پروفیسرز میں شمار کیے جاتے تھے، کراچی کے علاقے ریڑھی گوٹھ میں ان کی لاش ایک کار کی عقبی سیٹ پر ملی، بظاہر تشدد یا خون کے نشانات نہیں پائے گئے لیکن ان کی موت ایک معمہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ کار بہرحال کوئی نہ کوئی چلا رہا ہوگا، تو پروفیسر کی لاش کو اس طرح لاوارث کیوں چھوڑا گیا۔ دوسری جانب مذکورہ واقعے کو سیاسی رنگ دینا بھی باعث تشویش ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف ماہر تعلیم اور ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر تھے۔ حسن ظفر عارف نے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ سے ماسٹرز، برطانیہ سے ڈاکٹریٹ اور امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ زمانہ طالب علمی میں ترقی پسند تحریک کے سرگرم رکن رہے اور جامعہ کراچی کے شعبہ فلسفہ میں بطور لیکچرار تعیناتی کے بعد بھی ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے۔

کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کے قیام میں ان کا مرکزی کردار تھا اور وہ اس کے سربراہ بھی رہے۔ فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی تحریک کا حصہ رہے، انھیں اس الزام میں نوکری سے برخاست کردیا گیا اور انھیں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ پروفیسر حسن ظفر عارف پیپلز پارٹی اور شہید بھٹو گروپ سے بھی وابستہ رہے، ان کی آخری سیاسی وابستگی ایم کیو ایم لندن سے تھی۔ حسن ظفر اشتعال انگیز تقریر کیس میں نامزد تھے جو کئی ماہ تک حراست میں رہے تاہم18 اپریل 2017 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انھیں رہا کردیا تھا۔

صائب ہوگا کہ اس معاملہ پر سیاست چمکانے کے بجائے پروفیسر صاحب کے پراسرار قتل کی تحقیقات کے لیے پولیس کی مدد کی جائے تاکہ ان کے قاتلوں کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔